30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس سے گزری،آپ اُس وقت قَدِید یعنی خشک گوشت کے ٹکڑے تناوُل فرما رہے تھے، اُس نے بھی اس میں سے مانگا۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اُس کو اس میں سے کچھ دے دیا ۔ وہ بولی: نہیں،اپنے منہ شریف میں جو ہے وہ عطا فرمایئے۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دَہَن مبارَک سے نکال کر عنایت فرمایا، تو اُس نے اپنے منہ میں ڈالااور کھا لیا اس واقعہ کے بعد اس عورت کی بدکلامی کی ساری عادت ختم ہوگئی۔ (1)
بااَدب بانصیب
اے عاشقانِ اَولیا! سلطانُ الہند، خواجہ خواجگان حضور خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہ علیہ کے مبارک واقعے سے ہمیں یہ بھی دَرس ملتا ہے کہ جب ہم کسی مجلس میں بیٹھے ہوں اور ہمارے بزرگ، اَساتذہ ، ماں باپ یا پیر و مُرشِد آ جائیں تو ہمیں ان کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو جانا چاہیے،انہیں عزت و اِحترام کے ساتھ بٹھانا چاہیے۔یاد رَکھئے !اَدب ایسی شے ہے کہ جس کے ذَریعے اِنسان دُنْیَوی واُخْرَوی نعمتیں حاصل کر لیتا ہے اورجو اِس صفت سے محروم ہوتا ہے وہ ان نعمتوں کا بھی حقدار نہیں ہوتا۔ شاید اِسی لئے کہا جاتا ہے کہ ’’بااَدب بانصیب بے اَدب بے نصیب‘‘یقیناً اَدب ہی اِنسان کو ممتاز بناتا ہے، جس طرح ریت کے ذَرّوں میں موتی اپنی چمک اور اَہمیَّت نہیں کھوتا اِسی طرح بااَدب شخص بھی لوگوں میں اپنی شناخت کو قائم و دائم رکھتا ہے لہٰذا ہمیں اپنے بڑوں کا اَدب و اِحترام کرنے اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت ومحبت سے پیش آنا چاہیے۔
آئیے !اس ضمن میں تین اَحادیثِ مُبارکہ ملاحظہ کیجئے اور عمل کا جذبہ پیدا کیجئے ۔
[1] …… خصائص کبریٰ، 1 /105 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع