30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چند بلند و بالا محلّات مُلاحظہ فرمائے جن کے بارے میں پوچھنے پر حضرتِ جبرائیل علیہ السّلام نے عرض کیا کہ یہ غصّہ پینے والوں اور لوگوں سے عَفو و دَرگزر کرنے والوں کے لئے ہیں اور اللہ پاک اِحسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔(1)
غصہ پینے والا جس حُور کو چاہے لے لے!
غصّہ غیر اِختیاری شے ہے، یہ نفس کے اُس جوش کو کہتے ہیں جو بدلہ لینے پر اُبھارتا ہے اور اس سے سینے میں اِنتقام کی آگ بھڑک اُٹھتی ہے۔ ایسے میں جو شخص اپنے آپ کو قابو میں رکھے اور عَفو و دَرگزر سے کام لے اَحادیثِ مبارکہ میں اس کے بہت سے فضائل وارِد ہیں،ایک اور فضیلت ملاحظہ کیجئے۔ چنانچہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ باقرینہ ہے : جس نے غصّے کو ضبط کر لیا حالانکہ وہ اسے نافِذ کرنے پر قادِر تھا تو اللہ پاک بروزِ قیامت اُس کو تمام مخلوق کے سامنے بُلائے گا اور اِختیار دے گا کہ جس حُور کو چاہے لے لے۔(2)
صحیح موقع پر غصّہ آنا ضَروری ہے
یاد رَکھئے! غصّہ بذاتِ خود بُرا نہیں، ہاں! غصّے میں آ کر شریعت کی نافرمانی کرنا مذموم و ناجائز ہے۔صحیح موقعے پر غصّہ آنا بھی ضَروری ہے، حضرتِ امام احمد بن حجر مکی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:غصّے میں تفریط یعنی اِس قدر کم آنا کہ بالکل ہی ختم ہو جائے یا پھر یہ جذبہ ہی کمزور پڑ جائے تو یہ ایک مذموم صفت ہے کیونکہ ایسی صورت میں بندے کی مُرَوَّت اور غیرت ختم ہو جاتی ہے اور جس میں غیرت یا مُرَوَّت نہ ہو وہ کسی قسم کے کمال کا اہل نہیں
[1] …… مسند الفردوس، 2/ 255 ، حديث : 3187۔
[2] …… ابوداؤد، 4/325، حدیث :4777۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع