30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چار مشہور اَئمہ مجتہدین
اے عاشقانِ اولیا! چار وں مشہور اَئمہ مجتہدین امام اعظم ابوحنیفہ،امام ِ شافعی ،امام مالک اور اما م احمد بن حنبل رحمۃُ اللہِ علیہم اولیائے کرام ہیں، چاروں بزرگانِ دین قابلِ تعظیم و قابلِ احترام ہیں ۔ہمیں اِن سب بزرگوں کا دِل وجان سے اَدب و احترام کرنا ہے۔ چاروں امام (امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہِ علیہم ) بَرحق ہیں اور ان چاروں کے خوش عقیدہ مُقَلِّدِین آپس میں بھائی بھائی ہیں ، ان میں آپس میں تَعَصُّب (یعنی ہٹ دھرمی) کی کوئی وجہ نہیں ۔ میرے شیخِ طریقت ،امیرِاہلِ سنّت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ لکھتےہیں:
مالکی ہو حنبلی ہو حنفی ہو یا شافِعی
مت تَعَصُّب رکھنا اور کرنا نہ ان سے دشمنی (وسائلِ بخشش،ص699)
امام احمد بن حنبل،امامِ اعظم کے شاگردوں کے شاگرد
حضرتِ امام احمد بن حنبلرحمۃُ اللہِ علیہ اِرشادفرماتےہیں:میں نےسب سے پہلے امام ابویوسف رحمۃُ اللہِ علیہ سے حدیثِ پاک لکھنی شروع کیں۔(مناقب اما م احمد،ص26)امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہِ علیہ سے پوچھا گیا کہ مشکل ترین مسائل کا علم آپ کو کہاں سے حاصل ہوا؟ فرمایا: اِمام محمدرحمۃُ اللہِ علیہ کی کتابوں سے۔( مناقب ابی حنیفہ وصاحبیہ للذھبی، ص79تا 86ماخوذاً)جبکہ امام بُخاری ،امام مسلم اورامام ابوداؤد رحمۃُ اللہِ علیہم امام احمد بن حنبلرحمۃُ اللہِ علیہ کے شاگرد ہیں۔(تاریخ بغداد،5/179ماخوذا) (گویا امام بخاری و امام مسلم امام اعظم کے شاگردوں کے شاگرد ہیں۔ )
امام احمد بن حنبل،امامِ اعظم کے شاگردوں کے شاگرد
حضرت ِ امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: میں چالیس سال سے جو بھی نماز پڑھتا ہوں اُس میں حضرتِ امام شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ کے لئے دُعا ضرور کرتا ہوں۔آپ کے صاحبزادے نے عرض کی: ابوجان! یہ شافعی کون ہیں،جن کے لئے آپ دُعا کرتے ہیں؟ تو حضرتِ امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہِ علیہ نے ارشاد فرمایا: میرے بیٹے! حضرت ِامام شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ دُنیا کے لئے سورج کی طرح اور لوگوں کے لئے عافیت کا باعث تھے تو اَب بتاؤ! کیا اِن دو صفات میں کوئی اُن کا نائب (Successor) ہے؟(احیاء علوم الدین،1/46ملتقطا)
تقویٰ و پرہیزگاری
حضرتِ ادریس حدّاد رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک بارامام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہِ علیہ حج کے لئے مکہ ٔپاک حاضر ہوئےتووہاں آپ رحمۃُ اللہِ علیہ پرغُربت (Poverty)آگئی۔ آپ کے پاس ایک بالٹی (Bucket)تھی۔ آپ نے وہ کسی چیز کے بدلے ایک سبزی بیچنے والےکے پاس گِروی (یعنی رِہن) رکھ دی۔ جب اللہ پاک نے آپ کی غربت دُور فرما دی تو آپ اُس سبزی والےکے پاس آئے اور اُسے رقم دے کر اپنی بالٹی کا مطالبہ کیا۔ سبزی والے نے ایک جیسی دو بالٹیاں حاضر کر دیں اور کہنے لگا:مجھ پر آپ کی بالٹی مشتبَہ (Doubtful) ہو گئی ہے،آپ اِن میں سے جو چاہیں لے لیں ۔ آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا: مجھ پر بھی معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے کہ کون سی بالٹی میری ہے؟ اللہ پاک کی قسم!میں اِسے بالکل نہ لوں گا۔سبزی والےنے کہا: خُداکی قسم! میں بھی اِس کو دئیے بغیر نہ چھوڑوں گا۔آخر کاردونوں حضرات اُن کو بیچ کر رقم صدقہ کرنے پر راضی ہوگئے۔(حکایتیں اور نصیحتیں ، ص431)اللہ پاک کی اِن پر رحمت ہواوراِن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلی اللہ علیه واٰله ٖ وسلم
قبر وآخرت کا خوف
اے عاشقانِ اولیا! دیکھا آپ نے؟ہمارے بزرگانِ دین رحمۃُ اللہِ علیہم شبہے کی چیز سےکس طرح بچتے تھے حالانکہ یقیناً دونوں میں سے ایک بالٹی امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہِ علیہ کی ہی تھی مگر چونکہ وہ آپس میں اِس طرح مِکس ہوگئی تھیں کہ اپنی بالٹی کونسی تھی یہ پتا نہیں چل پا رہا تھا لہٰذا آ پ نے لینے سےہی انکارفرمادیا۔ سبزی بیچنے والے کا خوفِ خدا صد کروڑ مرحبا! کہ وہ بھی اپنی شےکو راہِ خدا میں خرچ کرنے ہی پررِضامند ہوا ۔کاش!ہم بھی شبہے والی چیزوں سے بچنے کی کوشش کریں ۔شبہےوالی چیز دِل کی حالت خراب کرتی اور نیکیوں میں دِل لگنے سے رُکاوٹ بنتی ہے،امام ابوطالب مکیرحمۃُ اللہِ علیہ فرماتےہیں: بندے کو جو چیزیں رات کو اللہ پاک کی عبادت سےمحروم کر نے والی یا پھراس کی طویل غفلت کا باعث بنتی ہیں وہ تین ہیں: ﴿1﴾ شبہے والی اشیا کھانا ﴿2﴾گناہوں پر اِصرار کرنا ﴿3﴾ دل پر دُنیاوی محبت کا غالب ہونا۔(قوت القلوب،1/76)
عاشقِ مال اِس میں سوچ آخِر
کیا عُروج و کمال رکھا ہے؟
تجھ کو مل جائے گا جو قسمت میں
تیری، رزقِ حلال رکھا ہے (وسائلِ بخشش،ص699)
سُنت پر عمل کا جذبہ
ایک بزرگرحمۃُ اللہِ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ خربوزہ(Melon) نہیں کھاتے تھے۔ اُن سے اِس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے ارشاد فرمایا :مجھے اِس کے کھانے سے صِرف یہ چیز روکتی ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ حضورنبی ٔ رحمت ، شفیعِ اُمَّت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اسے کس طرح کھایا تھا۔(فیض القدیر ،4/477،تحت الحد یث :5618)
حضرتِ علامہ عبدالغنی نابُلسی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں :میرے گمان کے مطابق وہ بزرگ حضرتِ امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہِ علیہ تھے ۔ (حدیقہ ندیہ،1/14)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!سلسلۂ حنبلیہ کے عظیم بُزرگ حضرتِ امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہِ علیہ کتنے بڑے عاشقِ رسول اورعاشقِ سنت تھے ،کاش !ہمیں بھی سُنّتوں پر عمل کا عظیم جذبہ عطاہوجائے ،اَفسوس!ہم توکئی سُنّتوں کا پتا ہونے کے باوجود عمل نہیں کرتے ، سلام کرناسُنّت ہےمگرسُستی ہوجاتی ہے،اپنے مسلمان بھائی سے مُسکرا کر مِلنا سنّت ہے مگر ہماری مسکراہٹ تو صِرف مخصوص دوستوں(Specific Friends)ہی کےلئے ہوتی ہے، سیدھے ہاتھ سے کھانا پینا،لینا دینا،سُنت ہے مگر بے توجہی کہیں یا لاعلمی روزانہ کے کئی کاموں میں بھی اِس سُنّت کی طرف توجہ نہیں جاتی ۔ سُنّت کے مطابق آدھی پنڈلی تک لباس کا معاملہ ہوتو اِس میں نِت نئے فیشن آڑے آجاتےہیں کاش!سنّتوں کا دَوردَورہ ہو اور ہر مسلمان سُنّتوں کی چلتی پِھرتی تصویر بَن جائے ۔
اے عاشقانِ رسول! سُنّت میں عظمت ہے ، سُنّت میں برکت ہے، سُنّت میں دنیا و آخرت کی راحت ہے۔ سُنّت میں نجات ہے اور سُنّتوں پر عمل کرنے میں ہی د ُنیاوآخرت کی سعادتیں ہیں۔اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی،مکی مَدَنی ،محمدِ عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیاری پیاری سُنّتوں پر عمل کرنے کاشوق بڑھانے کی اچھی نیت کے ساتھ سُنّت کے تین حُروف کی نسبت سے سُنت پرعمل کے بارے میں 3فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ﴿1﴾ اللہ پاک کے عرش کے سِوا قِیامت کے روز کوئی سایہ نہیں ہو گا، تین شخص اللہ پاک کے عرش کے سائے میں ہوں گے۔ عرض کی گئی: یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم وہ کون لوگ ہوں گے؟ارشاد فرمایا:(1)وہ شخص جو میرے اُمّتی کی پریشانی دُور کرے (2) میری سُنّت کو زِندہ کرنے والا(3) مجھ پر کثرت سے دُرود شریف پڑھنے والا۔ (البدور السّافرۃ فی امور الا خرۃ للسیوطی، ص131،حدیث366 )﴿2﴾جس نے میری سُنّت سےمَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا ۔ (مشکاۃ المصابیح، 1/55،حدیث :157)﴿3﴾جس نے میری سنّت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں۔ (بخاری ، 3 / 421 ، حدیث : 5063)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!عاشقانِ رسول کی سُنّتوں بھری دینی تحریک’’دعوتِ اسلامی‘‘ میں شامل ہوجائیے اورسُنتیں سیکھنے سکھانے کےلئے عاشقانِ رسول کے ساتھ مدنی قافلوں میں سُنتوں بھرا سفر اختیارکیجیے۔عظیم عاشقِ سُنّت ،امیرِاہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیا س عطار قادری رضوی ضیائی دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ جنہوں نےاِس زمانے میں سُنّتوں کی ایسی دُھوم مچائی ہے کہ بچے بچے کو عمامہ شریف کا تاج سجا کر سُنت ِ رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا متوالا بنادیا ہے۔آپ فرماتےہیں : ہم اہلِ سنّت ہیں اور ہمیں آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سُنّت سے پیار ہے۔(مدنی مذاکرہ،10ربیع الاوّل1438 بمطابق9دسمبر 2016)
شہا!ایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں
تری سنّتیں سکھانا مَدنی مدینے والے (وسائلِ بخشش، ص428)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع