آپ رحمۃُ اللہِ علیہ مدینہ ٔ پاک کے عظیم الشان تابعی اوربہت بڑے فقہا و محدثین میں سے ہیں۔ آپ نے صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان میں سےخادمُ النبی حضرتِ انس ،حضرتِ جابر اور حضرتِ عبدُ اللہ بن عمر رضی اللہُ عنہم سے ملاقات کا شرف حاصل کیااور اِن حضرات سے احادیثِ مبارکہ بھی روایت کیں۔
اے عاشقانِ صحابہ واہلِ بیت!اللہ والےبے زبان جانوروں کی بولیاں بھی سمجھ لیتے ہیں بلکہ اُن کی فریاد پر اُن کی مدد بھی فرماتےہیں جیساکہ ایک شخص کا بیان ہے :میں امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ کے ساتھ مکے اورمدینے کی درمیانی وادی میں سفرکررہا تھا، اُس وقت آپ رحمۃُ اللہِ علیہ ایک خچر پر سوار تھے اور میں ایک گدھے پر سوار تھا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ کوئی شخص پہاڑ سے اُتر کر ان کے قریب آیا اور وہ آپ کے خچر کی نگرانی کرتا رہا اور ایک بھیڑیا اپنے ہاتھوں کو خچر کی زِین کے آگے رکھ کر دیر تک امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ سے گفتگو کرتا رہا۔ پھر آپ نے اُس بھیڑیے سے فرمایا: ”اب تم واپس چلے جاؤ، جو تم چاہتے تھے میں نے اُس طرح کر دیا ہے۔“ بھیڑیا یہ سُن کر واپس ہولیا۔پھرآپ نے اپنے ساتھی سے ارشادفرمایا:کیاتم جانتے ہو!اِس بھیڑیے نےمجھ سے کیا کہا؟ اُس نے عرض کیا:اللہ پاک، اس کا رسول اور اُس کےبیٹے(یعنی آپ) ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: بھیڑیا فریاد کر رہا تھا : میرابچہ پید اہونے والا ہے اس حوالے سے دعا کردیں اور اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کریں کہ وہ میری نسل سے کسی کو بھی آپ سے محبت کرنے والےپر مسلط نہ کرے ۔ چنانچہ آپ نے اُس کی درخواست بارگاہِ الٰہی میں پیش کردی۔ (شواہد النبوۃ،ص 239)
صَحابہ کا گدا ہوں اور اہلِ بیت کا خادِم یہ سب ہے آپ ہی کی تو عنایت یارسولَ اللہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب! صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
ایک مرتبہ امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ نے چڑیوں کی چَہْچَہاہٹ سنی توپاس موجود ایک شخص سےفرمایا: جانتے ہویہ کیاکہہ رہی ہیں؟ اُس نے عرض کی: نہیں۔فرمایا: ’’یہ میرےرب کی پاکی بیان کرتے ہوئے آج کے رِزق کا سوال کر رہی ہیں۔“
(حلیۃ الاولیاء، 3/219، حدیث: 3766)
فقہ حَنَفی کے بہت بڑے عالمِ دین ،حضرت امام ابویوسف رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے استاذ حنفیوں کے امام ،امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃُ اللہِ علیہ سے عرض کیا:کیا آپ کی امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ سے ملاقات ہوئی ہے؟ توآپ نے فرمایا:جی!میں نے اُن سے ملاقات کی ہے اورمیں نے اُن سے ایک مسئلہ معلوم کیا توآپ نے اُس کا بڑا شاندار جواب عطافرمایا جو میں نے اِن سے پہلے کسی سے نہیں سنا۔(تاریخ مشائخ قادریہ رضویہ برکاتیہ،ص 81)
ایک مرتبہ بادشاہ نے حضرتِ امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ کو مَعَاذاللہ شہید کرنے کے ارادے سے اپنے پاس بُلوایا۔جیسے ہی آپ بادشاہ کے پاس تشریف لائے تو بادشاہ معافی مانگنے لگا اورکچھ تحائف پیش کرکے بڑے ادب واحترام سے رخصت کرنے لگا۔آپ کے تشریف لے جانےکے بعد لوگوں نے بادشاہ سے کہا : تو نے انہیں شہید کرنےکے ارادے سے نہیں بلوایا تھا؟بادشاہ نے کہا:امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ جب میرے قریب تشریف لائے تو میں نے دوبڑے غضبناک شیروں کو دیکھاجواُن کے دائیں بائیں کھڑے مجھ سے کہہ رہے تھے اگر تم نے ذرّہ برابر گستاخی کی تو ہم تمہیں چیر پھاڑکر رکھ دیں گے۔
(تاریخ مشائخ قادریہ رضویہ برکاتیہ،ص 83)
اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بیت! اولیائے کرام رحمۃُ اللہِ علیہم کے اِرشادات ہمارے لئے مَشعلِ راہ یعنی زندگی گزارنے کے بہترین نسخے ہوتے ہیں ان پر عمل کرکے ہم اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بنا سکتے ہیں نیز ان کے مختصر فرامین میں علم وحکمت کے انمول خزانے ہوتے ہیں ۔ امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ کے کچھ فرامین ملاحظہ کیجئے :
*گھٹیا لوگوں کا سلام بُری گفتگو ہے۔(یعنی بُرے لوگ اپنی بات بُری گفتگو سے شروع کرتے ہیں۔) (صفۃ الصفوہ، 2/77)
*ہرچیز کے لئے کوئی نہ کوئی آفت ہوتی ہے اور علم کی آفت بھولنا ہے۔
(البدایہ و النہایہ، 6/456)
*وہ عالِم جس کے علم سے فائدہ حاصل کیا جائے ہزار عابدوں سے افضل ہے ۔
(حلیۃ الاولیاء،3/214،رقم:3740)
*اللہ پاک کی قسم!ایک عالِم کی موت شیطان لعین کو 70عابدوں (یعنی عبادت گزاروں)کی موت سے زیادہ پسند ہے۔ (صفۃ الصفوہ، 2/77)
* ’’تین اعمال سب سے زیادہ مشکل ہیں: (1) ہرحال میں اللہ پاک کاذکرکرتے رہنا (2)اپنے آپ سے انصاف کرنا اور(3)ضرورت مندمسلمان بھائی سے مالی تعاوُن کرنا۔“
(تفسیر در منثور، پ9، الانفال، تحت الآیۃ: 45، 4 /75)
*لڑائی جھگڑے سے بچناکیونکہ یہ دلوں کو بگاڑ تا اور نِفاق پیدا کرتا ہے۔
(حلیۃ الاولیاء،3/215،رقم:3749)
*اللہ پاک کی آیات میں خواہ مخواہ بحث ومُباحَثہ کرنے والے لوگ ہی جھگڑالو ہیں۔
(حلیۃ الاولیاء،3/216،رقم:3750)
*حضرتِ ثابِت رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ محمدبن علی باقر رحمۃُ اللہِ علیہ اس فرمانِ باری تعالیٰ:
اُولٰٓىٕكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا (پ19،الفرقان:75) ترجَمۂ کنز الایمان :ان کوجنت کاسب سے اونچابالاخانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا۔
کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:(یہ انعام انہیں)دنیا میں فقر وفاقہ پر صبر کرنے کی وجہ سے ملے گا۔(تفسیر در منثور، پ 19، الفرقان، تحت الآیۃ: 75، 6 /285)
*” میرا ایک بھائی ہے جو میرے نزدیک بڑی عزت وعظمت رکھتا ہے اور میرے نزدیک اس کی عظمت کی وجہ اس کی نظر میں دنیا کا حقیر ہونا ہے۔“ (صفۃ الصفوہ، 2/78)
*”جسے حُسنِ خُلق اور نرمی عطا کی گئی اسے تمام بھلائی وراحت دی گئی اور دنیا وآخرت میں اس کا حال بہتر ہوگا اور جو حُسنِ خُلق وبھلائی سے محروم رہا تو یہ ہر بُرائی و مصیبت کا راستہ ہے مگر وہ جسےاللہ اس سے محفوظ رکھے۔“ (حلیۃ الاولیاء،3/218،رقم:3762)
* عبید اللہ بن ولیدکابیان ہےکہ حضرتِ محمد بن علی باقر رحمۃُ اللہِ علیہ نے ہم سے فرمایا: ’’ کیا تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی جیب میں ہاتھ ڈال کراپنی خواہش کے مطابق کچھ لے سکتا ہے؟“ ہم نے عرض کی:نہیں۔فرمایا: ”پھر تمہارے درمیان وہ بھائی چارہ نہیں جیسا تم گمان کرتے ہو۔“ (حلیۃ الاولیاء،3/218،رقم:3763)
* ” تمہارے بھائی کے دل میں تمہاری کتنی محبت ہے اس کا اندازہ تم اس بات سے لگاؤ کہ اپنے بھائی کی تمہارے دل میں کتنی محبت ہے۔‘‘(صفۃ الصفوہ، 2/79)
* جابرجُعفی سے فرمایا:’’اےجابر!دنیا کو اُس مقام کی طرح سمجھ ،جہاں تو کچھ دیر کے لئے ٹھہرا پھر کُوچ کر گیا یا اُس مال کی طرح سمجھ جسے تو نے خواب میں پایا لیکن جب آنکھ کھلی تو تیرے ہاتھ میں کچھ نہ تھا۔ دنیا عقل مندوں اور معرفَتِ الٰہی رکھنے والوں کے لئے
سائے کی مانند ہے۔پس تواللہ پاک سے اپنےدین وعقل کی حفاظت کا سوال کر۔‘‘
(حلیۃ الاولیاء،3/218،رقم:3765)
* اپنی پسندیدہ چیزوں میں ہم اللہ پاک کی عبادت کرتے ہیں اگر کوئی چیز ہماری پسند کے خلاف واقع ہو تو اللہ پاک کی پسندیدہ چیزوں میں ہم اس کی نافرمانی نہیں کرتے۔
(شعب الایمان، 7/244، حدیث: 10171)
* ”اللہ پاک کو سب سے زیادہ محبوب اس سے سوال کرنا اور مانگنا ہےاور قَضا کو دعا ہی سے ٹالا جا سکتا ہے۔ سب سے زیادہ جلد حصولِ ثواب کا باعث بننےوا لا عمل صِلہ رِحمی ہے اور سب سے زیادہ جلد سزا کا سبب بننے والا عمل بغاوت وسرکشی ہے۔ آدمی کے عیب دار ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ لوگوں میں اس عیب کو دیکھے جسے خود میں دیکھنے سے اندھا ہواور لوگوں کو اس چیز کا حکم دے جسے خود سے دور نہیں کر سکتااور اپنے ہم نشینوں کو بلاوجہ تکلیف پہنچائے۔“ (البدایہ و النہایہ، 6/457)
حضرتِ امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ کا انتقال شریف7ذوالحجۃ الحرام114یا 117ہجری کو ہوا۔ (شرح شجرہ قادریہ رضویہ عطاریہ ، ص 54 تا 56) دنیا کے سب سے افضل قبرستان جنت البقیع میں حضرتِ عباس رضی اللہُ عنہ کے مزار شریف کے قریب آپ کی تدفین ہوئی۔(جامع کرامات الاولیا،1/164)آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو آپ کےنماز والےلباس میں کفن دیا گیا۔اللہ کریم ہمیں سچا غلامِ صحابہ واہلِ بیت بنائے اوران کی غلامی میں جینا مرنا نصیب فرمائے۔اٰمین بِجاہِ خاتَمِ النَّبیِّین صلّی اللہُ علیهِ واٰلهٖ وسلّم