30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیثوں کی مشہور کتاب’’صحیح بخاری‘‘کے مؤلِّف حضرتِ امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ مسجد میں تھے ، ایک شخص نے اپنی داڑھی سے تنکا نکال کر مسجدکے فرش پر ڈال دیا! آپ نے اُٹھ کر وہ تنکااپنی آستین میں رکھ لیا جب مسجدسے باہر نکلے تو اُسے پھینک دیا۔ (تاریخِ بغداد ، 2 / 13)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں اُمید کرتا ہوں کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں اِس حال میں حاضر ہوں گا کہ وہ مجھ سے غیبت کا حساب نہیں لے گا کیونکہ میں نے کسی کی غیبت نہیں کی۔ (تاریخِ بغداد ، 2 / 13)
نیّت بدلنا پسند نہیں کیا(حکایت)
حضرت بَکْر بن منیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نےامام بُخاری رحمۃ اللہ علیہ کےپاس سامان بھیجا ، شام کو آپ کے پاس کچھ تاجر(Businessmen)آئےاور 5000درہم کے نفع پر وہ سامان خریدنا چاہا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : آج کی رات ٹھہر جاؤ ، دوسرے دن تاجروں کا دوسرا گروہ آیا ، انہوں نے 10ہزاردرہم کے نفع سے خریدنے کی پیش کش کی ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : کل جو تاجر آئے تھے ، میں نے ان کو بیچنے (Sale) کی نیّت کر لی ہے۔ چنانچہ آپ نے اُنہیں ہی سامان بیچا اور ارشاد فرمایا : میں اپنی نیّت بدلنا پسند نہیں کرتا۔ (تاریخِ بغداد ، 2 / 12 ملتقطا)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اللہ والوں کی بھی کیا خوب شان ہوتی ہے دینی معاملہ ہویا دُنیاوی ، یہ حضرات کسی بھی حال میں اللہ پاک کے خوف سے بے خوف نہیں ہوتے بلکہ ہر حال میں اپنی نیت و قلب کی حفاظت کرتے ہیں ، کاش! آج کل کے تاجر حضرات (Businessmen)بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو فالو کرتے ہوئے سچائی واَمانت داری سے کاروبار کریں توروزی میں خیرو برکت کے ساتھ ساتھ خوب اَجروثواب کمائیں۔
امام محمد بن محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں : قیامت کے دِن تاجر کو ہراُس شخص کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا جس کو اُس نے کوئی چیزبیچی ہوگی اور جتنے لوگوں سے اُس نے لین دین کے معاملات کئےہوں گے اُن کی تعداد کے برابر ہر ایک کے بارے میں اس سے حساب لیا جائے گا۔ (احیاء العلوم ، 2 / 111)
عاشقِ مال اِس میں سوچ آخِر کیا عُروج و کمال رکھا ہے؟
تجھ کو مل جائے گا جو قسمت میں تیری رزقِ حلال رکھا ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
سرکارِاعلیٰ حضرت امام اَحمد رَضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں : امام بُخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اِنتقال فرمایا(تو)نَوّے ہزار(90,000) شاگردمُحَدِّث چھوڑے۔
(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص238)
شارِحِ بُخاری مفتی شریف الحق اَمجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذۂ کرام کی تعداد ایک ہزاراَسّی(1080) ہے۔ (نزہۃ القاری ، 1 / 119)
امام بُخاری رحمۃُ اللہِ علیہ کی نصیحت
پیارے پیارے اِسلامی بھائیو!امامِ بُخاری رحمۃ اللہ علیہ اکثر یہ اَشعار پڑھا کرتے :
اِغْتَنِمْ فِی الْفَرَاغِ فَضْلَ الرُّکُوْعِ فَعَسٰی اَنْ یَّکُوْنَ مَوْتُکَ بَغْتَۃً
کَمْ صَحِیْحٍ رَأَیْتُ مِنْ غَیْرِ سَقَمٍ خَرَجَتْ نَفْسُہُ الصَّحِیْحَۃُ فَلْتَۃً
ترجمہ : (1)فراغت کے اَوقات میں رُکوع و سجود(یعنی نفل نماز) کو غنیمت جان ، عنقریب تجھے موت آ جائےگی۔ (2)میں نے کتنے ایسے تندرست دیکھے ہیں جنہیں کوئی بیماری نہیں تھی اور اچانک ان کی رُوحیں پرواز کر گئیں ۔ (مکاشفۃ القلوب ، ص271)
آخِرت کی کرو جلد تیّاریاں موت آکر رہے گی تمھیں بے گماں
موت کا دیکھو اِعلان کرتا ہوا سُوئے گورِغریباں جنازہ چلا
کہتا ہے ، جامِ ہستی کو جس نے پیا وہ بھی میری طرح قَبر میں جائےگا
تم اے بوڑھو سنو! نوجوانو سنو اے ضَعیفو سنو! پہلوانو سنو!
موت کو ہر گھڑی سر پہ جانو سُنو جلد توبہ کرو میری مانو سنو!
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
محبوبِ باری کے دَربار میں امام بُخاری کا انتِظار
حضرت عبدُ الْواحِد طَوَاوِیسی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زیارت کی ، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کے ساتھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع