30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دُعا فرماتے، نیز اس کے اَہلِ خانہ کو صبر کی تلقین کرتے اور تسلّی دیا کرتے تھے۔(1)
پڑوسی کے حقوق
حضرتِ مُعاويہ بن حيدہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتےہيں کہ میں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کی:یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !آدمی پر پڑوسی کے کيا حقوق ہيں؟ تو آپ نےاِرشادفرمايا:اگر وہ بيمار ہو تو اس کی عيادت کرو، اگر مر جائے تو اس کے جنازےمیں شرکت کرو،اگرقرض مانگےتو اسےقرض دو اور اگر وہ عيب دار ہو جائے تو اس کی پَردہ پوشی کرو۔(2)
اے عاشقانِ اَولیا! ہمیں بھی چاہئےکہ پڑوسیوں کےساتھ حُسنِ سُلوک سے پیش آئیں،اگر انہیں کوئی مصیبت پہنچے تو انہیں تسلی دیتے ہوئے صبر کی تلقین کریں،جب اُنہیں کوئی خوشی حاصل ہو تو اُنہیں مبارک باد دیں،پڑوسی کے بچوں اور ملازموں کے ساتھ نرمی و بھلائی سے گفتگو کرتےہوئےحُسنِ اَخلاق سے پیش آئیں،پڑوسیوں کی غلطیوں پر ان سے دَرگزرکریں ، وہ فریادکریں توان کی مدد کریں ۔
عفو و دَرگزر
عفو و دَرگزر بھی عمدہ اَخلاق اور اچھی عادات میں سے ہے۔ حضور خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہ علیہ بہت ہی نرم دِل،تحمل مزاج اور سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے۔ اگرکبھی غصہ آتا بھی توصرف دِینی غیرت و حمیّت کی بنیاد پرآتا، البتہ ذاتی طور پر اگر کوئی سخت بات کہہ بھی دیتا تو آپ برہم نہ ہوتے بلکہ اس وقت حُسنِ اَخلاق اور خَنْدہ پیشانی کا مُظاہرہ کرتے
[1] …… حضرت خواجہ غریب نواز حیات وتعلیمات، ص38 ۔
[2] …… مجمع الزوائد، 8 /302، حدیث:13545 دار الفکر بیروت ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع