30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یتیموں کا مال ناحق کھانے والے لوگ
مِعراج کی رات حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کچھ ایسے لوگ بھی دیکھے جن کے ہونٹ اُونٹ کے ہونٹوں کی طرح (بڑے بڑے) تھے، ان پرایسے اَفراد مُقَرَّر تھے جو اُن کے ہونٹ پکڑ کر آگ کے بڑے بڑے پتھر ان کے منہ میں ڈالتے اور وہ اُن کے نیچے سے نکل جاتے۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دَرْیافت فرمایا:اے جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ عرض کیا: یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں۔(1)
یتیموں کا مال ناحق کھانے والوں کے متعلق اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ- (پ 4، النسآء : 10)
ترجَمۂ کنزالایمان :وہ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ میں نِری آگ بھرتے ہیں۔
یتیموں کی دولت، سازوسامان، جاگیر و جائیداد اَلغرض کسی بھی قسم کا مال ناحق طور پر لینے میں آخرت کا شدید وَبال ہے۔قرآنِ کریم اور اَحادیثِ مبارکہ میں اس کی بہت سخت وَعیدیں آئی ہیں۔
یتیموں پر رحم و مہربانی کرنے کی فضیلت
خیال رہے کہ جہاں ناحق طور پر یتیموں کا مال کھانے اور اُن کے ساتھ بُرا سلوک کرنے کی وجہ سے جہنم کے دَردناک عذاب کی وَعیدیں ہیں وہیں اُن کے ساتھ نرمی و اِحسان کا برتاؤ کیا جائے اور شفقت و مہربانی کے ساتھ پیش آیا جائے تو جہنم کے ہولناک عذاب سے نجات کی بشارت بھی ہے۔ چنانچہ اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ رَحمت نِشان ہے : اُس ذات کی قسم !جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث
[1] …… تہذیب الآثار،2/467،حدیث:725 مطبعۃ المدنی قاھرہ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع