30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہلے اسے پڑھ لیجئے
امام اہلسنّت، مجدد اعظم امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے والدماجد تاجُ العلما، رَئِیسُ الْمُتَکَلِّمِیْن حضرت علامہ مولانا مفتی نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان (ولادت : ۱۲۴۶ھ، وفات : ۱۲۹۷ھ) نے مختلف عنوانات پر تقریباً 40 کتب ورسائل تصنیف فرمائے، جن میں سے ایک ”فَضْلُ العِلم والعلماء“بھی ہے۔ اس مختصر مگر کثیر اور عظیم فوائد پر مشتمل رسالے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حُصولِ علم کی فضیلت، علما وطلبا کی شان وعظمت، ان کی صحبت کی برکت اور ان کی مالی معاونت کو قرآن وحدیث اور بزرگوں کے اقوال کی روشنی میں بڑے ہی خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے۔
رسالہ چونکہ اللہ تَعَالٰی کے ایک کامل ولی کا ہے اور بڑی خوبیوں پر مشتمل ہے نیز ایک عرصہ سے نایاب تھا، اس لئے شیخ طریقت، امیْرِاہلسنت، بانِیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّاؔرقادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ(دعوتِ اسلامی)سے اس بات کی خواہش ظاہر فرمائی کہ مجلس اس رسالے کو کتابت کے جدید تقاضوں کے مطابق تسہیل وتخریج وغیرہ کے ساتھ طبع(شائع)کروانے کی ترکیب بنائے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ!مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ کے حکم پر یہ سعادت شعبہ تراجِمِ کُتُب (عربی سے اُردو) کے حصہ میں آئی۔ شعبہ نے اس پر درج ذیل کام کئے ہیں :
(1)…آیاتِ مبارَکہ P.D.Fسے پیسٹ کی گئیں ہیں تاکہ غَلَطی کا اِمکان کم ہو۔
(2)…جہاں آیاتِ مبارکہ کا ترجمہ مشکل تھا وہاں متن میں ہلالین ()کے ساتھ یا پھر حاشیہ میں ترجَمۂ کنزالایمان سے تسہیل کی گئی ہے۔
(3)…احادیثِ مبارَکہ کی تخریج حتَّی المقدور اصل ماخَذ سے کی گئی ہے۔
(4)…مشکل الفاظ کی تسہیل سادہ اور مُنقَّش ہلالین میں دی گئی ہے اور بڑے جملوں کی تسہیل حاشیہ میں، جبکہ حضرت مصنفرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہیا محشی ومترجم کی طرف سے دی گئی تسہیل کو12کے عدد کے ساتھ ہلالین میں رکھا گیا ہے۔
(5)…عمدۃُ الْاذکِیا علامہ محمداحمدمصباحیزِیْدَمَجْدُہٗ(صدرالمدرسین الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، ہند)کے تراجم وحواشی کو برقرار رکھا ہے۔
(6)…تسہیل کے لئے حتَّی المقدور آسان اور عام فہم الفاظ استعمال کئے ہیں۔
(7)…ضروری اور مفید حواشی کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔
(8)…آیات وروایات اورمضامین کے پیش نظر نئے عُنوانات قائم کئے ہیں نیز بزرگوں کے ناموں کے ساتھ ”حضرتِ سیِّدُنا“ اور ”دعائیہ کلمات“ کا اضافہ کیا ہے۔
(9)…علاماتِ ترقیم (رُموزاوقاف) کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
(10)…جن فارسی اشعارکاترجمہ نہیں تھاان کا ترجمہ کردیاگیا ہے ۔
(11)…عنوانات ا ورماخَذ ومراجع کی فہرست بھی بنائی گئی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس رسالے کو ہرعام وخاص کے لئے نفع بخش بنائے اور ہمیں اس مختصر رسالے کو نہ صرف خود مکمل پڑھنے کی بلکہ دیگر اسلامی بھائیوں تک پہنچانے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
شعبہ تراجِمِ کُتُب (مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ)
(رَئِیْسُ الْمُتَکَلِّمِیْن مفتی نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن)
ولادت :
تاجُ العلما، رأسُ الفُضَلا، رَئِیسُ الْمُتَکَلِّمِیْن، حضرت علامہ مولانا مفتی نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی ولادتِ باسعادت یکم رجب المرجب۱۲۴۶ھ بمطابق1830ء، بریلی شریف کے محلہ ذخیرہ میں ہوئی۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے علومِ عقلیہ ونقلیہ کی تعلیم اور دینی تربیت اپنے والد ماجد مولانا رضا علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے پائی۔ آپ کو مختلف علوم وفنون پر کامل مہارت حاصل تھی گویا کہ آپ علم وعمل کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھے۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے زبان وبیان، درس وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ذریعے جو دینی خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک مُسلَّمہ حقیقت ہیں۔ آپ نے ساری زندگی دین کی نشر واشاعت اور ناموسِ رسالت کی حفاظت کے لئے مسلسل کوشش فرمائی۔
آپ نے مختلف علوم وفنون اور موضوعات پر بےمثال کتابیں لکھیں۔ آپ کے شہزادے مجدداعظم، سیِّدُنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے آپ کی 25 سے زیادہ کتابوں کا تذکرہ کیا ہے۔ آپ کی مطبوعہ کتب میں سے سُرُوْرُ الْقُلُوْبِ فِی ذِکْرِ الْمَحْبُوْب اور اَلْکَلاَمُ الْاَوْضَحُ فِی تَفْسِیْرِ اَلَمْ نَشْرَح (المعروف : انوارِ جمالِ مصطفٰے) نے زیادہ شہرت پائی۔ فن تحریر وتقریر کے ساتھ ساتھ آپ ایک مایہ ناز مدرس بھی تھے۔ آپ کے شاگردوں میں سے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان اور مولانا حسن رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کی شخصیات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع