30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا وصال مبارک ۳۰ذوالقعدہ۱۲۹۷ھ بمطابق1880ء کو 51سال کی عمر میں ہوا۔ تدفین آپ کے والدماجد کے پہلو میں ہوئی۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان پررحمت ہواوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
(ماخوذاز”حضرتِ علامہ مولانا نقی علی خان، حیات اور علمی و ادبی کارنامے“ مطبوعہ : ادارہ تحقیقات امام احمد رضا باب المدینہ کراچی)
قیامت کے روز حسرت
فرمان مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ”قیامت کے دن سب سے زیادہ حسرت اس کو ہوگی جسے دُنیا میں عِلْم حاصل کرنے کا موقع ملا مگر اُس نے حاصل نہ کیا اور اس شخص کو ہوگی جس نے عِلْم حاصل کیا اور دوسروں نے تو اس سے سُن کر نفع اُٹھایا لیکن اس نے نفع نہ اٹھایا(یعنی علم پر عمل نہ کیا)۔(تاریخ دمشق، ۵۱/۱۳۸)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِيْن،
علم، دین کا قطب ہے :
بعد حمد وصلاۃ کے واضح ہو کہ یہ چند فضائل وفوائد علم دىن کے، واسطے ترغىبِ مومنىن کے(مسلمانوں کے شوق کے لئے) لکھے جاتے ہىں۔ امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہىں : علم مدارِ کار اور قطبِ دىن ہے(یعنی علم دین ودنیا میں کامیابی کی بنیاد ہے)۔([1])فِى الواقع(حقیقت میں)کوئى کمال دنىا وآخرت مىں بے(بغیر) اس صفت (علم) کے حاصل اور اىمان بے(بغیر) اس کے کامل نہىں ہوتا۔مصرعہ کہ
بےعِلْم نَتَواں خُدا رَا شَناخْت([2])
اسى جگہ(وجہ) سے کہتے ہىں کہ کوئى راہ جناب اَحَدىّت(اللہ عَزَّ وَجَلَّ) کى طرف (نزدیک) علم سے قرىب تَر اور کوئى چىز خدا (عَزَّ وَجَلَّ) کے نزدىک جہل(بےعلمی) سے بدتَر نہىں۔
اَلْعِلْمُ بَابُ اللّٰہِ الْاَقْرَبُ، وَالْجَھْلُ اَعْظَمُ حِجَابٍ بَیْنَکَ وَبَیْنَ اللّٰہ([3])۔
علم موجِب حىات(زندگی کا باعث)بلکہ عَینِ حىات اور جہل(بے علمی) مورثِ موت (موت کا سبب)بلکہ خود موت ہے۔
لَاتَعۡجَبْ عَلَی الۡجَھُوۡلِ حِلۡيَةً فَذَاکَ مَيۡتٌ وَثَوۡبُه كَفَنٌ([4])
اگر خدا ( تعالیٰ )کے نزدىک کوئی شی(شے) علم سے بہتر ہوتى آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو مقابلہ ملائکہ(فرشتوں کے مقابل) مىں دى جاتى۔ تسبىح وتقدیس(پاکی بیان کرنا) فرشتوں کى، ”علم اسماء“ کے برابر نہ ٹھہرى(تو پھر) علم حقائق و دیگر عُلومِ دینیہ کی بزرگی کس مرتبہ میں ہوگی؟([5]) مصرعہ :
قِىاس کُن زِ گُلِستانِ مَن بَہارِ مَرا([6])
قرآن کریم میں فضائلِ علما کا بیان
آیات : (پہلی آیت)اللہ جَلَّ جَلَالُہ وَعَمَّ نَوَالُہ فرماتا ہے :
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىٕمًۢا بِالْقِسْطِؕ (پ۳، اٰل عمرٰن : ۱۸)
گواہى دى اللہ نے کہ کوئى بندگى کے لائق نہىں سوا اس کے اور فرشتوں نے اور عالموں نے۔ وہ(اللہ)باانصاف(انصاف والا) ہے۔
اس آىت سے تىن فضىلتىں علم کى ثابت ہوئىں :
اَوَّل : خدائے عَزَّ وَجَلَّ نے علما کو اپنے اور فرشتوں کے ساتھ ذکر کىا اور ىہ اىسا مرتبہ ہے کہ نہاىت(انتہاء۱۲) نہىں رکھتا۔
دُوُم : اُن(علما) کو فرشتوں کى طرح اپنى وحدانىت(ایک ہونے)کا گواہ اور اُن کى گواہى کووَجہِ ثبوت اُلوہِىّت(اپنے معبود ہونے کی دلیل) قراردىا۔
[1] احیاء علوم الدین، کتاب العلم، الباب الاول فی فضل العلم…الخ، ۱/ ۲۹
[2] بغىرعلم کے خدا کو پہچان نہىں سکتے۔۱۲م
[3] علماللہ(عَزَّ وَجَلَّ)کاقرىب تَردروازہ ہے اورجہل(بے علمی)تمہارے اورخدا( تعالیٰ )…☜ کے درمىان سب سے بڑا حجاب(بڑی رکاوٹ) ہے۔۱۲م
[4] جاہل کے جسم پر (موجود) کسی زیور سے حیرت میں نہ پڑو کہ وہ تو مردہ ہے اور اس کا جامہ(لباس) کفن(ہے۔)۱۲ مترجم(تفسیر النسفی، پ۹، سورة الانفال، تحت الآية : ۲۴، ص۴۰۹، بتغیر لفظ)
[5] یعنی جب علم اسما کی یہ شان ہے تو پھرعلم حقائق وغیرہ کا کیا مقام ہوگا۔
[6] میرے باغ سے ہی میری بہار کا اندازہ کرلے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع