30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اجمیری رحمۃُ اللہ علیہ کی عظیم شخصیت کی دِینی خدمات کا ذِکر کریں گے جنہیں مسلمان تو مسلمان غیر مسلم بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔
ہندوستان کا زمانۂ جاہلیت
ہجری تاریخ کے حساب سے 545 اور شمسی تاریخ کے مطابق 1140ء کا زمانہ تھا ، ہندوستان کی مذہبی، سیاسی اور سماجی اَبتری کا دور تھا،اِس دور میں ہندوستان مختلف فرقوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ جس طرح موسیٰ علیہ الصّلوٰۃ ُوالسّلام کے زمانے میں فرعون کے جادوگر اپنی جادوئی طاقت میں مشہور تھے اِسی طرح ہندوستان کے ساحر بھی اپنے سحر میں ماہر اور شہرت یافتہ تھے۔ گویا کہ چھٹی صدی ہجری کا ہندوستان جہالت،ظلمت اور گمراہی میں عرب کے زمانۂ جاہلیت کی عکاسی کر رہا تھا۔ پورا ہندوستان ظلمت کے اندھیروں میں لپٹ چکا تھا، چپے چپے میں کفر و شرک عام تھا، ذات پات کی تفریق اپنے عروج پر تھی، زندگی کی ساری لذتیں اور آسائشیں اعلیٰ ذات کے لوگوں کے لئے وَقف تھیں، اعلیٰ ذات کے اَفراد کے قریب سے کوئی کمتر ذات کا شخص گزرجاتا تو اس کی پیشانی داغ دی جاتی تھی،اَدنیٰ ذات والوں کے لئے زندگی ایک بوجھ اور لعنت جیسی تھی، وہ تھے تو اِنسان مگر جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور تھے،اِنسانیت سسک رہی تھی،غریب تو غریب امیر بھی روحانی لذات سے کوسوں دور تھے۔
اس دورِ تاریکی و ظلمتی میں اللہ پاک نے سرزمینِ ہندوستان کے رہنے والوں کے لئے ہدایت کا سامان اِس طرح فرمایا کہ حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہ علیہ اپنے خاص مُرید خواجہ فخرُ الدِّین گردیزی ، خواجہ قُطبُ الدِّین بختیار کاکی اور چند دِیگر مُریدوں اور عقیدت مندوں کے ساتھ شہرِ بغداد سے ہندوستان تشریف لائے اور کفر و شرک کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع