30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَدب کی برکات
اے عاشقانِ اَولیا!جو لوگ قابلِ اَدب چیزوں اور ہستیوں کا اَدب و اِحترام کرتے ہیں اُ ن کے نصیب اچھے ہوتے ہیں اور وہ اَدب کی برکت سے دُنیا و آخرت کی سعادتیں پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اَدب کی وجہ سے بعض اوقات بےاِیمان کو اِیمان کی دولت نصیب ہو جاتی ہے،کبھی گناہ گار کو توبہ اور نیکی کی توفیق مل جاتی ہےاور کبھی کسی کو وِلایت کا دَرَجہ نصیب ہو جاتا ہے۔جب ہم سلطانُ الہند ، خواجَۂ خواجگان،حضور خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہ علیہ کی مبارک سیرت کا مُطالعہ کرتے ہیں تو آپ کی سیرت کا ایک اَہم پہلو ”اَدب“ہے کہ آپ بزرگانِ دِین رحمۃُ اللہ علیہم کا بڑا اَدب و اِحترام کیا کرتے تھے۔ آئیے اِس ضمن میں چند واقعات ملاحظہ کیجیے :
مجذوب بزرگ کے اَدب کی برکت
ایک روزحضرت خواجہ مُعینُ الدِّین چشتی اجمیری رحمۃُ اللہ علیہ باغ میں پودوں کو پانی دے رہے تھے کہ ایک مَجذوب بزرگ حضرتِ اِبراہیم قندوزی رحمۃُ اللہ علیہ باغ میں تشریف لائے۔ جُوں ہی حضرت خواجہ مُعینُ الدِّین چشتی رحمۃُ اللہ علیہ کی نظر اللہ پاک کے اِس مقبول بندے پر پڑی،فوراً دوڑے،سلام کر کے دَسْت بوسی کی اور نہایت اَدَب واِحترام کے ساتھ دَرخت کے سائے میں بٹھایا۔ پھر ان کی خدمت میں اِنتہائی عاجزی کے ساتھ تازہ اَنگوروں کا ایک خَوشہ پیش کیا اور دو زانو بیٹھ گئے۔ اللہ پاک کے وَلی کو اس نوجوان باغبان کا اَنداز بھا گیا، خوش ہو کر کَھلی (یعنی تل یا سرسوں کے پھوک) کا ایک ٹکڑا چبا کر آپ کے مُنہ میں ڈال دیا۔کَھلی کا ٹکڑا جُوں ہی حَلق سے نیچے اُترا، آپ کے دِل کی کیفیت یکدم بدل گئی اور دِل دُنیا کی محبت سے اُچاٹ ہوگیا۔پھر آپ نے باغ،پَن چکی اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع