دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ihya ul Uloom | فیضان احیاءالعلوم

ALLAH Ka Khauf Aur Uski Rahmat Say Umeed

book_icon
فیضان احیاءالعلوم
            

فصل نمبر ۵

غلبئہ خوف افضل ہے یا غلبہ رجاء یا اعتدال:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سطور ذیل میں سیدنا امام غزالی ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) خوف اور امید کے بارے میں مختلف روایات کی تطبیق کرتے ہوئے درست ترین تجزیہ فرمارہے ہیں جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے ۔ جان لو کہ خوف اور امید کے بارے میں بے شمار روایات آئی ہیں بعض اوقات کوئی شخص ان دونوں کو دیکھتا ہے تو اسے شک ہوجاتا ہے کہ ان دونوں میں سے کیا افضل ہے اور کسی قائل کا یہ قول کہ خوف افضل ہے یا امید‘ ایک فضول سوال ہے کیونکہ یہ اس بات کی طرح ہے کہ روٹی افضل ہے یا پانی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بھوکے کے لئے روٹی افضل ہے اور پیاسے کے لئے پانی اور اگر پیاس غالب ہو تو پانی افضل ہے اور اگر دونوں برابر ہوں تو روٹی اور پانی دونوں مساوی ہوں گے اس لئے کہ جو چیز کسی مقصود کے لئے مراد ہو تو اس کی فضیلت مقصود کی طرف اضافت کے اعتبار سے ہوتی ہے ذاتی طور پر نہیں اور خوف و امید دو دوائیں ہیں جن کے ساتھ دلوں کا علاج کیا جاتا ہے لہٰذا ان کی فضیلت اس بیماری کے اعتبار سے ہوگی جو موجود ہے چنانچہ اگر دل پر اﷲ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوفی اور غرور کی بیماری غالب ہو تو خوف افضل ہے اور اگر اﷲ تعالیٰ کی رحمت سے نا امیدی غالب ہو تو امید افضل ہے اسی طرح اگر بندے پر گناہ غالب ہو تو خوف افضل ہے۔ اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ خوف افضل ہے جس اعتبار سے یہ کہا جاتا ہے کہ روٹی سکنجبین سے افضل ہے کیونکہ روٹی کے ساتھ بھوک کی بیماری کا علاج کیا جاتا ہے اور سکنجبین کے ساتھ صفراء کی بیمای کا اوربھوک کی بیماری زیادہ بھی ہے اور غالب بھی لہٰذا روٹی کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے پس وہ افضل ہے اسی طرح غلبۂ خوف افضل ہے کیونکہ گناہ اور مخلوق کادھوکے میں ہونا زیادہ پایا جاتا ہے۔ اور اگر ان کے منبع کو دیکھا جائے تو امید افضل ہے کیونکہ اسے بحر رحمت سے سیراب کیا جاتا ہے اور خوف غضب کے سمندر سے سیراب ہوتا اور جو شخص اﷲ تعالیٰ کی ان صفات کی طرف نظر کرتا ہے جو لطف ورحمت کوچاہتی ہیں تو اس پر محبت غالب ہوتی ہے اور محبت سے اوپر کوئی مقام نہیں ۔جہاں تک خوف کا تعلق ہے تو اس کی نسبت ان صفات کی طرف ہوتی ہے جونفرت کو چاہتی ہیں تو محبت جس طرح امید سے ملتی ہے خوف سے نہیں ملتی۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!خلاصہ یہ ہوا کہ جو چیز کسی غیر کے لئے وسیلہ ہوتی ہے اس کے لئے لفظ اصلح (زیادہ بہتر) استعمال کرنا مناسب ہے لفظ افضل نہیں‘ پس ہم کہتے ہیں کہ اکثر لوگوں کے لئے امید کے مقابلے میں خوف اصلح (یعنی زیادہ بہتر)ہے کیونکہ گناہوں کا غلبہ ہے لیکن متقی شخص جس نے ظاہری اور باطنی پوشیدہ اور واضح گناہ ترک کردیئے تو زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کا خوف اور امید اعتدال پر ہوں اسی لئے کہا گیا ہے کہ اگر مومن کے خوف اور امید کا وزن کیا جائے تو دونوں برابر ہوں گے۔

خوف و امید :

مروی ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنے کسی صاحبزادے سے فرمایا اے میرے بیٹے ! اﷲ تعالیٰ سے اس طرح خوف کھاؤ کہ تمہارے خیال میں اگر تم تمام زمین والوں کی نیکیاں بھی اس کے پاس لاؤتو وہ تم سے ان کو قبول نہ کرے اور اﷲ تعالیٰ سے امید اس طرح رکھو کہ تم سمجھو کہ اگر تمام اہل زمین کی برائیاں بھی اس کے پاس لاؤ تو وہ تمہیں بخش دے گا۔ اسی لئے کہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںکہ اگر آواز دی جائے کہ ایک آدمی کے علاوہ سب لوگ جہنم میں چلے جائیں تو مجھے امید ہے کہ وہ آدمی میں ہوں گااور اگر آواز دی جائے کہ ایک آدمی کے سوا سب لوگ جنت میں چلے جائیں تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ ایک شخص میں نہ ہوں … تو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جیسے لوگوں کے خوف اور امید کا مساوی ہونا مناسب ہے لیکن جب کوئی گناہ گار شخص یہ گمان کرے کہ اسے جہنم میں داخلے کے حکم سے اس مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے تو یہ اس کے دھوکے کی دلیل ہے۔

سوال :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جیسے لوگوں کا خوف اور امید ایک جیسا نہیں ہونا چاہئے بلکہ مناسب یہ ہے کہ ان کی امید غالب ہو جیسا کہ امید کے بیان کے آغاز میں گزر چکا ہے اور امید کی قوت اس کے اسباب کے اعتبار سے ہونا مناسب ہے جیسے کھیتی اور بیج کی مثال ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ جو شخص اچھی زمین میں صحیح بیج ڈالتا ہے اور اسے مسلسل تیار کرتا ہے اور زراعت کی تمام شرائط کو پورا کرتا ہے اس کے دل میں فصل حاصل کرنے کی امید غالب ہوتی ہے اور اس کا خوف اس کی اس امید کے مساوی نہیں ہوتا تو متقی لوگوں کے احوال کا اسی طرح ہونا مناسب ہے۔

جواب :

امام غزالی علیہ الرحمۃ اس سوال کا یہ جواب ارشاد فرماتے ہیں کہ جان لو ! جو شخص معرفت کو الفاظ اور مثالوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے وہ زیادہ غلطی ہے اگر ہم اس کی مثال پیش کریں تو وہ ہمارے زیر بحث مسئلہ کی طرح کسی صورت میں نہیں ہوگا۔ کیونکہ غلبۂ امید کا سبب وہ علم ہے جو تجربہ سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ کسان نے تو تجربہ سے زمین کا صحیح اور صاف ہونا‘ بیج کی صحت ہوا کا صحیح ہونا اس زمین میں اور اس کے علاوہ ہلاک کرنے والی بجلیوں کو اچھی طرح جان لیاہے جبکہ ہمارے اس مسئلہ کی مثال میں بیج ایسا ہے جس کا تجربہ نہیں ہوا اور وہ عجیب و غریب زمین میں ڈالا گیا ہے اِس کاشتکار نے اس زمین کی دیکھ بھال نہیں کی اور نہ ہی اسے آزمایا۔ اور یہ ان شہروں میں ہے جن کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں بجلی یا گرج زیادہ ہوگی یا بارش تو اس کاشتکار کی مثال یہ ہے کہ اگرچہ اس نے انتہائی بھرپور کوشش کی اور جو کچھ اس کے بس میں تھا اسے عمل میں لایا پھر بھی اس کی امید‘ خوف پر غالب نہیں ہوتی اور ہمارے اس مسئلہ میں بیج ایمان ہے اور اس کے صحیح ہونے کی شرائط نہایت دقیق ہیں زمین دل ہے اس کی پوشیدہ کاخباثتیں اور صفات یعنی شرک خفی‘ منافقت ،ریاکاری اور پوشیدہ عادتیں بہت دقیق ہیں اور اس زمین کی آفات خواہشات ہیں اور دنیا کی زیبائش اور دل کا مستقبل میں اس کی طرف متوجہ ہوجانا ہے اگرچہ فی الحال دل دنیا کی طرف متوجہ نہیںاور یہ ان باتوں میں سے ہے جن کی مخالفت انسانی طاقت سے باہر ہے اور اس قسم کے امور کا تجربہ نہیں ہوسکتا اور بجلیاں نیز سکرات موت کی ہولناکی اور اس وقت اعتقاد کا مضطرب ہونا ہے اور یہ ان امور میں سے ہے جو تجربات کے تحت نہیں آتے پھر اسے کاٹنا اور حاصل کرنا قیامت سے جنت کی طرف جانا ہے اور یہ بات بھی تجربے سے باہر ہے۔ پس جو شخص ان امور کے حقائق کو پہچان لیتا ہے پس اگر اس کا دل کمزور ہو تو لامحالہ اس کا خوف‘ امید پر غالب آتا ہے جیسے عنقریب ڈرنے والے صحابہ کرام اور تابعین عظام رضی اﷲ عنہم کے احوال میں بیان ہوگا اور اگر اس کا دل مضبوط اور پکا ہو معرفت مکمل ہو تو اس کا خوف اور امید برابر ہوتی ہیں امید غالب نہیں ہوتی۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے دل کی تفتیش میں مبالغہ کرتے تھے حتی کہ آپ حضرت سیدنا حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے پوچھتے کہ کیا وہ ان کے دل میں منافقت کی کوئی علامت دیکھتے ہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو منافقین کو پہچاننے کی علامات بتا دی تھیں۔ (صحیح مسلم جلد ۲ ص ۳۶۲ کتاب صفات المنافقین) تو کون شخص ہے جو اپنے دل کو منافقت کے خفیہ امور اور شرکِ خفی سے پاک کرنے پر قادر ہو اور اگر اس کا اعتقاد ہو کہ اس کا دل پاک ہوچکا ہے تو دل کے تغیر کے سلسلے میں اﷲ تعالیٰ کی بے نیازی سے کیسے بے خوف ہوگا اور اس بات کا بھی یقین ہو تو اس بات کا یقین کہاں سے آئے گا کہ حُسِن خاتمہ تک دل اسی طرح رہے گا۔

تقد یر کا لکھا :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ عَمَلَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ خَمْسِیْنَ سَنَۃً حَتَّی لاَ یَبْقَی بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْجَنَّۃِ اِلاَّ شِبْرٌ وفی روایۃ اِلاَّقَدْرُ فُوَاقِ نَاقَۃٍ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ اْلکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ ’’بے شک ایک شخص پچاس سال تک جنتیوں والے اعمال کرتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے ( اور ایک روایت میںہے) مگر اونٹنی کی دو دھاروں کے درمیان والی مقدار باقی رہ جاتی ہے کہ اس پر تقدیر غالب آتی ہے تو اس کا خاتمہ جہنمیوں والے کام پر ہوتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم جل ۲ ص ۳۳۴ کتاب القدر / مسند امام احمد بن جنبل جلد اول ص ۳۸۲ مرویات عبد اﷲ) اور ظاہر سی بات ہے کہ اونٹنی کے دودھ دوہنے کے دوران دو دھاروں کے درمیان کا وقفہ اعضاء کے عمل کا احتمال نہیں رکھتا یقینا وہ موت کے وقت دل میں پیدا ہونے والے کھٹکے کی مقدار ہے پس وہ برے خاتمہ کا تقاضا کرتی ہے تو وہ اس سے کس طرح بے خوف ہوگا کہ کہیں موت کے وقت قلب کی ایمانی کیفیت نہ بدل جائے ۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مومن کی انتہائی غرض و غایت یہی ہے کہ اس کا خوف اور امیداعتدال پر ہوں عام لوگوں میں امید کا غلبہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور ان کو معرفت کم حاصل ہوتی ہے اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے ان دونوں باتوں کو ان لوگوں کے وصف میں جمع کیا جن کی تعریف کی گئی۔ ارشاد خداوندی ( عَزَّوَجَلَّ ) ہے : یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفاً وَّطَمَعًا ترجمہ کنز الایمان : ’’اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے ‘‘ (پارہ۲۱‘ سورئہ السجدہ‘ آیت ۱۶) اوراسی طرح ارشادباری ( عَزَّوَجَلَّ ) ہے۔ وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَھَباً ترجمہ کنز الایمان : ’’اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے‘‘(پارہ۱۷‘ سورۃ انبیائ‘ آیت ۹۰) اور حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جیسا شخص اس زمانے میں کہاں ؟ اس زمانے میں توجتنے لوگ موجود ہیں ان کے لئے زیادہ بہتر غلبۂ خوف ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ (خوف) ناامیدی ‘ترک عمل اور مغفرت کی امیدختم کرنے کا باعث نہ بنے کیونکہ اس صورت میں یہ خوف ‘ عمل سے سستی کا سبب بن جائے گا۔ اور گناہوں میں انہماک کی دعوت دے گا یہ تو ناامیدی ہے خوف نہیں ہے خوف تو وہ ہے جو عمل کی ترغیب دے اور تمام خواہشات کو گدلا کردے نیز دل سے دنیا کی طرف محبت کم کردے اور اس دھوکے والے گھر یعنی (دنیا) سے دور رہنے کی دعوت دے ایسا خوف پسندیدہ ہے ۔ چنانچہ حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذ رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص اﷲ تعالیٰ کی عبادت محض خوف سے کرتا ہے وہ فکرات کے سمندروں میں غرق ہوجاتا ہے اور جو شخص اس کی عبادت محض امید سے کرتا ہے وہ دھوکے کے جنگل میں بھٹکتارہے گا اور جو آدمی اﷲ تعالیٰ کی عبادت خوف اور امید دونوں کے ساتھ کرتا ہے وہ ذکر کے راستے میں سیدھا چلے گا۔ اسی طرح حضرت سیدنا مکحول دمشقی رحمہ اﷲ فرماتے ہیں جو شخص اﷲ تعالیٰ کی عبادت محض خوف کی وجہ سے کرتا ہے وہ حروری (خارجی) ہے اور جو امید کے ساتھ عبادت کرتا ہے وہ مرجی ہے ( یہ وہ فرقہ ہے جن کے خیال میں مومن جہنم میں نہیں جائے گا چاہے وہ برے اعمال کرے) اور جو محض محبت کی وجہ سے عبادت کرتا ہے وہ زندیق (بے دین) ہے اور جو شخص خوف ‘ امید اور محبت (تینوں باتوں) کے پیش نظر عبادت کرتا ہے وہ مُوَحِّد( یعنی اﷲ عَزَّوَجَلَّ کو ایک ماننے والا)ہے۔ تو ان تینوں امور کو کا جمع ہونا ضروری ہے اور غلبۂ خوف زیادہ بہتر ہے لیکن موت سے پہلے پہلے جبکہ موت کے وقت زیادہ بہتر امید اور حُسِن ظن کا غلبہ ہے کیونکہ خوف اس کوڑے (ڈنڈے) کے قائم مقام ہے جو عمل پر ابھارتا ہے اوراب عمل کا وقت ختم ہوگیاکیونکہ موت کا سامنا کرنے والا عمل پر قادر نہیں ہوتا چنانچہ وہ خوف کے اسباب کی طاقت بھی نہیں رکھتا کیونکہ اس وقت اس کی زیادہ دل شکنی ہونے کا امکان ہوتا ہے لیکن امید دل کو مضبوط کرتی ہے اور اسے اس رب سے محبت دلاتی ہے جس سے امید باندھی ہے۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کسی آدمی کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ دنیا سے اﷲ تعالیٰ کی محبت کے بغیر جائے بلکہ ضروری ہے کہ اسے اﷲ تعالیٰ کی ملاقات محبوب ہو کیونکہ جو شخص اﷲ تعالیٰ سے ملاقات چاہتا ہے اﷲ تعالیٰ اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے اور امید کے ساتھ محبت ملی ہوئی ہوتی ہے اور جس کے کرم کی امید ہو وہ محبوب ہوتا ہے اور تمام علوم واعمال کا مقصد اﷲ تعالیٰ کی معرفت ہے اور معرفت سے محبت پیدا ہوتی ہے کیونکہ اسی کی طرف جانا ہے اور موت کے ذریعے اسی کی طرف بڑھنا ہے اور جو آدمی اپنے محبوب کی طرف جاتا ہے اس کا سرور بقدر محبت بڑھتا ہے اور جو شخص اپنے محبوب سے جدا ہوجائے اس کی تکلیف اور سختی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

جنت کیا ہے :

پس جب موت کے وقت دل پر اہل وعیال‘ مال‘ مکان‘ زمین‘ دوستوں اور ساتھیوں کی محبت غالب ہو تو اس شخص کا مرکزِ محبت دنیا ہوگا چنانچہ دنیا اس کی جنت ہے کیونکہ جنت اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں تمام محبوب جمع ہوں پس اس کی موت جنت سے نکلنا اور اس کے اور اس کی خواہشات کے درمیان رکاوٹ کا نام ہے اور ایسے آدمی کا حال مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ جس کے لئے اﷲ تعالیٰ‘ اس کے ذکر‘ معرفت اور فکر کے سوا کوئی محبوب نہ ہوتو یہ دنیا اس کیلئے قید خانہ ہے کیونکہ قید خانہ وہ ہوتا ہے جو قیدی کو اس کی محبوب چیز وںکے حصول میں مانع ہو پس اس کی موت محبوب کی طرف جانا اور قید خانے سے چھٹکارا حاصل کرناہے اور جو شخص قید خانے سے آزاد ہوجائے اور اس کے اور اس کے محبوب کے درمیان تخلیہ ہو اور کسی قسم کی رکاوٹ اور خرابی باقی نہ رہے اس کا حال بھی پوشیدہ نہیں ہے۔تو ایسا شخص جب دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو موت کے بعد سب سے پہلے یہی فائدہ حاصل کرتا ہے اور جو کچھ اﷲ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے لئے تیار کررکھا ہے وہ اس کے علاوہ ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی دل میں اس کا خیال پیدا ہوا۔ اور جو کچھ اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے پیدا کیا جو دینوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اس پر راضی اور مطمئن ہوتے ہیں ان کے لئے سزا‘ زنجیریں اور بیڑیاں پیدا کیں اور طرح طرح کی ذلت الگ ہے ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حالت اسلام میں عافیت کے ساتھ موت دے اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ اور اس دعاکی قبولیت کی طمع اسی وقت ہوسکتی ہے جب اﷲ تعالیٰ کی محبت حاصل کی جائے اور محبتِ خداوندی کے حصول کے لئے اس کے غیر کی محبت کو دل سے نکالنا اور اﷲ تعالیٰ کے سوا جو کچھ ہے یعنی جاہ ومرتبہ‘ مال اور وطن وغیرہ سب سے قطع تعلق کرنا ضروری ہے۔ زیادہ مناسب یہی ہے کہ ہم وہی دعا مانگیں جو تاجدارِ انبیاء نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مانگی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یوں دعا مانگی ۔ اَللَّھُمَّ اَرْزُقْنِیْ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ اَحَبَّکَ وَحُبَّ مَا یُقَرّبُنْی ِ اِلیٰ حُبِّکَ وَاجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنَ الْمَائِ الْبَارِدِ ترجمہ : ’’ یا اﷲ ( عَزَّوَجَلَّ ) ! مجھے اپنی محبت عطا فرمااور ا ن کی بھی جو تجھ سے محبت کرتے ہیں ‘ اور اس عمل کی محبت جو مجھے تیری محبت کے قریب کردے‘ عطا فرما اور اپنی محبت کو میرے نزدیک ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب بنا دے‘‘ (مشکوٰۃ شریف ص ۲۹۱ باب جامع الدعا)

عین موت کے وقت :

غرض یہ ہے کہ موت کے وقت امید‘ زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہ محبت کو زیادہ اُبھارنے والی ہے اور موت سے پہلے غلبۂ خوف زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہ خواہشات کی آگ کو زیادہ جلانے والا اور دل سے دنیا کی محبت کو زیادہ ختم کرنے والا ہے اسی لئے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لاَیَمُوْتَنَّ اَحَدُکُمْ اِلاَّوَیُحْسِنُ الظَّنَّ بِرَبِّہٖ ترجمہ : ’’تم میں سے کوئی شخص ہرگز نہ مرے مگر وہ اپنے رب کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو‘‘(صحیح مسلم جلد ۲ ص ۳۸۷ کتاب الجنۃ) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا (حدیث شریف میں ہے) اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ فَلْیَظُنَّ بِیْ مَاشَائَ ترجمہ : ’’ میں اپنے بندے کی امید کے قریب ہوں۔تو اب جیسی چاہے مجھ سے امید رکھے ‘‘(مسند امام احمد بن حنبل جلد ۲ ص ۳۱۵ مرویات ابی ہریرہ) جب حضرت سیدنا سلیمان تیمی رحمہ اﷲ کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے ! مجھ سے رخصتوں کا بیان کرنا اور امید یاد دلانا تاکہ میں اﷲ تعالیٰ سے حُسن ظن کے ساتھ ملاقات کروں۔

جنت کا طالب :

اسی طرح جب حضرت سیدنا سفیان ثوری رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ کے وصال کا وقت ہوا اور ان کا جزع فزع زیادہ ہوا تو انہوں نے اپنے اردگرد علماء کو جمع کیا جو ان کو امید یاد دلاتے تھے … حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ تعالیٰ نے وصال کے وقت اپنے بیٹے سے فرمایا مجھے وہ احادیث یاد دلاؤ جن میں امید اور حسُن ظن کا ذکر ہے۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان تمام باتوں کا مقصودیہ ہے کہ بندے کو چاہیئے کہ اپنے دل میں اﷲ تعالیٰ کی محبت پیدا کرے اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں کے دلوں میں میری محبت ڈال دیں انہوں نے پوچھا کس طرح ؟ فرمایا ان کو میری نعمتیں اور نوازشات یاد دلائیں۔ تو انتہائی سعادت یہ ہے کہ انسان اﷲ تعالیٰ کی محبت میں دنیا سے رخصت ہو اور محبت کا حصول معرفت اور دل سے دنیا کی محبت کو نکالنے کے بعد ہی ہوتا ہے حتی کہ اس کے نزدیک تمام دنیااس قید خانے کی طرح ہوجائے جو محبوب کے راستے میں رکاوٹ ہے یہی وجہ ہے کہ بعض صالحین نے حضرت سیدنا ابو سلیمان دارانی رحمہ اﷲ کو خواب میں اڑتے ہوئے دیکھا تو فرمایا اب وہ رخصت ہوگئے صبح ہوئی تو ان کے بارے میں معلوم کیا بتایا گیا کہ وہ گزشتہ رات انتقال فرما گئے ہیں۔

فصل ۶

حالت خوف میں کیا علاج کیا جائے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سیدنا امام غزالی علیہ الرحمۃ اس فصل میں خوف کے علاج کے بارے میں کچھ ارشاد فرمارہے ہیں جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔ ہم نے صبر کی دوا کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا اور صبر وشکر کے بیان میں جو تشریح کی ہے وہ اس غرض کے لئے کافی ہے کیونکہ صبر اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب خوف اور اُمید حاصل ہو کیونکہ دین کا پہلا مقام یقین ہے جو اﷲ تعالیٰ آخرت‘ جنت اور دوزخ پر ایمان کی قوت کا نام ہے اور یہ یقین لازمی طو رپر جہنم سے خوف اور جنت کی امید کو ابھارتا ہے اور امید اور خوف صبر کرنے پر مدد دیتے ہیں کیونکہ جنت ناپسندیدہ امور سے ڈھانپی گئی ہے اور اس کی راہ میں آنے والی مصیبتوں کو اٹھانے پر صبر‘ امید کی قوت کے بغیر نہیں ہوسکتا اور جہنم خواہشات کے ساتھ ڈہانپی گئی اور ان شہوات کے قلع قمع کے لئے قوتِ خوف کی ضرورت ہے۔ اسی لئے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اﷲ وجہہ نے فرمایا جو شخص جنت کا شوق رکھتا ہو وہ خواہشات سے نکل جائے اور جو جہنم سے ڈرتا ہو وہ حرام کاموں سے باز رہے۔ پھر خوف اور امید سے حاصل ہونے والا صبر مقامِ مجاہدہ‘ ذکر خداوندی کے لئے گوشہ نشینی اور مراقبہ تک پہنچتا ہے اور دائمی ذکر اُنس پیدا کرتا ہے جب کہ دائمی فکر کمالِ معرفت تک لے جاتا ہے اور کمال معرفت اور اُنس محبت تک لے جاتے ہیں پھر محبت کے بعد مقام رضا و توکل بلکہ تمام مقامات ہیں تو منازلِ دین کو طے کرنے میں اسی ترتیب کو سامنے رکھا جائے اور اصل یقین (ایمان) کے بعد خوف اور امید کے سوا کوئی مقام نہیں ۔ اور ان دونوں کے بعد صبر کے علاوہ کوئی مقام نہیں اور اسی سے مجاہدہ اور ظاہری و باطنی طور پر اﷲ تعالیٰ کے لئے تنہائی نصیب ہوتی ہے اور جس کے لئے راستہ کھل جائے اس کے لئے مجاہدہ کے بعد صرف ہدایت اور معرفت ہے اور معرفت کے بعد صرف محبت اور اُنس کا مقام اور محبت کی ضرورت ہے کہ محب محبوب کے فعل پرر اضی ہو اور اس کی عنایت پر یقین رکھے تو ہم نے جو کچھ صبر کے علاج کے سلسلے (احیاء العلوم) میں جو کچھ میں لکھا ہے وہ کافی ہے لیکن ہم خوف کے سلسلے میں مستقل طور پر ایک اجمالی گفتگو کرنا چاہتے ہیں چنانچہ ہم کہتے ہیں۔

خوف کے دو طریقے :

خوف دو مختلف طریقوں سے حاصل ہوتا ہے ان میں سے ایک‘ دوسرے سے اعلیٰ ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ جب گھر میں کوئی بچہ ہو اور اس کے پاس کوئی درندہ یا سانپ آجائے تو بعض اوقات وہ نہیں ڈرتا اور بعض دفعہ وہ سانپ کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تاکہ اسے پکڑ کر اس سے کھیلے لیکن جب اس کے ساتھ اس کا باپ بھی ہو اور وہ عقل مند ہو تو وہ سانپ سے ڈرکر کر بھاگ جاتا ہے اور جب بچہ اپنے باپ کو دیکھتا ہے کہ اس کی جسم پر لرزہ طاری ہے اور وہ بھاگنے کی کوشش کررہا ہے تو وہ بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے اور اس پر بھی خوف غالب ہوجاتا ہے۔چنانچہ وہ بھاگنے میں باپ کی پیروی کرتا ہے تو باپ کا خوف بصیرت اور سانپ کی صفت کو جاننے کی وجہ سے ہے کہ اس میں زہر ہے اور اس کی فلاں خاصیت ہے‘ درندے کاغلبہ‘ اس کی پکڑ اور پرواہ نہ کرنا وغیرہ سب باتیں سامنے ہوتی ہیں۔ لیکن بیٹے کا خوف محض تقلیدکی بنیاد پر ہے کیونکہ وہ باپ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ باپ کے خوف کا کوئی سبب ہے جو ذاتی طور پر ڈرانے والا ہے پس اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ درندے سے ڈرنا چاہئے لیکن بچے کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اﷲ تعالیٰ سے خوف دوقسموں کاہوتا ہے۔ (۱) اس کے عذاب سے خوف (۲) خود اس کی ذات سے خوف ۔ نمبر( ۲) قسم کا خوف علماء حق اور ارباب قلوب رحمھم اﷲ کا خوف ہے جو جانتے ہیں کہ اس کی صفات میں سے بعض صفات اس سے ہیبت اور خوف کا تقاضہ کرتی ہیں اور وہ اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی کے راز پر مطلع ہیں۔ ویَحُذِّ رُکُمْ اﷲُ نَفْسَہٗ ترجمہ کنز الایمان : ’’اور اﷲ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے‘‘(پارہ۳ ‘سورۃ آل عمران ‘آیت ۲۸) اور ارشاد خداوندی ہے۔ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ حَقَّ تُقَاتِہٖ ترجمہ کنز الایمان : ’’اے ایمان والوں اﷲ سے ڈر و جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے‘‘ (پارہ۴‘ سورۃ آل عمران‘ آیت ۱۰۲) البتہ پہلا خوف عام مخلوق کا خوف ہے اور وہ جنت ودوزخ کے وجود نیز ان دونوں کے فرمانبرداری اور نافرمانی کا بدلہ ہونے پر ایمان لانے سے حاصل ہوتا ہے اور اس خوف کی کمزوری غفلت اور ایمان کی کمزوری کے باعث ہوتی ہے۔ اگر کوئی اس خوف کی کمزوری کو دور کرنا چاہے تو غفلت کو تذکیر‘ وعظ اور روزقیامت کے ہولناک مناظر اور طرح طرح کے اُخروی عذاب میں ہمیشہ غور کرنے کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے نیز اﷲ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کی طرف دیکھنے ان کی مجالس میں حاضر ہونے اور ان کے احوال کا مشاہدہ بھی غفلت کو دور کردیتا ہے(مثلاً دعوت اسلامی کے سنتوں بھرے مہکے مہکے مَدَنی ماحول میں خوفِ خدا ( عَزَّوَجَلَّ ) دلایا جاتا ہے)اور اگر مشاہدہ نہ ہوسکے تو سماع (ان کی باتیں سننا) بھی تاثیر سے خالی نہیں ہے۔ دوسرا خوف (یعنی نمبر (۲) قسم کا خوف )اعلیٰ ہے وہ یہ کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے یعنی اس سے دوری اور حجاب کا خوف ہو نیز اس کے قرب کی امید رکھے چنانچہ حضرت سیدنا ذوالنون مصری رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں فراق کے خوف کے وقت جہنم کا خوف ایک گہرے سمندر میں قطرے کی طرح ہے اور یہ علماء حق ثکا خشیت وخوف ہے۔ چنانچہ ارشادِ خداوندی ( عَزَّوَجَلَّ ) ہے ۔ اِنَّمَا یَخْشَی اﷲ َ مِنْ عَبَادِہٖ الْعُلَمَائُ ترجمہ : کنز الایمان ’’اﷲ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ‘‘ (پارہ۲۲ ‘فاطر،آیت ۲۸) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس خوف سے عام مومنوں کو بھی حصہ ملتا ہے لیکن وہ محض تقلیدی ہوتا ہے جو اس بچے کے خوف کے مشابہ ہے جو اپنے باپ کو دیکھ کر سانپ سے ڈرتا ہے لہٰذا یہ کمزور بھی ہوسکتا ہے اور فوری طور پر زائل بھی … حتی کہ بعض اوقات بچہ کسی سپیرے کو دیکھتا ہے جو سانپ کو پکڑنے کا ارادہ کرتا ہے تو بچہ اس کو دیکھ کر دھوکہ کھا جاتا ہے لہٰذا اس کی تقلید میں سانپ کو پکڑنے کی جراء ت بھی کرلیتا ہے جس طرح وہ باپ کی تقلید میں اس سے ڈرتا ہے۔ لیکن جو شخص اﷲ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلیتا ہے تو وہ اس سے ضرور ڈرتا ہے پس حصول خوف کے لئے اس کے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے کوئی شخص درندے کو پہچانتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے چُنگل میں پھنسا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے دل میں خوف ڈالنے کے لئے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ وہ اس سے لازماً ڈرتا ہے چاہے یا نہ چاہے ۔ اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ مجھ سے اس طرح ڈریں جس طرح ہلاک کرنے والے درندے سے ڈرتے ہیں اور ہلاک کرنے والے درندے سے خوف پیدا کرنے کے لئے کسی حیلے کی ضرورت نہیں ہوتی صرف اس کی اور اس کے شکنجے میں آنے کی معرفت ضروری ہے کسی دوسرے حیلے کی حاجت نہیں ہے۔ چنانچہ جو شخص اﷲ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلیتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے اسے کوئی پرواہ نہیں جو چاہے فیصلہ کرے اسے کوئی خوف نہیں اس نے کسی سابقہ وسیلے کے بغیر فِرشتوں کو اپنے قریب کیا اور کسی گزشتہ جرم کے بغیر شیطان کو اپنے آپ سے دور کردیا بلکہ اس کی صفت تووہی ہے جو (گذشتہ صفحات میں مذکور حدیث میں ) بیان ہوئی اس نے فرمایا ۔ ’’یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں اور یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں۔‘‘ چنانچہ پیارے آقا سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت آد م اور مو سیٰ علیہما السلام دونوں نے اپنے رب کے ہاں ایک دوسرے سے اختلاف کیا تو حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ(علیہ السلام) پر غالب آگئے (ان کی دلیل غالب آگئی) حضرت موسی (علیہ السلام) نے فرمایا آپ آدم(علیہ السلام) ہیں اﷲ تعالیٰ نے آپ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا اور آپ ںمیں اپنی روح پھونکی فرشتوں سے آپ(علیہ السلام) کو سجدہ کرایا اور آپ ںکو اپنی جنت میں ٹھہرایا پھر آپ ںکی خطائے اجتہادی کے باعث لوگوں کو زمین پر اترنا پڑا ۔ اس پرحضرت آدم (علیہ السلام)نے فرمایا آپ موسیٰ (علیہ السلام)ہیں آپ (علیہ السلام)کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور کلام کے لئے منتخب فرمایا۔ اور آپں کو تختیاں عطا فرمائیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا آپں کو کلام کے لئے اپنے قریب کیا تو آپ (علیہ السلام)کا کیا خیال ہے اﷲ تعالیٰ نے میری تخلیق سے کتنے سال پہلے تورات لکھی حضرت موسیٰ(علیہ السلام)نے فرمایا چالیس سال‘ حضرت آدم(علیہ السلام)نے فرمایا کیا آپں نے اس میں لکھا ہوا پایا کہ آدم (علیہ السلام)سے خطائے (اجتہادی )ہوئی اور آپ ںنے جو چاہا تھا حاصل نہ ہوا۔ انہوں نے فرمایا ہاں لکھا ہوا پایا ہے فرمایا کیا آپ مجھے اس عمل پر ملامت کررہے ہیں جو میرے عمل کرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ نے لکھ دیا کہ میں وہ عمل کروں گا اور میری تخلیق سے چالیس سال پہلے لکھا۔ (صحیح بخاری جلد ۲ ص ۱۱۱۹ کتاب التوحید) تومیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جو شخص اس معاملے میں نور ہدایت سے سبب کو پہچان لے گا وہ ان خاص عارفین میں سے ہے جو تقدیر کے راز پر مطلع ہوتے ہیں اور جو آدمی یہ بات سن کر ایمان لائے اور محض سننے کے ذریعے تصدیق کرے وہ عام مومنوں میں سے ہے اور دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو خوف حاصل ہوتا ہے کیونکہ ہر بندہ قبضۂ قدرت میں اس طرح ہوتا ہے جس طرح ایک کمزور بچہ درندے کے پنجے میں ہوتا ہے درندہ بعض اوقات اتفاقی طور پر غافل ہو کر اسے چھوڑ دیتا ہے اور کبھی اس پر حملہ کرکے اسے چیرپھاڑ دیتا ہے اور جو شخص درندے کے پنجے میں پھنستا ہے اگر اس کی معرفت مکمل ہو تو وہ درندے سے نہیں ڈرتا کیونکہ درندہ بھی ایک ہستی کے سامنے مجبور ہے کہ اگر اس پر بھوک مسلط ہو تو وہ چیرتا پھاڑتا ہے اور اگر اس پر غفلت مسلط ہو تو اس کا راستہ چھوڑ دیتا ہے اوریہ بھوک اور غفلت اسپر اسکا خالق مسلط کرتا ہے چنانچہ وہ شخص درندے کے خالق اور اس کی صفات کے خالق سے ڈرتا ہے ۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !سیدناامام غزالی ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کچھ اسطرح ارشاد فرماتے ہیںکہ میںیہ نہیں کہتا کہ اﷲ تعالیٰ سے خوف کی مثال وہ خوف ہے جو درندے سے ہوتا ہے بلکہ جب پردہ ہٹتاہے تو معلوم ہوتا ہے کہ درندے سے خوف بعینہٖ اﷲ تعالیٰ سے خوف ہے کیوں کہ درندے کے واسطے سے ہلاک کرنے والا تو اﷲ تعالیٰ ہے تو جان لو کہ آخرت کے درندے دنیا کے درندوں کی طرح ہیں اور اﷲ تعالیٰ نے ثواب و عذاب کے اسباب کو پیدا فرمایا اور ہر ایک کے لئے اس کا اہل پیدا کیا ،جسے تقدیر اس کی طرف چلاتی ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور اس کے اہل لوگ پیدا کئے اور وہ اس کے اسباب کے لئے مسخر کئے گئے وہ چاہیں یا نہ‘ اور جہنم کو پیدا کرکے اس کے اہل پیدا کئے جو اس کے اسباب کے لئے مسخر کئے گئے وہ چاہیں یا نہ … چنانچہ جب کوئی شخص اپنے آپ کو تقدیر کی موجوں میں غوطہ زن دیکھتا ہے تو اس پر لازماً خوف غالب آتا ہے۔ پس تقدیر کے اسرار کی پہچان رکھنے والوں کے لئے یہ مقامات خوف ہیںاورجس شخص کی کوتاہ نظری اسے حقیقت حال تک نہ پہنچنے دے اس کے لئے راستہ یہ ہے کہ وہ آیات و آ ثار سُن کر اپنا علاج کرے اور ڈرنے والے عارفین کے حالات اور اقوال کا مطالعہ کرے پھر ان کی عقلوں اورمرتبوںکا موازنہ عام دنیادار اور لمبی امیدوں کے شکارلوگوں کی عقلوںسے کر ے اورفیصلہ کرے کہ کسکی پیروی اسکے لئے فائدہ مند ہے تو اسے یقین ہو جائے گا کہ ان لوگوں کی اقتدا زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام، اولیاء عظام اور علماء ث ہیں اور جو لوگ بے خوف ہیں وہ فرعون جاہل اور غبی ہیں نیزہمارے رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جو پہلوں اور پچھلوں کے سردار ہیں۔ (صحیح مسلم جلد ۲ ص ۲۴۵ کتاب الفضائل) اسکے باوجود۔آپ ا سب لوگوں سے زیادہ خوف کھانے والے تھے ۔ (مسند امام احمد بن حنبل جلد ۶ ص ۱۸۱ مرویات عائشہ ) حتی کہ ایک روایت میں ہے آپ ا ایک بچے کی نماز جنازہ پڑھا رہے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ سے اس کے لئے دعا میں سنا گیا۔ اَللَّھُمَّ قِہِ عَذَابَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ ترجمہ : ’’یا اﷲ ! اسے عذاب قبر سے اور عذاب جہنم سے بچا‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے آپ ا نے ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ اے بچے تجھے مبارک ہو تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے غضب فرمایااور فرمایا تمہیں کیا معلوم کہ وہ اس طرح ہے(یعنی اس بچے کا جنتی ہونا کوئی قطعی بات نہیں بلکہ رب ( عَزَّوَجَلَّ ) کے کرم پر موقوف ہے)اﷲ کی قسم میں اﷲ کا رسول ہوں اور میں (اﷲ ( عَزَّوَجَلَّ ) کے بتائے بغیر)نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگابے شک اﷲ تعالیٰ نے جنت کو پیدا فرمایا اور اس کے کچھ اہل پیدا کئے ان میں اضافہ اور کمی نہ ہوگی۔ (صحیح مسلم جلد ۲ ص ۳۳۷ کتاب القدر)

لاادری :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث شریف میں ’’ لاادری‘‘ کے الفاظ آئے ہیں اور درایت کا معنی اندازے سے جاننا ہے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قول کا مطلب یہ ہے کہ میں اﷲ تعالیٰ کے بتائے بغیر محض اندازے سے نہیں جانتا علم کی نفی نہیں لہٰذا جو لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے انجام کا علم نہ تھا وہ جاہل ہی نہیں بدبخت بھی ہیں جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقام محمود کے بارے میں اس قسم کے عقیدے کے حامل ہیں اﷲ تعالیٰ ایسے گمراہوں سے محفوظ رکھے آمین۔) ایک روایت میں ہے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت سیدنا عثمان بن مظعون رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے جنازے پر بھی یہی بات فرمائی جوکہ مہاجرین اولین میں سے تھے جب ان کا انتقال ہوا تو حضرت سیدتنا ام سلمہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا اﷲ کی قسم میں عثمان کے بعد کسی کی پاکیزگی بیان نہیں کروں گی۔ (صحیح بخاری جلد اول ص ۱۶۶ کتاب الجنائز (نوٹ) یہ الفاظ ام خارجہ کے ہیںسیدتنا ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے نہیں) حضرت سیدنا محمد بن خولہ حنفیہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا میں‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کی پاکیزگی بیان نہیں کروں گا بلکہ جس باپ نے مجھے جنا اس کی پاکیزگی بھی نہیں بیان کروں گا۔

قفل ِ مدینہ :

ایک دوسری حدیث میں مروی ہے اصحاب صفہ میں سے ایک صحابیص شہید ہوگئے ان کی ماں نے کہا تمہیں مبارک ہو تم جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہو تم نے رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور اس کے راستے میں شہید ہوئے ۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تمہیں کیا معلوم ہوسکتا ہے انہوں نے کوئی ایسی بات کہی ہو جو نفع بخش نہیں اور ایسی بات سے رُکے ہوں جو نقصان نہیں دیتی۔ (جامع ترمذی ص ۳۳۶‘ ابواب الزھد) ایک دوسری حدیث میں ہے ایک صحابی ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیمار تھے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک عورت سے سنا وہ کہہ رہی تھی تمہیں جنت مبارک ہو۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون عورت ہے جو اﷲ تعالیٰ پر قسم کھاتی ہے بیمار نے کہا یہ میری ماں ہے یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا (اے خاتون !) تمہیں کیا معلوم شاید فلاں نے بے مقصد گفتگو کی ہے اور ایسی چیز میں بخل کیا ہو جو اسے فائدہ نہیں دیتی۔ (تاریخ بغداد جل ۴ ص ۲۷۳ ترجمہ ۲۰۲۳) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔ شَیَّبَتْنِیْ ھُودٌ وَاَخَوَاتُھَا سُوْرَۃُ الْوَاقِعَۃِ وَاِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ وَعَمَّ یَتَسَائَ لُوْنَ ترجمہ : ’’مجھے سورئہ ہود اور اس جیسی دوسری سورتوں یعنی سورئہ واقعہ‘ اذا الشمس کورت اور ’’ عم یتسالون‘‘ نے بوڑھا کردیا‘‘ (جامع ترمذی ص ۵۷۱‘ ابواب الشمائل) علماء ثفرماتے ہیں شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سورئہ ہود میں رحمت سے دور کرنے کا ذکر ہے۔ جیسے ارشاد خداوندی ( عَزَّوَجَلَّ ) ہے۔ اَلاْبُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ ھُوْدٍ ترجمہ : کنز الایمان ’’ارے دور ہو عاد ہود کی قوم‘‘ (پارہ۱۲ ‘ سورئہ ہود آیت ۶۰) اور فرمایا ۔ اَلاَ بُعْدًا لِثَمُوْدَ ترجمہ : کنز الایمان ’’ارے لعنت ہو ثمود پر ‘‘ (پارہ۱۲‘ سورئہ ہود‘ ۶۸) اور ارشاد فرمایا۔ اَلاَ بُعْداً لِّمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ ترجمہ : کنز الایمان ’’ارے دور ہو مدین جیسے دور ہوئے ثمود‘‘(پارہ ۱۲، سورئہ ہود، ۹۵) اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اگر اﷲ تعالیٰ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اس لئے کہ اگر اﷲ تعالیٰ چاہے تو ہرنفس کو ہدایت دے دے یعنی سب کو فرشتوں کی طرح بنا دے لیکن اس نے اپنی مشیّت سے بندوں کو بااختیار بنایا۔ اورسورئہ واقعہ میں ہے۔ لَیْسَ لِوَقْعَتِھَا کَاذِبَۃٌ خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ ترجمہ : کنز الایمان ’’اس وقت اس کے ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی کسی کو پست کرنے والی کسی کو بلندی دینے والی ‘‘ (پارہ ۲۷‘ سورئہ واقعہ ۲،۳) یعنی جو کچھ ہونے والا ہے اسے لکھ کر قلم خشک ہوگیا اور گذشتہ بھی مکمل ہوگیا حتی کہ واقعہ (قیامت) آگئی یعنی وہ ان لوگوں کو پست کرنے والی ہے جو دنیا میں بلند کئے گئے تھے اور جن لوگوں کو دنیا میں پست کیا گیا تھاان کو اٹھانے والی ہے۔ اور سورۃ تکویر میں قیامت کی ہولناکی اور خاتمہ کے انکشاف کا بیان ہے اور وہ ارشاد خداوندی ہے۔ وَاِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا اَحْضَرَتْ ترجمہ : کنز الایمان ’’اور جب جہنم بھڑکایا جائے اور جنت پاس لائی جائے ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی‘‘ (پارہ۳۰‘ سوئہ تکویر ‘آیت ۱۲تا ۱۴) اور سورۃ ’’عَمَ یتسآ لون‘‘ میں ہے۔ یَوْمَ یَنْظُرْ الْمَرْئُ مَاقَدَّمَتْ یَدَاہُ ترجمہ : کنز الایمان ’’جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا‘‘ (پارہ ۳۰ ‘ سورئہ النباء ‘آیت ۴۰) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ لاَیَتکَلَّمُوْنَ اِلاَّ مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَاباً ترجمہ : کنز الایمان ’’کوئی نہ بول سکے گا مگر جسے رحمن نے اذن دیا اور اس نے ٹھیک بات کہی‘‘(پارہ۳۰‘ سورئہ النبائ‘ آیت ۳۸)

چار شرائط :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قرآن پاک میں اول سے آخر تک ڈرسنانے والی آیات ہیں لیکن اس شخص کے لئے جو اسے غور وفکر سے پڑھے اور اگر اس میں صرف یہی درج ذیل آیت ہوتی تو بھی کافی تھی کیونکہ مغفرت کو چار شرطوں سے مشروط کردیا گیا جن میں سے ہر ایک شرط ایسی ہے جس سے بندہ عاجز ہے۔ وہ آیت یہ ہے۔ وَاِنِّیِْ لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً ثُمَّ اھْتَدیٰ ترجمہ کنز الایمان ’’اور بے شک میں بہت بخشنے والا ہوں اسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا‘‘۔ (پارہ ۱۶‘ سورئہ طہٰ ‘آیت ۸۲) اور اس سے بھی زیادہ سخت اﷲ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔ فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَعَسیٰ اَنْ یَّکُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ۔ ترجمہ : کنز الایمان ’’تو وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا قریب ہے کہ وہ راہ یاب ہو‘‘(پارہ۲۰ ‘ سورئہ قصص‘ آیت ۶۷) اور ارشاد خداوندی ہے۔ لِیَِسْأَلَ الصَّادِقِیْنَ عَنْ صِدْتِھِمْ ترجمہ : کنز الایمان ’’تاکہ سچوں سے ان کے سچ کا سوال کرے‘‘۔(پارہ۲۱ ‘ سورئہ احزاب‘ آیت ۸) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ سَنَفْرُغُ لَکُمْ اَیُّھَا الثَّقَلاَنِ ترجمہ : کنز الایمان ’’جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں ‘‘(پارہ ۲۷‘ سورئہ رحمن‘ آیت ۳۱) عنقریب ہم تمہاری طرف توجہ فرمائیں گے اے جن وانس۔ اور ارشاد فرمایا ۔ اَفَاَمِنُوْا مَکْرَا ﷲِ ترجمہ : کنز الایمان ’’کیا اﷲ کی خفی تدبیر سے بے خبر ہیں‘‘(پارہ۹‘ سورئہ اعراف‘ آیت ۹۹) اور ارشاد خداوندی ہے۔ وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَا اَخَذَ الْقُرٰی وَھِیَ ظَالِمَۃٌ اِنَّ اَخْذَہُ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ ترجمہ : کنز الایمان ’’اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بے شک اس کی پکڑ دردناک کرّی ہے‘‘۔ (پارہ۱۲ ،سورئہ ہود، آیت۱۰۲) ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ترجمہ : کنز الایمان ’’جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بنا کر ‘‘ (پارہ۱۶ ‘ سورئہ مریم‘ آیت ۸۵) اور ارشاد خداوندی ہے: وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلاَّ وَارِدُھَا ترجمہ : کنز الایمان ’’اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو‘‘ (پارہ۱۶‘ سورئہ مریم‘ آیت ۷۱) اور فرمایا۔ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ ترجمہ : کنز الایمان ’’جو جی میں آئے کرو‘‘ (پارہ۲۴ ‘ سورئہ فصلت(کو حم سجدہ بھی کہتے ہیں) آیت ۴۰) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْآخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فی حَرْثِہٖ ترجمہ : کنز الایمان ’’جو شخص آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی بڑھاہیں‘‘ (پارہ۲۵‘ سورئہ شوریٰ‘ آیت ۲۰) اور ارشاد فرمایا۔ فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَّرَہ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ترجمہ : کنز الایمان ’’تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اُسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے اُسے دیکھے گا‘‘(پارہ‘ ۳۰سورئہ زلزال ‘آیت ۷تا ۸) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ وَقَدِمْنَا اِلیٰ مَاعَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ ترجمہ : کنز الایمان ’’اور جو کچھ انہوں نے کام کئے تھے ‘‘(پارہ۱۹‘ سورئہ فرقان‘ آیت ۲۳) اسی طرح اﷲ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔ وَالْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍٍ اِلاَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ترجمہ : کنز الایمان ’’اس زمانہ محبوب کی قسم بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ‘‘( پارہ ۳۰‘ سورئہ العصر۱ تا ۳) تو یہ چار (ایمان‘ اعمال صالحہ‘ حق کی تلقین اور صبر کی تلقین) شرائط ہیں جن کی وجہ سے انسان نقصان سے بچ سکتا ہے۔

مقربین کا خوف :

انبیاء کرام علیہم السلام باوجود اس کے کہ ان پر نعمتوں کا فیضان ہوا‘ خوف رکھتے تھے کیونکہ وہ اﷲ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہوتے تھے اور اﷲ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے وہی لوگ بے خوف ہوتے ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں حتی کہ ایک روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے خوف سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا جبریل علیہ السلام دونوں رونے لگے تو اﷲ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم دونوں کیوں روتے ہو۔ میں نے تم دونوں کو امن عطا کیا ہے انہوں نے عرض کیا یا اﷲ ! تیری خفیہ تدبیر سے کون بے خوف ہوسکتا ہے۔ گویا جب ان دونوں کو معلوم ہوا کہ اﷲ تعالیٰ تمام غیبوں کو جاننے والا ہے اور انہیں (اﷲ تعالیٰ کے بتائے بغیر) امور کی غایت سے آگاہی نہیں ہوسکتی تو وہ اس بات سے بے خوف نہ ہوئے کہ اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ میں نے تم دونوں کو امن دیا ان کے لئے ابتلاء و آزمائش کے طور پر ہو اور ان کے لئے خفیہ تدبیر ہو حتی کہ اگر ان کا خوف ٹھہر جائے تو ظاہر ہوجائے کہ وہ خفیہ تدبیر خداوندی سے بے خوف ہیں اور انہوں نے اپنی بات کو پورا نہیں کیا۔ جس طرح حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق میں رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا ’’حَسْبِیَ اﷲُ‘‘ (اﷲ تعالیٰ مجھے کافی ہے) اور یہ بہت بڑی بڑی دعاؤں میں سے ایک دعا تھی پس آپ کا امتحان لیا گیا اور ہوا میں حضرت سیدنا جبریل علیہ السلام کے سامنے فرشتہ پیش کیا گیاجس نے کہا کیا آپ کو کوئی حاجت ہے؟ فرمایاتم سے کوئی حاجت نہیں ہے‘ تو آپ (علیہ السلام)نے اپنے قول ’’ حسبی اﷲ‘‘ کے ساتھ اس طرح وفا کی اﷲ تعالیٰ نے اسی بات کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ وَ اِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی ترجمہ : کنز الایمان ’’اور ابراہیم کے جو احکام پورے بجا لایا‘‘(پارہ۲۷‘ سورئہ النجم‘ آیت ۳۷) یعنی اپنے قول ’’ حسبی اﷲ‘‘ پر عمل کیا۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے بھی اسی قسم کی بات بتائی گئی ارشاد خداوندی ہے۔ قَالَارَبَّنَا اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَا اَوْ اَنْ یَّطْغیٰ قَالَ لاَتَخَافَا اِنَّنِیْ مَعَکُمَا اَسْمَعُ وَاَرٰی ترجمہ : کنز الایمان’’دونوں نے عرض کیا اے ہمارے رب بے شک ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیاتی کرے یا شرارت سے پیش آئے فرمایا ڈرو نہیں میں تمہارے ساتھ ہو ں سنتا اور دیکھتا‘‘ (پارہ۱۶‘ سورئہ طہٰ ‘آیت ۴۵‘ ۴۶) اور اس کے باوجود جب جادوگروں نے اپنے جادو کا مظاہرہ کیا تو حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں خوف محسوس کیا کیونکہ آپ اﷲ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہ تھے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر معاملہ مشتبہ ہوگیا حتی کہ دوبارہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو امن کی خوشخبری دی گئی اور ارشاد فرمایا۔ لَاتَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلیٰ ترجمہ : کنز الایمان ’’ ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے‘‘(پارہ۱۶‘ سورئہ طہٰ آیت ۶۸)

سَیِّدُ الخائفین :

اور جب بدر کے دن مسلمانوں کی شوکت کمزور پڑی تو نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی۔ اَللَّھُمَّ اِنْ تَھْلَکْ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃُ لَمْ یَبْقَ عَلَی وَجْہِ الْاَرْضِ اَحَدٌ یَعْبُدُکَ۔ ترجمہ : ’’یا اﷲ ! اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں رہے گا جو تیری عبادت کرے‘‘ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یار سول اﷲ ! اپنے رب سے مزید دعا نہ کریں وہ آپ سے کئے گئے وعدے کو پورا کرے گا۔ (صحیح جلد ۲ ص ۵۶۴ کتاب المغازی) تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا مقام اﷲ تعالیٰ کے وعدہ پر یقین کا مقام تھا اور نبی اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرنے کے مقام پر تھے اور یہ زیادہ کامل ہے کیونکہ اس کا صدور اﷲ تعالیٰ کے اسرار اور خفیہ امور نیز اس کی ان بعض صفات کے معانی کی کامل معرفت سے ہوتا ہے جن سے صادر ہونے والے بعض امور کو خفیہ تدبیر کہا جاتا ہے اور کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی صفات کی گہرائی سے آگاہ ہوسکے۔ بہرحال جو شخص حقیقتِ معرفت کو جان لے اور اسے یہ بھی معلوم ہوجائے کہ امور کی گہرائی کا احاطہ کرنے سے اس کی معرفت کوتاہ ہے تو لامحالہ اس کا خوف زیادہ ہوتا ہے اسی لئے جب حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے کہا جائے گا۔ أَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِی وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اﷲِ قَالَ سُبْحَانَکَ مَا یَکُوْنَ لِی اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِی نَفَسْیِ وَلاَ اَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِکَ ترجمہ : کنز الایمان’’کیا تو نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو خدا بنالو اﷲ کے سوا عرض کرے گا پاکی ہے تجھے مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہنچتی اگر میں نے ایسا کہا ہو تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے ‘‘ (پارہ۷ ‘ سورئہ مائدہ‘ آیت ۱۱۶) اور ارشاد فرمایا ۔ اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزَیْزُ الْحَکِیْمُ ترجمہ : کنز الایمان’’اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا ‘‘ ۔ (پارہ ۷‘ سورئہ مائدہ‘ ۱۱۸) توآپ (علیہ السلام)نے اس معاملے کو اﷲ تعالیٰ کی مشیت کے سپرد کردیا اور اپنے آپ کو درمیان سے مکمل طور پر باہر نکال دیا کیونکہ آپ ںجانتے تھے کہ (بخشش اور عذاب میں سے) کوئی بات آپ(علیہ السلام) کے اختیار میں نہیں اور بے شک اُمور مشیتِ خداوندی سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ عقل سے ان کا کوئی تعلق نہیں لہٰذا ان پر قیاس اور وہم و گمان سے بھی کوئی حکم نہیں لگایا جاسکتا تحقیق اور یقین تو ایک طرف رہے۔

قیامت کبریٰ :

اسی بات نے عارفین کے دل توڑ دیئے کیونکہ قیامت کبریٰ یہ ہے کہ تمہارا معاملہ اس ذات کی مشیّت سے ملا ہوا ہے کہ اگر وہ تمہیں ہلاک کردے تو اسے کوئی پرواہ نہیں اس نے تمہارے جیسے بے شمار لوگ ہلاک کردیئے اور وہ ان کو دنیا میں طرح طرح کی تکلیفوں اور بیماریوں کے ذریعے مسلسل عذاب دے رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے دلوں میں کفر اور منافقت کی بیماری بھی ہے پھر وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے پھر ان کے بارے میں یوں خبر دی۔ وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ھُدَاھَا وَلٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لاَمَلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃَ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ترجمہ : کنز الایمان’’اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت فرماتے مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھر دونگا ان جنوں اور آدمیوں سب سے ‘‘ (پارہ۲۱‘ سورئہ سجدہ‘ آیت ۱۳) اور ارشاد خداوندی ہے: وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لَاَمْلَأَنَّ جَھَنَّمَ۔ ترجمہ : کنز الایمان’’اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک ضرور جہنم بھردونگا‘‘ (پارہ ۱۲‘ہود‘ آیت ۱۱۹)

اعضاء پر ازلی فیصلے کا اثر:

تو جو قول ازل میں ثابت ہوچکا ہے اس کا خوف کیسے نہ کیا جائے اب تو سوائے تسلیم کے کوئی چارہ نہیں اور بندہ صرف یہی کرسکتا ہے کہ اپنے بارے میں ہونے والے ازلی فیصلے کے اثرات کو اپنے اعضاء پر ظاہر ہونے والے اثر میں تلاش کرے ۔پس جس کے لئے اسباب شر آسان ہوجائیں اور وہ بندے اور نیکی کے درمیان حائل ہوجائیں اور دنیا کے ساتھ اس کا تعلق مضبوط ہوجائے گویا اس کے لئے حقیقتاً ازلی فیصلہ جو کہ راز تھا منکشف ہوگیا جو اس کی بدبختی کو ظاہر کررہا ہے۔ کیونکہ جس شخص کو جس کام کے لئے پیدا کیا گیا وہ کام اس کے لئے آسان کردیا گیا اور اگر ہر قسم کی نیکی آسان کردی گئی ہو اور دل مکمل طور پر دنیا سے قطع تعلق کرچکا ہو اور وہ ظاہری طور پر اﷲ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تو یہ بات تحفیفِ خوف کا تقاضا کرتی ہے اگر اس پر دائمی یقین ہولیکن ایک ہی حال پر جما رہنا مشکل ہے اور خاتمے کا خطرہ خوف کی آگ کو شعلہ زن کرتا ہے اور اسے بھجانا ممکن نہیں اور حال کی تبدیلی سے بے خوفی کیسے ہوسکتی ہے جب کہ مومن کا دل رحمن ( عَزَّوَجَلَّ ) کی دو انگلیوں کے درمیان ہے (کنٹرول میں ہے) اور دل تو ہنڈیا کے جوش مارنے سے بھی زیادہ الٹ پلٹ ہوتا ہے اور دلوں کو پھیرنے والے نے ارشاد فرمایا۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّھِمْ غَیْرُمَامُوْنٍ۔ ’’بے شک ان کے رب کے عذاب سے بے خوفی نہیں ہے۔‘‘ (پارہ ۲۹سورۃ المعارج آیت ۲۸) چنانچہ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! وہ شخص زیادہ جاہل ہے جو اس سے بے خوف ہو حالانکہ وہ بے خوفی سے پرہیز کا اعلان کررہا ہے اگر اﷲ تعالیٰ اپنے عارف بندوں پر مہربانی کرتے ہوئے رُوحِ امید کے ساتھ ان کے دلوں کو راحت نہ پہنچاتا تو خوف کی آگ سے ان کے دل جل جاتے پس امید کے اسباب اﷲ تعالیٰ کے خاص بندوں کے لئے رحمت ہیں اور غفلت کے اسباب ایک اعتبار سے عام لوگوں کے لئے رحمت ہیں اس لئے کہ اگر پردہ اٹھ جائے تو جان نکل جائے اور دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں ۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی عارف کا قول ہے کہ جس شخص کو میں پچاس سال سے توحید پر جانتا ہوں اگر اس کے اور میرے درمیان ایک ستون حائل ہوجائے اور وہ مرجائے تو میں اس کے عقیدئہ توحید کے بارے میں قطعی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کیوںکہ مجھے معلوم نہیں کہ اس کی حالت میں شاید کوئی تبدیلی آئی ہو۔ ایک اور بزرگ فرماتے ہیں اگر شہادت گھر کے دروازے پر ملے اور اسلام پر موت حجرے کے دروازے پر ہو تو میں اسلام پر موت کو ترجیح دوں گا کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ حجرے کے دروازے اور حویلی کے دروازے کے درمیان میرے دل کی کیا کیفیت ہوجائے۔ حضرت سیدنا ابو دردائ( رضی اﷲ عنہُ) فرماتے ہیں جو شخص موت کے وقت ایمان کے سلب ہوجانے سے بے خوف ہو اس کا ایمان سلب ہوجاتا ہے۔ اور حضرت سیدنا سہل رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں صدیقین کا خوف یہ ہے کہ وہ ہر خطرے اور ہر حرکت کے وقت برے خاتمے سے ڈرتے ہیں اور انہی لوگوں کا وصف اﷲ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا۔ وَقُلُوْبُھُمْ وَجِِلَۃٌ ۔ (سورئہ مومنون آیت ۶۰) جب حضرت سیدنا سفیان رحمہ اﷲ تعالیٰ کے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے رونا اور چیخنا شروع کردیا ان سے کہا گیا کہ اے ابو عبد اﷲ ص! آپ کو اﷲ تعالیٰ پر امید رکھنی چاہئے بے شک اﷲ تعالیٰ سے امید آپ صکے گناہوں سے بھی بڑی ہے انہوں نے فرمایا کیا میں اپنے گناہوں پر روتا ہوں ؟ اگر مجھے معلوم ہو کہ میری موت عقیدئہ توحید پر آئے گی تو مجھے کوئی پرواہ نہیں اگرچہ میں پہاڑوں کے برابر گناہوں کے ساتھ اﷲ تعالیٰ سے ملاقات کروں۔

بادام اور شکر:

خوف کھانے والے کسی بزرگ رحمہ اﷲکے بارے میں بیان کیا گیا کہ انہوں نے اپنے ایک بھائی کو وصیت کرتے ہوئے کہا کہ جب میری وفات ہوجائے تو تم میرے سرہانے بیٹھ جانا اگر تم دیکھو کہ میری رُوح توحید پر پرواز کر گئی تو میرا تمام مال لے کر اس سے بادام اور شکر لے کر شہر کے بچوں میں تقسیم کردینا اور کہنا کہ یہ قید سے چھوٹنے والے فلاں شخص کی طرف سے شیرینی ہے اور اگر میں توحید پر نہ مروں تو لوگوں کو بتادینا تاکہ وہ دھوکے سے میرے جنازے میں شریک نہ ہوں اور وہی شخص جنازے میں آئے جو بصیرت کے ساتھ آنا چاہے اور مجھے وفات کے بعد ریا کاری لاحق نہ ہو اس نے پوچھا توحید کی علامت کیا ہوگی ؟ ان بزرگ رحمہ اﷲنے اسے ایک علامت بتائی چنانچہ اس شخص نے ان کی وفات کے وقت وہ علامت دیکھی اور شکر اور بادام خرید کر تقسیم کئے۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن