30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(3)…سِوُم : طلب علم کا ثواب پاتا ہے۔
(4)…چہارُم : اُس رحمت مىں کہ جلسَۂ علم(علم کی مجلس) پر نازل ہوتى ہے شرىک ہوتا ہے۔
(5)…پنجم : جب تک علمى باتىں سنتا ہے عبادت مىں ہے۔
(6)…ششم : جب کوئى دقىق(مشکل) بات اُن(علما) کى اِس کى سمجھ مىں نہىں آتى (تو)دل اس کا ٹوٹ جاتا ہے اور شکستہ دلوں(ٹوٹےدل والوں) مىں لکھا جاتا ہے۔([1])
(7)…ہَفتُم : علم وعلما کى عزت اور جہل وفسق(بے علمی وبرائی) کى ذلت سے واقف ہوجاتا ہے۔([2])
کہتا ہوں مىں : جو ثواب کہ عالم کى زىارت اور اُس کى مجلس مىں حاضر ہونے پر موعود(یعنی جس ثواب کا وعدہ) ہے(وہ)اس سے علاوہ ہے۔
نہ ملنا اُستاذ شفىق کا(یعنی مہربان استاذ کا نہ ملنا بھی حُصولِ علم میں رکاوٹ بنتا ہے)۔
مانع ہشتم(آٹھویں رکاوٹ) :
فکرِمَعاش(کمانےکی فکر)اورمراد اس سے بقدر ضرورت ہے کہ زائد (ضرورت سےزیادہ) زائد(فضول) ہے۔
اور ىہ دونوں (آخری رکاوٹیں)بہ نسبت اور موانع(دیگررکاوٹوں) کے قوی (بڑی) ہىں کہ جب استاذ شفقت سے نہ پڑھاوے گا شاگرد کو کىا آوے گا اور جس کو رزق نہ ملے گا علم پر کس طرح محنت کرے گا۔مصرعہ(مشہورہے : )
پَراگَندَہ رُوزى پَراگَندَہ دِل([3])
اوربڑى وجہ ان(آخری دونوں رکاوٹوں) کى قوت کى ىہ ہے کہ دفع(دور کرنا) اِن کاطلبہ کے اختىار مىں نہىں۔
امداد علم کیلئے اغنیاءِ اسلام سے خطاب :
ہاں رؤساءِ کرام (معززنواب)اور اغنىاءِ اہل اسلام(دولت مند مسلمان) اگر اىک دومُدرِّس(پڑھانے والے) اور کسى قدر وظىفہ طلَبہ کے واسطے مقرر کردىں تو طلبہ اِن دونوں موانع(رکاوٹوں) سے نجات پاکر بَفراغِ خاطر(دل جمعی کے ساتھ) طلَبِ علم مىں کوشش کرىں اور جس قدر ثواب پڑھانے اور پڑھنے والوں کو کہ حد ونہاىت نہىں رکھتا(بےانتہا)ملے اُس قدر(اُتناہی) بلکہ اُس سے زىادہ(ثواب) مدرَسہ جارى کرنے والوں خصوصًا اس شخص کو جو اوروں(دوسروں) کو اِس امرِخىر(نیک کام) کى ترغىب دے حاصل ہو۔
صحىح حدىث مىں آىا ہے : اَلدَّالُّ عَلَی الۡخَـیۡرِ کَفَاعِلِهٖ (ترجمہ)بھلائى پر دلالت(راہ نمائی) کرنے والا مانند بھلائى کرنے والے کے ہے(یعنی بھلائی کرنے والے کی طرح)۔([4])
سِوا اِس کے(اس حدیث شریف کے علاوہ) صِحاح سِتّہ([5]) کى اور کئى حدىثىں بھى اس مضمون پر دلالت کرتى ہىں۔ جس کا جى چاہے دىکھ لے اور ىہ بھى سمجھ لو کہ اجر (وثواب) اعمال کا باعتبار اوقات واحوال کے(وقت اور حالت کے لحاظ سے) مختلف ہوتا ہے۔ اسى واسطے ثواب صحابہ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کا جنہوں نے ابتداءِ اسلام مىں تروىج علم(علم کی نشرواشاعت) اور تائىددیں(دین اسلام کی حمایت وسربلندی) مىں جاں نثارى(جانوں کی قربانیاں دیں) اور کوشش کى اور(دیگر) لوگوں کے ثواب سے مراتب(درجے)مىں(ان کا ثواب) زىادہ ہے۔ پس جو لوگ اس زمانے مىں کہ وقتِ غربتِ اسلام(اسلام سے دوری کا زمانہ) ہے تروىج علم اور تائىد دىن مىں کوشش کرىں گے اگلے بادشاہوں اور امىروں سے جنہوں نے اس باب(اشاعتِ علم اور حمایتِ دین) مىں سعى(کوشش) کى وہ زىادہ ثواب پاوىں گے کہ وہ(بادشاہ اور امیر لوگ) بہ نسبت اِن(اِس زمانےوالوں) کے زىادہ قدرت اور ثَروت(دولت) رکھتے تھے اور اُن کے وقت مىں علم کى روز بَروز ترقى تھی بخلاف اس زمانہ کے کہ خلق (مخلوق) مَحبتِ دنىا مىں مشغوف(رغبت رکھتی)اوربہمہ تن(مکمل طور پر) اس کى طلب مىں مصروف ہے اور علم دىن کم ہوتا جاتا ہے، نہ کوئى پڑھتا ہے نہ پڑھاتا ہے۔
اگر ىہى صورت رہى تو چند(تھوڑے)عرصہ مىں علم کا نشان ان ملکوں (برصغیر پاک وہند وغیرہ) مىں باقى نہ رہے گا اور جب علم نہ رہے گا دىن بھى نہ رہے گا۔ عوام فرائض وواجبات(فرض اور واجب باتیں)، احکامِ صوم وصلاة(نمازروزہ کے احکام) کس سے درىافت کرىں گے اور شىطان کے وسوسوں اور اس کے اعتراضوں کے جواب کس سے پوچھىں گے؟آخرکار گمراہ ہوجاوىنگے([6]) اور جو لوگ تقلىدًا(دیکھا دیکھی) دىن پر ثابت قدم رہىں گے نام کے مسلمان رہ جاوىنگے۔
[1] دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ318صفحات پرمشتمل کتاب ”فضائل دعا“صفحہ70 پر مولانا نقی علی خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ دلِ شکستہ سے بہت قریب ہے۔ حدیثِ قُدسی میں ہے : ((اَنَا عِنْدَ الْمُنْکَسِرَةِ قُلُوْبُھُمْ لِاَجْلِی) ۔ ترجمہ : میں ان دلوں کے پاس ہوتا ہوں جو میری خاطر ٹوٹتے ہیں۔(مجموعةرسائل الامام الغزالی، بدایة الھدایة، ص۳۹۶)
[2] تنبیہ الغافلین، باب فضل مجالس العلم، ص۲۳۷، بتغیر
[3] تنگدستی وغریبی بےسکونی وپریشان حالی ہے۔
[4] ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء الدال علی الخیر کفاعلہ، ۴/ ۳۰۵، حدیث : ۲۶۷۹
[5] صِحاح سِتّہ سے مراد حدیث کی چھ مشہور کتابیں بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع