دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ilm o Ulama | فیضانِ علم و علما

book_icon
فیضانِ علم و علما

علم چاہیے یا بادشاہت؟

       (حضرت سیِّدُنا) ابن عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا سے منقول ہے کہ (حضرت سیِّدُنا) سلىمان عَلَیْہِ السَّلَام کو علم اور مال مىں مُـخَیَّرکىا گىا(اختیاردیاگیا) کہ مُلک(بادشاہت) ومال لو ىا علم اختىار کرو۔ آپ(عَلَیْہِ السَّلَام) نے علم اختىار کىا ملک ومال بھى حاصل ہوا۔([1])

حضراتِ انبیااور علم :

       اے عزىز! علم سے بہتر کوئى چىز نہىں۔ (حضرت سیِّدُنا)آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو علم اَسما (اشیاءکے ناموں کے علم)نےمسجودىِ ملائکہ(فرشتوں سے سجدہ کی نعمت) اور حضرت خضر کو علم لَدُنّی([2])نےاُستاذى موسٰی عَلَیْہِمَا السَّلَام(کاشرف دلوایا)اور (حضرت سیِّدُنا) یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کو علم تعبىر (خوابوں کی تعبیرکے علم) نے مصر کى بادشاہی اور (حضرت سیِّدُنا) سلىمان عَلَیْہِ السَّلَام کو علم مَنْطِقُ الطَّیْر (پرندوں کی بولیاں سمجھنے کے علم) نے بلقىس سى عورت (دلوائی) اور (حضرت سیِّدَتُنا)مرىم کو علم عىسٰی عَلَیْہِمَا السَّلَام نے تَشنىعِ قوم (لوگوں کی ملامت) سے نجات دی۔ اىک نکتَۂ علمی (علم کی معنیٰ خیزبات) نے مورِ ضعىف (کمزور چیونٹی۱۲) کا ىہ مرتبہ کىا کہ پَروردگار(عَزَّ  وَجَلَّ) نے اُس کا قصہ قرآن مىں بىان فرماىا۔جوشخص علم کى قدرومنزلت جانتاہے سلْطنتِ ہَفْت کِشْوَر(ساری دنیا کی بادشاہت)اُس کے نزدىک کچھ قدر وقىمت نہىں رکھتى۔

علم کی لذت :

       نقل(منقول) ہے کہ اىک امىدواربادشاہ کے دربار مىں گىا۔ بادشاہ نے کہا :  تو جاہل ہے، ہمارى خدمت کے لایق(لائق) نہىں۔ اُس نے امام غزالى(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی) سے علم حاصل کىا اور اُس کى لذت اور دنىا کى آفت اور صحبت مُلوک واُمَراء کی مَضَرّت(بادشاہوں اور سرداروں کی صحبت کے نقصان) سے واقف ہوا۔ اىک روز بادشاہ نے اُسے بلاىا اور امتحان کے بعد فرماىا :  اب تو ہمارى ملازمت کے لایق (لائق) ہوگىا، جو عہدہ چاہىئے حاضر ہے۔ اُس نے کہا :  جب(اُس وقت) مىں آپ کے کام کا نہ تھا اور اب آپ مىرے کام کے نہىں، جب آپ نے مجھے پسند نہ کىا اور اب مىں آپ کو پسند نہىں کرتا۔

مانع پنجم(پانچویں رکاوٹ) :

       تَحصىلِ مال(مال کا حُصول) اورظاہر ہے کہ ثَروتِ فانى(دولت فانی) اس دولتِ باقى کے برابر نہىں ہوسکتى۔ مال رہ جاتا ہے اور علم قبر مىں ساتھ جاتا ہے اور ہروقت مدد کرتا رہتا ہے ىہاں تک کہ بِہِشْت(جنت) مىں لے جاتا ہے۔ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے اور علم پڑھانے(دوسروں کو سیکھانے)سے بڑھتا ہے۔ مالدار مال کا نگہبان ہے اور علم عالم کى نگہبانى کرتا ہے۔ علاوہ برىں(نیز) جو شخص خدا( تعالیٰ ) کے واسطے تحصىل مال پر طلبِ علم کو ترجىح دىتا ہے خدا(عَزَّ  وَجَلَّ) اُسے محتاج نہىں رکھتا۔ (حضرت سیِّدُنا)امام غزالى(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی) احىاء العلوم مىں رواىت کرتے ہىں : مَنۡ تَفَقَّهَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کَفَاہُ اللّٰہُ تَعَالٰی مَا اَھَمَّهٗ وَ رَزَقَهٗ مِنۡ حَیۡثُ لَایَحۡتَسِب (ترجمہ) جو شخص دىن خدا مىں دانائی حاصل کرتا ہے خدائے  تعالیٰ جَلَّ شَانُہ اُس کو اُس چىز سے کہ غمگين کرے کفاىت  کرتا ہے(یعنی اس کے غموں کو دور کرتا ہے) اور اس کو اىسى جگہ سے کہ نہىں جانتا رزق پہونچاتا ہے([3])۔ ([4])

مانع ششم(چھٹی رکاوٹ) :

       خطرِ مآل(انجام کاخوف) کہ جب آدمى قلتِ عمر(مختصر زندگی) اور کمى فرصت (فراغت کی کمی) کو خىال کرتا ہے گھبرا کر کہتا ہے : ”علم بحر بےکنار (وسیع سمندر) ہے، اس تھوڑے وقت مىں عبور اس سے(اسے پارکرلینا) دُشوار ہے۔“اور ىہ (خیال) محض جہالت ہے۔ ہرچند (کسی صورت)کمال اِس دولت کا(سارا کا ساراعلم) کسى کو حاصل نہىں ہوتایہاں تک کہ سرورِعالَم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو حکم ہوتا ہے وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا ۔([5]) مگر کوئى طالب علم محروم نہىں رہتا۔

        نتىجہ عُلومِ دىنىہ کا(دینی علوم کی انتہا) کسى حد پر موقوف نہىں جس قدر حاصل ہوگا فائدہ بخشے گا۔ بالفرض اگر مطلب(جتنا علم حاصل کرنامقصودہواس) کو نہىں پہونچے گا اور اس(علم کی) طلب مىں مرجائے گا (تو)قىامت کے دن علما کے گروہ مىں اٹھے گا۔

        یہ فائدہ کىا کم ہےجو مآل(انجام) کا اندىشہ اور غم ہے؟ وَلِلّٰہِ دَرُّ مَنۡ قَالَ (کسی نے کیا خوب کہا)    ؎

دَر راہِ تُو بِمِىرَم گرچہ تُرا نَہ بِىنَم         بارے خَلاص ىا بَم اَزننگِ زِندگانى([6])

مجلس علما کے سات فائدے :

       (حضرت سیِّدُنا) فقىہ ابواللىث سمرقندى(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرماتے ہىں کہ جو شخص عالم کى مجلس مىں جاوے اُس کو سات فائدے حاصل ہوتے ہىں اگرچہ اُس سے استفادہ (یعنی اپنی کوشش سے کوئی فائدہ حاصل) نہ کرے۔

(1)اَوَّل : جب تک اُس مجلس مىں رہتا ہے گناہوں اور فسق وفُجور سے بچتا ہے۔

(2)دُوُم : طلَبہ مىں شمار کىا جاتا ہے۔

 



[1]               التفسیر الکبیر، پ۱، سورة البقرة، تحت الآية : ۳۱، ۱/  ۴۱۰

[2]   مفسِّرین نے فرمایا :  علم لَدُنّی وہ ہے جو بندہ کو بطریق الہام(بغیر سیکھے دل میں) حاصل ہو۔(خزائن العرفان، پ ۱۵، الکھف، تحت الایة : ۶۵)

[3]   یعنی اسے وہاں سے روزی دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان نہ ہو۔

[4]           احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب الاول فی فضل العلمالخ ، ۱/  ۲۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن