دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Imam Baqir | فیضانِ امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ

Jannat Masail Kay Hal Kay Liye Haazir Hotay

book_icon
فیضانِ امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ

جِنّات مسائل کے حل کےلئے حاضر ہوتے

ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے حضرتِ امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ سے ملاقات کی اجازت مانگی تو لوگوں نے کہا:جلدی سے کام نہ لو کیونکہ اِن کے ہاں اور بھی بہت سے آدمی بیٹھے ہوئے ہیں اورآپ ابھی باہر تشریف نہیں لائے ہیں ،اتنے میں 12آدمی تنگ قَبائیں اور ہاتھ پاؤں میں دستانے موزے پہنے  ہوئے باہر آئے۔ انہوں نے ”السلام علیکم “ کہا اور چلے گئے۔ جب میں حضرت امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ  کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوا تو پوچھا: حضرت!یہ کون لوگ تھے جو ابھی آپ کے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا : یہ  تمہارے بھائی جِنّات تھے۔میں نے حیران ہوکر عرض کیا:کیا آپ انہیں دیکھ لیتے ہیں؟ فرمایا: ہاں!جس طرح تم مجھ سے حلال و حرام کے بارے میں مسائل پوچھتے ہو اس طرح یہ بھی آکر مجھ سے مسائل سیکھتے ہیں ۔(شواہد النبوۃ،ص 239)

شجرہ بزبان عربی

میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت مولانا شاہ امام احمدرضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ نے ایک  طویل عربی شجرہ  طریقت بصیغۂ درود تحریرفرمایا ہے اُس میں حضرتِ امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ کا ذکرِ خیر ان الفاظ سے کرتے ہیں: 
اَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَ بَارِكْ عَلَیْهِ وَ عَلَیْهِمْ وَ عَلَی الْمَوْلَی السَّیِّدِ الْاِمَامِ مُحَمَّدِ بْنِ  عَلِیِّ  نِ الْبَاقِرِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُمَا
ترجمہ:اے اللہ پاک تُو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر اور سردار و مولا محمد بن علی امام باقر رضی اللہُ عنہما    پر درود وسلام بھیج اور ان پر برکت نازل فرما۔
(تاریخ و شرح شجرۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ، ص 108)
اِسی طرح   اپنےا یک فارسی شجرے میں حضرتِ امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ سے ان اشعار کی صورت میں اِستِغاثہ (یعنی فریاد)کرتے ہیں:    
باقرا یا عالمِ سادات یا بحرَ الْعُلوم   ازعلوم خودبدفعِ جہل ما اِمْدا د کُنْ
یعنی اے امام باقر! آپ ساداتِ کِرام کے بہت بڑے عالم اورعُلوم کا سمند رہیں ۔اللہ کریم کی طرف سے عطاکے گئے ان علوم سے میری جہالت دورفرما کر میری مدد کیجئے۔
 (تاریخ و شرح شجرۂ قادریہ برکاتیہ رضویہ، ص 128) 

عبادات و مُناجات

حضرتِ امام باقررحمۃ اللہ علیہ اپنے والدِمحترم کی طرح بڑے عابدوزاہد اور ہروقت عبادت میں مصروف رہتے تھے۔آپ کے شہزادے حضرتِ امام جعفرِ صادق رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:میرے والدِ محترم آدھی رات کےوقت بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے: ’’اے اللہ  پاک ! تُو نے مجھے حکم دیا لیکن میں نے بجا آوری نہ کی، مجھے منع فرمایا لیکن میں باز نہ آیا، تیرا یہ بندہ تیری بارگاہ میں حاضر ہے اور اس کے پاس کوئی عذر نہیں  ہے۔“(حلیۃ الاولیاء، 3/217، حدیث: 3760) اے خدا!رات آگئی اوردنیاوی بادشاہوں کی حکومت ختم ہوگئی، آسمان پر ستارے نکل آئے اورلوگ سوگئے۔اے پاک پروردگار!تُو زندہ ،ہمیشہ رہنے والا  اور دیکھنے والا ہے ،تیری ذات پاک ہے تُو نیند اوراُونگھ سے پاک ہے تیری ذات کسی مانگنے والے کو خالی  نہیں لوٹاتی۔(تاریخ مشائخ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص 82 )
پئے حُسین و حَسَن فاطمہ علی حیدر    ہمارے بگڑے ہوئے کام دے بنا یا رب

عادات مبارکہ

حضرتِ  خالدبن دینار رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ  محمدبن علی باقر  رحمۃُ اللہِ علیہ  جب مسکراتے تو بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے:’’اےاللہ  پاک !مجھ سے ناراض نہ ہونا۔ “ (صفۃ الصفوہ، 2/78) حضرتِ  عبدُاللہ بن یحییٰ رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتے ہیں:میں نےحضرتِ امام ابو جعفر محمدبن علی باقر  رحمۃُ اللہِ علیہ  کو زرد رنگ کا تہبند باندھے دیکھا، آپ فرض نمازوں کے علاوہ دن رات میں50رکعتیں ادا فرماتے تھے۔ آ پ  رحمۃُ اللہِ علیہ  کی  مبارک انگوٹھی پرلکھا ہوا تھا : اَلْقُوَّةُ لِلهِ جَمِیْعًا یعنی سارا زور خدا کو ہے۔
(حلیۃ الاولیاء، 3/217، حدیث: 3758  ۔ 3/213، حدیث: 3737)

مولیٰ علی کے نزدیک پہلے خلیفہ حضرتِ ابوبکر صدیق

امام جعفرِ صادق رحمۃُ اللہِ علیہ  اپنے والد ِ محترم حضرتِ امام باقر  رحمۃُ اللہِ علیہ سے روایت کر تے ہیں کہ حضرت  ابوبکر صدیق  رضی اللہُ عنہ بیعت ہوجانے کے بعد سات دن تک لوگوں کو (عاجزی کے طورپر)بیعت توڑنے کاکہتے رہے۔ساتویں دن حضرت علیُّ المرتضیٰ شیرِ خدا رضی اللہُ عنہ تشریف لائے اورعرض کیا: ’’نہ ہم آپ سے کی گئی بیعت توڑیں گے اور نہ ہی ایسا مطالبہ کریں گے، اگر ہم آپ کو اہل نہ سمجھتے تو کبھی بیعت نہ کرتے۔ “  (الریاض النضرۃ ، 1/252) 
ہوئے فاروق و عثمان و علی جب داخلِ بیعت    بَنا  فخرِ سَلاسِل سلسلہ صدیقِ اکبر کا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!    صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

حضرتِ ابوبکر صدیق اورحضرت عمرفاروقِ اعظم کے بارے میں

 حضرتِ امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ   ارشاد فرماتے ہیں : حضرتِ بی بی فاطمۃُ الزّہرا  رضی اللہُ عنہا   کی ساری آل کااِس بات پر اِجماع واتفاق ہے کہ حضرتِ ابو بکر وعمر رضی اللہُ عنہما   کے حق میں وہ بات کہیں جو سب سے بہتر ہو ۔(ظاہر ہے کہ سب سے بہتر بات اُسی کے حق میں کہی جائے گی جو سب سے بہتر ہو۔)(صواعق المحرقہ،ص 52)

جو آپ کو صدیق نہ کہے…؟

حضرت عُروہ بن عبدُاللہ  رحمۃُ اللہِ علیہ  سے روایت ہے کہ میں حضرتِ امام باقر ابوجعفر محمد بن علی بن حسین  رحمۃُ اللہِ علیہ  کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا: تلوار کو سجانے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟آپ نےفرمایا:اِس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ خود حضرت ابوبکر صدیق  رحمۃُ اللہِ علیہ نے بھی اپنی تلوار کو آراستہ کیا۔میں نے عرض کیا: ’’آپ نے اُنہیں صدیق کہا؟‘‘یہ سننا تھا کہ حضرت امام باقر  رحمۃُ اللہِ علیہ  جلال فرماتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور قبلے کی طرف منہ کر کے ارشاد فرمایا:’’ ہاں! وہ صدیق ہیں، ہاں! وہ صدیق ہیں،ہاں! وہ صدیق ہیں۔ اور جو انہیں صدیق نہ کہے تو  اللہ پاک اُس کی بات کو دنیاوآخرت میں سچا نہیں فرماتا ۔(فضائل الصحابۃ،، 1/419، الرقم: 655)
عمر سے بھی وہ افضل ہیں   وہ عثماں  سے بھی  ہیں  اعلیٰ
یقیناً پیشوائے مُرتَضیٰ صدّیقِ اکبر ہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!    صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

صحابۂ کرام کے بارے میں درسِ محبت

حضرتِ عبدُالملک بن ابو سُلیمان رحمۃُ اللہِ علیہ بیان کرتےہیں:میں نےحضرتِ امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ سے اِ س آیتِ   مبارکہ 
اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ(۵۵)
 (پ6، المائدہ:55)
تر جمۂ کنز الایمان:تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔
کی تفسیر پوچھی توفرمایا: ’’اس آیت کے مِصْداق صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان ہیں۔‘‘میں نے عرض کی: لوگ کہتے ہیں کہ اِس آیت کے مِصْداق مسلمانوں کےچوتھے خلیفہ  حضرتِ علیُّ المرتضیٰ  رضی اللہُ عنہ   ہیں۔ فرمایا: ’’وہ بھی صحابَۂ کرام علیہمُ الرّضوان  ہی میں سے ہیں۔‘‘ (تاریخ ابن عساکر ، 54/289)

اہلِ بیت سےمحبّت کے جھوٹے دعویدار

امام  باقر  رحمۃُ اللہِ علیہ  نے جابرجُعفی سےفرمایا:اے جابر!مجھے خبر ملی ہے کہ عراق میں کچھ لوگ ہیں جو ہم(یعنی اہلِ بیت) سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن امیرُ المؤمنین حضرتِ ابو بکر صدیق اور امیرُ المؤمنین حضرتِ  عُمَر فارُوقِ اعظم رضی اللہُ عنہما   کی شان میں نہ کہنے والی باتیں کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ میں نے اُنہیں اِس کا حکم دیا ہے،انہیں پہنچا دو کہ میں بارگاہِ الٰہی میں ان سے براءَت کا اظہار کرتا ہوں۔اگر میں شیخینِ کریمَیْن(یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور عمرفاروق اعظم رضی اللہُ عنہما) کے لئے بلند درجات و رحمت کی دعا نہ کروں تو مجھے میرے نانا جان صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم    کی شفاعت نصیب نہ ہو۔ان حضرات سےاللہ  پاک کے دشمن ہی غافل و بیزار ہیں۔ (البدایہ و النہایہ، 6/457)

شیخینِ کریمَیْن سے جُدا اہلِ بیت سے جُدا ہے

ایک اورموقع پر آپ نے جابر جُعفی سے فرمایا: کوفے والوں تک یہ بات پہنچا دینا کہ جس نے شیخینِ کریمَیْن (یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور عمرفاروقِ اعظم رضی اللہُ عنہما)   کی شان میں گستاخی کی میں اُس سے بریٔ الذِّمَّہ اور شیخینِ کریمَیْن (یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور عمرفاروق اعظم  رضی اللہُ عنہما  ) سے راضی ہوں۔جوشخص حضرت ابوبکر صدیق اور عمرفاروق اعظم رضی اللہُ عنہما   کی فضیلت نہیں جانتاوہ سنت (یعنی حدیث)سے ناواقف ہے۔
(حلیۃ الاولیاء، 3/217، حدیث:3753 - 3754)
اس اِمامت سے کُھلا تم ہو اِمامِ اَکبر    تھی یہ ہی رَمزِ نبی کہتے ہیں حیدر صدیق

اللہ پاک کی تعریف کے جامع کلمات

حضرتِ  امام جعفرِصادق  رحمۃُ اللہِ علیہ  بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والدِ محترم حضرتِ محمدبن علی باقر رحمۃُ اللہِ علیہ   کا خچر گم ہوگیا، آپ نے فرمایا: ’’اگراللہ  پاک اُسے لوٹا دے تو میں اس کی ایسی حمد(یعنی تعریف) بیان کروں گا جس سے وہ راضی ہوجائے گا۔‘‘ تھوڑی ہی دیر بعداللہ پاک نے اُسے زِین ولگام سمیت لوٹا دیا،آپ اس پر سوار ہوئے جب درست ہو کر بیٹھ گئے تو کپڑے سمیٹ کر آسمان کی طرف سر اٹھایااور ”اَلحمدُ لِلّٰہ“ کہا ، اس کے علاوہ کچھ نہ کہا۔ جب آپ رحمۃُ اللہِ علیہ  سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا :”  کیا میں نے کچھ چھوڑ دیا یا کچھ باقی رکھا؟میں نے تو تمام تعریفیں اللہ   پاک ہی کے لئے کردی ہیں۔ “(موسوعہ ابن ابی الدنیا ،  1/497، حدیث: 105)
اللہ ربُّ الْعِزَّت کی ان پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمین بِجاہِ خاتَمِ النَّبِیّیْن صلّی اللہُ علیهِ واٰلهٖ وسلّم 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!    صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

بُری موت سے بچنے کا نسخہ

امام اَوزاعی  رحمۃُ اللہِ علیہ  بیان کرتےہیں   کہ میں   نے مدینہ ٔ پا ک میں     امام  باقر  رحمۃُ اللہِ علیہ  کی خدمت میں حاضر ہوکر اللہ پاک کے فرمان: 
یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ(۳۹)  (پ13 ، الرعد:39)
ترجَمۂ کنز الایمان : اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔
کی تفسیر کے بارے میں   پوچھا تو آپ نے فرمایا: ہاں!  مجھے میرے والد ِ محترم نے اپنے جدِّ اَمْجد امیرُ المؤمنین حضرتِ مولاعلیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ   سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ وہ فرماتے ہیں  : میں   نے اِس آیت کے بارے میں   رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ”اے علی! میں   اس آیت کے ساتھ تمہیں   خوشخبری دیتا ہوں   اور تم وہ خوشخبری میرے بعد میری امت کو سنانا کہ درست  طریقے سے  صدقہ دینا ،  بھلائی کرنا،  والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنااور  صلہ رحمی کرنایہ بد بختی کو نیک بختی سے بدلتا،  عمر میں   اضافہ کرتا اور بُری موت سے بچاتا ہے۔(حلیۃ الاولیاء، 6/156، حدیث: 8140)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!والدین سے اچھا سُلوک کرنا بالخصوص جب اُنہیں ہماری خدمت کی ضرورت ہویا وہ بڑھاپے کو پہنچ  چکے ہوں ایسے میں ہر طرح  سے اُن کی  خدمت کےلئے ہروقت تیار رہنا بڑی ہی سعادت کی بات ہے ،تمام عاشقانِ صحابہ واہلِ بیت کوچاہئے کہ  اپنے ذِی رِحم رشتے داروں کے ساتھ بھی حُسن سلوک کریں اگر وہ ہم سے کسی ناراضی کے سبب رشتے داری توڑیں تو تب بھی  ہم رشتہ جوڑنے  ہی کی کوشش کریں کیونکہ اگر کوئی آپ سے اچھا سُلوک کرے اور آپ بھی اُس سے اچھا سلوک کریں تویہ اَدلہ بَدلہ ہوگیا کمال تو تب ہے کہ جب کوئی ہم سے اچھا سلوک نہ کرے اورہم اُس سے بھلائی اورخوش اخلاقی سے پیش آئیں ۔حدیثِ پاک میں ہے جو تم سے توڑے تم اُس سے جوڑو۔ جو تمہیں محروم کرے تم اُس کو عطا کرو اورجو تم پر ظلم کرے تم اُسے معاف کرو۔
  (معجم اوسط، 4/ 160، حدیث: 5567)
امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں:سب سے زیادہ جلد حصولِ ثواب کا باعث بننےوالا عمل صلہ رحمی ہےاور سب سے زیادہ جلد سزا کا سبب بننے والا عمل بغاوت وسرکشی ہے۔ (حلیۃ  الاولیاء،3/219،رقم:3768)   رشتے داروں سے بلا اجازتِ شرعی تعلق توڑنے والے کی نحوست تودیکھئے! حضرتِ امام زینُ العابدین رحمۃُ اللہِ علیہ   نے اپنے  شہزادے امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ  کو رشتہ توڑنے والے کی صحبت سےبھی  بچنے کی نصیحت فرمائی جیساکہ 

شہزادے کی اپنے شہزادے کو نصیحتیں

حضرتِ  محمدبن علی باقر رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: میرےوالدِمحترم حضرتِ اِمام زینُ العابدین رحمۃُ اللہِ علیہ  نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:” پانچ قسم کے لوگوں کی نہ تو صحبت اختیار کرنا، نہ ان سے گفتگو کرنا اورنہ ہی سفر میں ان کی رَفاقَت (یعنی ساتھ)اختیار کرنا۔“ میں نے عرض کی:میں آپ پر قربان!وہ کون ہیں؟فرمایا: ” فاسق کی صحبت اختیار نہ کرنا کیونکہ وہ تجھے ایک یا ایک سے کم لُقمے کے بدلے میں بیچ دے گا۔“ میں نے عرض کی: ” لُقمے سے کم “ سے کیامراد ہے؟فرمایا:” لقمے کا لالچ کرے گا لیکن اسے حاصل نہیں کر سکے گا۔“ میں نے عرض کی:دوسرا شخص؟فرمایا: ’’بَخیل(یعنی کنجوس) کی صحبت میں نہ بیٹھنا کیونکہ وہ ایسے وقت میں تجھ سے مال روک لے گا جب تجھے اس کی سخت ضرورت ہوگی۔‘‘میں نے عرض کی:تیسراکون ہے؟  فرمایا:’’جھوٹے کی صحبت میں نہ بیٹھنا کیونکہ وہ سَراب کی طرح ہے  جو تجھ سے قریب کو دور اور دور کو قریب کردےگا۔‘‘میں نے عرض کی:چوتھا شخص؟ فرمایا: ”  بےوقوف کی صحبت اختیار کرنے سے بچنا کیونکہ وہ تجھےفائدہ پہنچانے کی کوشش میں نقصان پہنچادے گا۔“ میں نے عرض کی:پانچواں شخص کون ہے؟فرمایا:” رشتہ داروں سے قطع تعلُّق کرنے والے کی صحبت میں بیٹھنے سے بچنا کیونکہ میں نے کتابُ اللہ میں تین مقامات پر اسے مَلْعون(یعنی اللہ پاک کی رحمت سے دور) پایا ہے۔“ (حلیۃ الاولیاء، 3/215، حدیث: 3745)امام باقر رحمۃُ اللہِ علیہ  نے اپنے بیٹے سے فرمایا: ” اے بیٹے!سستی اور تنگ دلی سے بچنا کیونکہ یہ ہر بُرائی کی چابی ہیں کہ  اگر سستی کا شکار ہوگے تو حق ادا نہیں کر پاؤ گے اور اگر تنگ دلی کا شکار ہوگے تو حق پر صبر نہیں کر سکو گے۔“ (صفۃ الصفوہ، 2/78)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن