30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(حضرت سیِّدُنا)امام مُحِىُّ السُّنہ بَغَوى سعىد بن جُبىر(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا) سے نقل کرتے ہىں کہ ہلاکِ خَلْق(مخلوق کی بربادی)کى علامت موت علما کى ہے ىعنى جب علما مرجاو ىں گے لوگ ہلاک ہوجاوینگے۔([1])
اور (حضرت سیِّدُنا) عطا خُراسانى(قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی) قولہ تعالىٰ(اس فرمانِ باری تعالیٰ )” اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَاؕ ([2]) “کى تفسىر مىں فرماتے ہىں کہ نقصانِ زمىن سے علما اور فُقہا کى موت مراد ہے کہ جب علما نہ رہىں گے خلق (مخلوق) بىلوں اور گدھوں کے مانند عقل سے بےبہرہ(محروم) اور شُتر بےمہار (آوارہ اونٹوں) کى طرح بےباک(بے پروا) اور بےقىد(آزاد)ہوجاوىں گے۔ اُس وقت انتظام عالَم (دنیا کا نظام) درہم برہم ہوجاوے گا اور قتل اور غارت اور وَباو طاعون کى کثرت ہوگی (یعنی علم وعلماسے محرومی ان آفات کا سبب ہے)۔ پس زمىن چار طرف سے وىران اور خلق(مخلوق) روزبروز کم ہوگى یہاں تک کہ قىامت قائم ہوجائے۔
اورظاہر ہے کہ مقصود پىدائش عالَم (جن وانس کی تخلیق)سے(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی)معرفت(پہچان) وعبادت ہے([3]) اور جب عالم(علم والے) نہ رہىں گے عبادت کون کرے گا اور جب عالَم(جہان) اِن دونوں(معرفت اور عبادت) سے خالى ہوجاوے گا اور مقصود پر مشتمل نہ رہے گا نِکَمَّا(بے کار) اور مٹانے کے قابل ٹھہرے گا۔ یہاں سے ظاہر ہوا کہ جس طرح دىن کا باقى رہنا بےعلم دُشوار ہے اسى طرح بقاءِ عالَم (جہان کا باقی رہنا) بھى بےاس(بغیرعلم) کے بىکار۔ پس اس دولت(علم) کو کھونا دونوں عالَم(دنیا وآخرت) کى زندگى سے ہاتھ دھونا ہے۔
اے مسلمانو! خدا کے واسطے خواب غفلت سے بىدار ہو اور علم دىن کو کہ آمادۂ سفرآخرت ہے(یعنی دنیا سے رخصت ہونے کو ہے، اسے) روکو۔ دنىا کے جھگڑوں مىں شب وروز مشغول رہتے ہو کسى وقت تو اِدھر بھى توجہ کرو۔ ہزاروں روپىہ آسائش فانى(ختم ہوجانے والی راحت) کے واسطے صرف کرتے ہو کچھ تو راحتِ جاوِدانى(ہمیشہ رہنے والی راحت) کے لئے خرچ کرو کہ وہاں تمہارے کام آوے اور ىہاں تم کو ہربلا سے بچاوے۔ اىک عرصہ کے بعد ندامت اٹھاؤ گے ہرچند(کتنی ہی) کوشش کرو گے اس دولت کو نہ پاؤ گے۔
بعض صاحب اىسى باتىں سُن کر تىن عذر پىش کرتے ہىں۔
(1)…اَوّل : کہتے ہىں کہ ہم نادار(غریب) اور قرضدار ہىں۔
سو اگر یہ بىان غلط ہے جب تو بڑا ہى غضب ہے، بالفرض اگر خلق(لوگوں) نے سچ جانا(یعنی انہیں ناداروقرضدار سمجھامگر) خدا(عَزَّ وَجَلَّ) کے نزدىک تو جھوٹے ٹھہرىں گے اور جو سچ ہے(یعنی اگر حقیقت میں مفلس وقرضدار ہیں) تو دنىا كے کاموں مىں ہزاروں روپىہ بےفائدہ اٹھانا(خرچ کرنا)اور خدا( تعالیٰ )کے کام مىں مآل سوچنا (انجام کی فکر کرنا)نِرى ناشکرى ہے۔ اگر قرض سے ڈرتے(تو ضرور)سامانِ اِمارت (امیری کی علامات) اور تکلفِ رىاست(سرداری کی نمائش) دور کرتے۔
(2)…دُوُم : کہتے ہىں کہ ہم اپنى توفىق کے موافق دوسرے امر خىر(نیک کام) مىں صرف (خرچ)کرتے ہىں۔
سو اگر ہوسکے اِس(کام) مىں بھى صرف کرىں، نہىں تو دونوں کاموں کو مىزانِ عقل(عقل کے ترازو) سے تولىں جس مىں زىادہ ثواب دىکھىں اختىار کرىں۔
(3)…سِوم : کہتے ہىں : ىہ کام کچھ فرض نہىں، جس کو خدا(عَزَّ وَجَلَّ) توفىق دے (وہ)کرے ، ہم سے تو فرائض بھى نہىں ادا ہوسکتے۔
سو یہ کىا ضرور ہے جو روزہ نہ رکھے نماز بھى نہ پڑھے!(انہیں چاہیے کہ) فرائض بھى ادا کرىں اور علم فرائض کى تروىج(نشرواشاعت) مىں بھى مشغول رہىں۔ اگر زىادہ نہ ہوسکے بقدر زکوٰة ہى کے دىں کہ زکوٰة خدا( تعالیٰ ) کا قرض اور ان (مالداروں) پر فرض ہے۔ اگر ىہاں نہ دىں گے قىامت کے دن سخت مصىبت مىں پڑىں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴) یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ(۳۵) (پ۱۰، التوبة : ۳۴، ۳۵)
جو لوگ جمع کرتے ہىں سونا اور چاندى اور اُس کو خدا کى راہ مىں خرچ نہىں کرتے اُن کو بشارت دے ساتھ دکھ دىنے والى مار (دردناک عذاب) کے جس دن گرم کىا جائے گا وہ سونا چاندى دوزخ کى آگ مىں پھر داغى جاویں گى اُس سے اُن کى پىشانىاں اور کروٹىں اور پىٹھىں یعنى پھر اُن سے کہا جاوىگا یہ وہ ہے جو تم نے جمع کىا اپنى جانوں کیلئے پس چکھو جو تم جمع کرتے تھے۔
غنی طالب علم کو زکوٰۃ لینا کیسا؟
اورىہ بھى سمجھ لو کہ غنى طالب علم کو زکوٰة لىنا جائز ہے اگر طلب علم مىں (دورانِ تعلیم) کسب کى فرصت نہ رکھتا ہو۔ دُرِّمُختار مىں لکھا ہے : وَبِھٰذَا التَّعۡلِیۡلِ یَقۡوٰی مَا نُسِبَ لِلۡوَاقِعَاتِ مِنۡ اَنَّ طَالِبَ الۡعِلۡمِ يَجُوۡزُ لَهٗ اَخۡذُ الزَّكٰوةِ وَلَوۡ غَنِيَّا اِذَا فَرَّغَ نَفۡسَهٗ لِاِفَادَةِ الۡعِلۡمِ وَاِسۡتِفَادَتِهٖ بِعِجۡزِهٖ عَنِ الۡكَسَبِ، وَالۡحَاجَةُ دَاعِيَةٌ اِلٰى مَالَابُدَّ مِنۡهُ، ھٰکَذَا ذَکَرَہُ الۡمُصَنِّفُ([4])
اورجو اہل زکوٰة احتىاطاً مہتمم مَدْرَسہ سے کہہ دىں کہ ہمارا روپىہ محتاج طلبہ کو دىا کرو، (یہ) بہتر ہے۔ ھٰذَا۔ وَاللّٰہُ اَعۡلَمُ بِالصَّوَابِ وَاِلَیۡهِ الۡمَرۡجِعُ وَالۡمَاٰبُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع