30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نوىں آىت :
وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًاۚ (پ۲۰، القصص : ۸۰)
کہا اُن لوگوں نے جو علم دیئے گئے خرابى تم پر ثواب خدا کا بہتر ہےاُس کے لئے جو اىمان لائے اور اچھا کام کرے۔
ىہاں(اس آیت طیبہ) سے ظاہر ہوا کہ قدرو منزلت دارِ آخرت کى(آخرت کا مقام ومرتبہ) علما ہى خوب جانتے ہىں۔
دسوىں آىت :
قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ (پ۲۳، الزمر : ۹)
تو کہہ (تم فرماؤ)کىا برابر ہىں وہ لوگ کہ جانتے ہىں اور وہ لوگ جو نہىں جانتے۔
ىعنى جاہل کسى طرح عالم کے مرتبہ کو نہىں پہنچتا۔
(علما کی فضیلت میں) احادیث وآثار
(1)…ترمذى نے رواىت کىا کہ رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سامنے دو آدمىوں کا ذکر ہوا اىک عابد دوسرا عالم، آپ(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے فرماىا : فَضۡلُ الۡعَالِمِ عَلَى الۡعَابِدِ کَفَضۡلِىۡ عَلٰى اَدۡنَاکُمۡ (ترجمہ)بزرگى(فضیلت)عالم کى عابد پر اىسى ہے جىسے میری فضىلت تمہارے کمتر پر۔([1])
(2)…اوروارِد ہوا(یعنی حدیث شریف میں آیا ہے) کہ جب پروردگار(عَزَّ وَجَلَّ) قىامت کے دن اپنى کرسى پرواسطے فىصلہ بندوں کے(یعنی بندوں کے درمیان فیصلہ فرمانے) بىٹھے گا(جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے تو)علما سے فرمائے گا :
اِنِّی لَمۡ اَجۡعَلۡ عِلۡمِیۡ وَ حِلۡمِیۡ فِیۡ کُمْ اِلَّا وَ اَنَا اُرِیۡدُ اَنۡ اَغۡفِرَ لَکُمۡ وَلَا اُبَالِیۡ
خلاصَۂ معنى ىہ ہے کہ مىں نے اپنا علم وحلم (نرمی) تم کو صرف اسى ارادے سے عناىت کىا کہ تم کو بخش دوں اور مجھے کچھ پرواہ نہىں۔([2])
(3)…بىہقى رواىت کرتے ہىں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہىں : اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) بڑا جَواد(سب سے زیادہ نوازنے والا) ہے اور مىں سب آدمىوں مىں بڑا سخی ہوں اور مىرے بعد اُن مىں بڑا سخى وہ ہے جس نے کوئى علم سىکھا پھر اس کو پھىلادىا۔([3])
(4)…(امام)ذہبى نے رواىت کىا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرماىا : قىامت کے دن علما کى دَواتوں کى سىاہى اور شہىدوں کا خون تولا جائے گا رُوشنائی (سیاہی) ان کى دواتوں کى شہىدوں کے خون پر غالب آئے گى۔([4])
(5)…اِحىاء العلوم مىں مرفوعًا([5]) رواىت کرتے ہىں کہ خدائے تعالیٰ قىامت کے دن عابدوں اور مجاہدوں کو حکم دے گا بِہِشْت(جنت) مىں جاؤ۔ علما عرض کرىں گے : الٰہی!انہوں نے ہمارے بتلانے سے عبادت کى اور جہاد کىا۔حکم ہوگا : تم مىرے نزدىک بعض فرشتوں کى مانند ہو، شفاعت کرو کہ تمہارى شفاعت قبول ہو۔ پس (علماپہلے) شفاعت کرىں گے پھر بِہِشْت (جنت) مىں جاوىں گے۔([6])
(6)… اورحدىث شرىف مىں آىا کہ جو شخص طلب علم مىں مرجائے گا خدا(عَزَّ وَجَلَّ) سے ملے گا دراں حالىکہ(اس حال میں کہ) اُس مىں اور پىغمبروں مىں درجَۂ نبوت (اور اس کے کمالات)کے سوا کوئى درجہ نہ ہوگا۔([7])
[2] المعجم الکبیر، ۲/ ۸۴، حدیث : ۱۳۸۱
[3] شعب الایمان، باب فی نشرالعلم، ۲/ ۲۸۱، حدیث : ۱۷۶۷، باختصار
[4] جامع بیان العلم و فضلہ، باب تفضیل العلماء علی الشھداء، ص۴۸، حدیث : ۱۳۹
[5] مرفوع اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچتی ہو۔(نزھة النظر فی توضیح نخبة الفکر، ص۱۰۶)
[6] احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب الاول فی فضل العلم…الخ، ۱/ ۲۶
[7] سنن الدارمی، المقدمة، باب فی فضل العلم والعالم،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع