30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اندھیروں میں بھٹکے ہوئے اِنسانوں کو اِیمان و اِسلام کی روشنی کے ذَریعے راہِ راست پر لانے کے مشن کو آگے بڑھایا۔(1)
اے عاشقانِ اَولیا! اُس وقت اجمیر شہر ہندوستان کا دارُ السلطنت تھا، وہاں راجپوت قوم آباد تھی جو اپنی بہادری میں بے مثال تھی،سر کٹانا تو پسند کرتی تھی مگر کسی کے آگے سر جھکانا گوارا نہیں کرتی تھی اور راجپوت قوم کا یہ حال تھا کہ وہ کام کرنے سے پہلےسوچتی نہیں تھی۔ خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہ علیہ اجمیر تشریف لائے اور شہر کے گِرد و نواح میں اپنی خانقاہ تعمیر کی۔ یہ خانقاہ گھاس کی چھوٹی سی جھونپڑی تھی جس میں نماز کا مصلیٰ، پانی کا برتن اور ایک جوڑا لباس تھا۔ لوگوں نے پہلے تو آپ کو سادھوسمجھا مگر جب آپ کی عبادات و عادات خود سے مختلف دیکھیں تو آپ کے پاس آنے لگے، آپ کے چہرے میں ایسی بزرگی اور کشش تھی کہ لوگوں کے دِل آپ کی طرف کھنچے چلے آتے۔ خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہ علیہ غیر مسلموں کے سامنے عقلی دَلائل سے اللہ پاک کی توحید بیان کرتے اور ان کے ہر سُوال کا جواب بِلاخوف و خطر دیتے، آپ کی گفتگو کا جواب دینا تو دور کی بات وہ آپ کا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔
مبلغ کو بہادر اور دَلیر ہونا چاہئے
دِینِ متین کی تبلیغ و اِشاعت اور خدمتِ دِین کے لئے مبلغ کو بہادر و نڈر اور دَلیر ہونا چاہئے، اسے اللہ پاک کے سِوا کسی کا خوف نہیں ہونا چاہئے، اس کی تبلیغ اور نیکی کی دعوت کا مقصد صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا و خوشنودی ہونی چاہئےتاکہ وہ ہر ایک باطل کے سامنے سینہ تان کر کھڑا رہے اور حق کو حق اور باطل کو باطل بتلا کر رہے۔”خوف ظاہر
[1] …… خواجہ غریب نواز، ص 19 بتغیر قلیل ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع