30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دے شوقِ تلاوت دے ذوقِ عبادت
رہوں باوضو میں سدا یاالٰہی
(3)بڑے مَرتبے والے اعمال
ہمارے بزرگانِ دِین کا یہ مبارک طریقہ رہا ہے کہ وہ خود بھی مصیبت زدہ لوگوں کی فریاد رَسی اور حاجتمندوں کی حاجت روائی کرتے،بھوکوں کو کھانا کھلاتے اور بےگناہ قیدیوں کو قید سے رہائی دِلواتے اور اپنے متعلقین کو بھی اس کی تلقین کیا کرتے تھے۔ چنانچہ خواجہ خواجگان، سلطانُ الہند حضور خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہ علیہ ان کاموں کی ترغیب دِلاتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں:مصىبت زدہ لوگوں کى فرىاد سننا اور ان کاساتھ دىنا، حاجتمندوں کى حاجت روائی کرنا، بھوکوں کو کھانا کھلانا،اَسىروں کو قىد سے چھڑانا ىہ باتىں اللہ پاک کے نزدىک بڑا مَرتبہ رکھتى ہىں۔(1)
مسلمان کی حاجت روائی کی فضیلت
اے عاشقانِ اَولیا! مسلمان کی حاجت روائی کرنا کارِ ثواب ہے،چاہے وہ کسی بھوکے کو کھانا کھلانے کی صورت میں ہو یا پیاسے کو پانی پلانے کی صورت میں یا کسی بے گناہ قیدی کو قید سے رہاکروانے کی صورت میں ہو یا کسی بیمار کو دَوا دِلانے کی صورت میں،اَلغرض جائز طریقے سے کسی بھی مسلمان کی حاجت روائی بڑا عظیم اور فضیلت والا کام ہے۔چنانچہ شَہَنْشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظُلْم کرتا ہے اور نہ ہی اسے رُسوا کرتاہے اور جوکوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے اللہ پاک اُس کی حاجت پوری فرماتاہے اور جو کسی مسلمان کی ایک پریشانی دُور کرے گا
[1] …… معین الہند، ص124 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع