30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سِوُم : اُن(علما) کى گواہى مانندِگواہى ملائکہ کے(فرشتوں کی گواہی کی طرح)معتبر ٹھہرائى۔
دوسرى آىت : (اس آیت)مىں(اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے) اپنى اور عالم کى گواہى کو کافى فرماىا :
قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْۙ-وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠(۴۳) (پ۱۳، الرعد : ۴۳)
کہہ(تم فرماؤ) کافى ہے اللہ گواہ مىرے اور تمہارے بىچ مىں اور وہ شخص جس کے پاس علم کتاب کا ہے۔
تىسرى آىت :
یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ (پ۲۸، المجادلة : ۱۱)
ىعنى اللہ تعالیٰ بلند کرے گا اُن لوگوں کے جو اىمان لائے تم مىں سے اور ان کے جن کو علم دىا گىا ہے دَرَجے۔([1])
ىہاں(اس آیت) سے ثابت ہوا کہ علم اىمان کى طرح بلندىِ مراتب کا سبب ہے۔
کمالِ ایمان اور خوفِ خدا کا ذریعہ :
چوتھى آىت :
وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖۙ-كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاۚ-وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۷) (پ۳، اٰل عمرٰن : ۷)
اور پکّے لوگ علم مىں(پختہ علم والے) کہتے ہىں ہم(اس پر) اىمان لائے سب ہمارے رب کے پاس سے ہے اور نصىحت نہىں مانتے مگر عقل والے۔
ىہ آىت اہل علم کے کمالِ اىمان وعمل اور نہاىت(انتہائی۱۲) اِنْقِياد(تابع داری۱۲) پر دلالت کرتى ہے۔
پانچوىں آىت :
اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ (پ۲۲، فاطر : ۲۸)
جُزىں نىست(اس کے علاوہ بات کچھ نہیں) کہ ڈرتے ہىں اللہ کے بندوں مىں سے علما([2])۔
اوروجہ اِس حصرکی(یعنی ڈرکو علماکے ساتھ خاص کرنے کی وجہ) ظاہر ہے کہ جب تک انسان خدا کے قہر(غضب) اور بےپرواہى(بےنیازی) اور احوالِ دوزخ اور اَہوالِ قىامت(قیامت کی ہولناکیوں) کو بتفصىل(تفصیل کے ساتھ)نہىں جانتا(اس وقت تک) حقىقت خوف وخشىت کى اُس کو حاصل نہىں ہوتی اور تفصىل ان چىزوں کى علماء کے سوا کسى کو معلوم نہىں۔
چھٹى آىت :
وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ(۷۹) (پ۳، اٰل عمرٰن : ۷۹)
ولىکن تم ہوجاؤ اللہ والے بسبب کتاب سکھانے تمہارے اور بسبب درس کرنے تمہارے کے([3])۔
ىہاں(اس آیت مبارکہ) سے ظاہر ہوا کہ مُقتضائے علم(علم کاتقاضا) یہ ہے کہ آدمى تمام عالَم سے علاقہ(تعلق۱۲) قطع(ختم) کرکے خدا ہى کا ہوجاوے اور اسى سے کام رکھے۔ اسى واسطے عالِم کو ”مَولَوِی“کہتے ہىں، منسوب بَمَولیٰ یعنى اللہ والا۔
ساتوىں آىت :
مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًاؕ (پ۳، البقرة : ۲۶۹)
جوحکمت دىا گىا بہت بھلائى دىا گىا۔
اور ظاہر ہے کہ جو بہت بھلائى دىا گىا اُس کا مرتبہ بھى بہت بڑا ہوگا۔
آٹھوىں آىت :
وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِۚ-وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(۴۳) (پ۲۰، العنکبوت : ۴۳)
ىہ کہاوتىں بىان کرتے ہىں ہم ان لوگوں کے لئے اور نہىں سمجھتے اُن کو مگر جاننے والے (یعنی علم والے)۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع