30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کما حقہ نماز ادا کرتے ہیں اور رُکوع و سجود نیز قراءت و تسبیح میں کوئی کمی نہیں کرتے تو فرشتے ان کی نماز آسمان پر لے جاتے ہیں، اس نماز سے ایک نور پھیلتا ہے جس سے آسمان کے سارے دَروازے کھل جاتے ہیں، جب وہ نماز عرش کے نیچے لائی جاتی ہے تو حکم ہوتا ہے:”سجدہ کر اور نمازی کے لئے مجھ سے بخشش مانگ،کیونکہ اس نے تیرا حق ادا کیا ہے۔“ اتنا فرماکر خواجہ صاحب اَشک باری فرمانے لگے۔ پھر فرمایا: یہ ان کا حق ہے جو نماز اچھی طرح ادا کریں۔ اِس کے برعکس جو شخص نماز کا حق ادا نہیں کرتا جب اس کی نماز فرشتے آسمان پر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو آسمان کے دَروازے نہیں کھولے جاتے اور حکم ہوتا ہے کہ”اِس نماز کو واپس لے جاؤ اور نمازی کے منہ پر دے مارو۔“ اس وقت نماز زبانِ حال سے کہتی ہے :خدا تجھے ضائع کرے جیسے تو نے مجھے ضائع کیا۔(1)
تلاوتِ قرآن سے شغف
اب آئیے خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہ علیہ کے شوقِ تلاوت کے بارے میں سنتے ہیں، آپ کو تلاوتِ قرآن سے اِس قدر شغف تھا کہ دِن میں دو قرآنِ پاک ختم فرما لیتے۔ (2)
اے عاشقانِ رسول!دیکھا آپ نے کہ خواجہ غریب نواز رحمۃُ اللہ علیہ کو تلاوتِ قرآنِ کریم سے کس قدر شغف تھا کہ آپ دِن میں دو قرآنِ پاک ختم فرما لیتے۔ ہم خواجہ صاحب رحمۃُ اللہ علیہ کی محبت کادَم بھرنےوالے اپنی حالت پر غور کریں کہ دِن میں دو قرآنِ پاک ختم کرنا تو دور کی بات ہم تو مہینوں بلکہ سالوں میں بھی ایک قرآنِ کریم ختم نہیں کر پاتے، بلکہ ہمیں تو دُرُست طریقے سے قرآنِ پاک پڑھنا بھی نہیں آتا۔ دُنیوی تعلیم حاصل کرنے کا تو شوق ہے لیکن افسوس!قرآنِ پاک سیکھنے کا شوق نہیں۔ حالانکہ
[1] …… دلیل العارفین ،ص10 ۔
[2] …… مرآۃ الاسرار، ص595 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع