دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Ihya ul Uloom | فیضان احیاءالعلوم

Ikhlas e Niyat Ka Maqsad or is ki Haqeeqat Ka Bayan

book_icon
فیضان احیاءالعلوم
            

دوسرا باب

اخلاص‘ اسکی فضیلت‘ حقیقت‘ درجات

فصل …۱ فضیلتِ اخلاص:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اخلاص اﷲ (
عَزَّوَجَلَّ ) کو نہایت پسند ہے اور شیطان صرف مخلص لوگ ہی محفوظ رہ سکتے ہیں چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: وَ مَا اُمِرُوْا اِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ترجمہ کنزالایمان: ’’اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے‘‘(پارہ۳۰‘ سورۂ البینۃ ‘آیت ۵) اور ارشاد باری تعالیٰ: اَلاَ لِلّٰہِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ترجمہ کنزالایمان: ’’ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے‘‘ (پارہ ۲۳ ‘سورۂ زمر ‘ آیت ۳) اور ارشاد خدا وندی ہے: اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰہِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَھُمْ لِلّٰہِ ترجمہ کنز الایمان: ’’مگر وہ جنہوں نے توبہ کی اور سنورے اور اللہ کی رسی مضبوط تھامی اور اپنا دین خالص اللہ کیلئے کر لیا‘‘۔ (پارہ ۵‘سورۃ النسائ‘ آیت ۱۴۶) اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَائَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَلاَیُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖ اَحَدًا ترجمہ کنز الایمان: ’’تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے‘‘ ۔ (پارہ۱۶ ‘سورۂ کہف‘ آیت۱۱۰) یہ آیت مبارکہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو لوگوں کی دادو تحسین حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ نبی اکرم ، شاہ بنی آدم، نور مجسم( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) نے ارشاد فرمایا: ثَلاَثٌ لاَ یَغِلُّ عَلَیْھِنَّ قَلْبُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ اِخْلاَصُ الْعَمَلِ لِلّٰہِ وَالنَّصِیْحَۃُ لِلْوُلاَۃِ وَ لُزُوْمُ الْجَمَاعَۃِ۔ ترجمہ : ’’یعنی تین کام ایسے ہیں جن کے بارے مرد مومن کا دل خیانت نہیں کرتا خالص اللہ تعالیٰ کیلئے عمل کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی اور جماعت سے وابستگی‘‘ (مسند امام احمد بن حنبل ، ج ۴، ص ۸۰، مرویات جبیر بن مطعم)

اﷲ ( عَزَّوَجَلَّ ) کی مدد… :

حضرت سَیِّدُنَا مصعب بن سعد(
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )اپنے والد حضرت سیدنا سعد( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )سے روایت کرتے ہیں ،فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب کو خیال آیا کہ انہیں حضوراکرم ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )کے بعض صحابہ (علیہم الرضوان)پر فضیلت حاصل ہے جو اُن سے درجے میں کم ہیں تو نبیِ آخر الزماں( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )نے ارشاد فرمایا : اِنَّمَا نَصَرَ اﷲُ عَزَّوَجَلَّ ھَذِہِ الْاَُمَّۃَ بِضُعَفَائِھَا وَدَعْوَتِھِمْ وَاِخْلَاصِھِمْ وَصَلَاتِھِمْ۔ ترجمہـ:’’اﷲ تعالیٰ نے اِس امت کی مدد اِس کے کمزوروں ‘ اُن کی دعاؤں، اخلاص اور اُن کی نمازوں کے ذریعے فرمائی ہے ‘‘(السنن الکبری للبیہقی ) حضرت سیدناحسن بصری ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم‘ نور مجسم ، شاہ بنی آدم( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) نے ارشاد فرمایا: یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالیٰ الْاِخْلاَصُ سِرٌّ مِّنْ سِرِّیْ اسْتَوْدَعْتُہٗ قَلْبَ مَنْ اَحْبَبْتُ مِنْ عِبَادِیْ۔ ترجمہ : ’’یعنی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اخلاص میرے رازوں میں سے ایک رازہے جو میں نے اپنے ان بندوں کے دلوں میں بطور امانت رکھا ہے جن سے مجھے محبت ہے‘‘۔ حضرت سیدناعلی المرتضٰی (کرَّم اللّٰہُ تعالیٰ وجہہ الکریم)فرماتے ہیں، عمل کی فکر نہ کرو بلکہ اس کی قبولیت کی فکر کرو کیونکہ نبی کریم رؤف و رحیم ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) نے حضرت سَیِّدُنَا مَعاذ بن جبل ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) سے فرمایا: اِخْلِصِ الْعَمَلَ یُجْزِکَ مِنْہُ الْقَلِیْلُ ترجمہ : ’’یعنی اپنے عمل کو خالص کرو تھوڑا بھی کافی ہوگا‘‘ (مستدرک حاکم، ج ۴، ص ۳۰۶، کتاب الرقاق)

حکمت کے چشمے :

نبیوںکے سالار ، سرکار ابد قرار، شافع روز شمار(علیہ و علیہم الصلوٰۃ والسلام) کا فرمان رحمت بار ہے:
مَا مِنْ عَبْدٍ یَخْلِصُ لِلّٰہِ الْعَمَلَ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اِلاَّ ظَھَرَتْ یَنَابِیْعُ الْحِکْمَۃِ مِنْ قَلْبِہٖ عَلَی لِسَانِہٖ ترجمہ : ’’یعنی جوبندہ چالیس دن خالص اللہ تعالیٰ کیلئے عمل کرے اللہ تعالیٰ حکمت کے چشمے اس کے دل سے اس کی زبان پرجاری فرما دیتا ہے‘‘ (الترغیب و الترھیب، ج اول، س ۵۶، مقدمۃ الکتاب)

تین بد نصیب :

سَیِّدُنَا امام ترمذی(
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) اپنی کتاب ترمذی شریف میں ایک روایت سَیِّدُنَاابو ھریرہ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) سے نقل کرتے ہیںکہ نبی کریم ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) نے ارشاد فرمایا:’’ قِیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں سے سوال ہوگا۔ ایک وہ جسے اللہ ( عَزَّوَجَلَّ )نے دنیا میں علم عطا فرمایا ہوگااللہ تبارک و تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو نے اپنے علم کے سلسلے میں کیا کیا ۔ وہ کہے گا، اے میرے رب ( عَزَّوَجَلَّ )میں دن اور رات اس علم کی خدمت میں بسر کرتاتھا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا ، تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے (علیہم السلام) بھی کہیں گے کہ تو جھوٹ بولتا ہے ، تیرا مقصد تو یہ تھا کہ تجھے عالم کہہ کہ پکارا جائے ، ایسا ہو چکا ہے (یعنی دنیا میں لوگ تجھے عالم کہتے تھے )۔ دوسرا وہ شخص ہوگا جسے رب کائنات( عَزَّوَجَلَّ ) مال عطا فرمایا اس سے پوچھے گا میرے اس انعام کے جواب میں تونے کیا کیا ۔ وہ جواب دے گا، اے میرے رب ( عَزَّوَجَلَّ )میں تیرے دیے ہوئے مال کو دن رات صدقہ کرتا رہتا تھا ۔ اللہ رب العزّت ( عَزَّوَجَلَّ )فرمائے گا ، تو جھوٹ کہتا ہے اور ملائکہ(علیہم السلام)بھی کہیں گے تو جھوٹ کہتا ہے بلکہ تیرا مقصد تو اپنے آپ کو سخی کہلوانا تھا چنانچہ تجھے سخی کہہ لیا گیا ہے۔ پھر ایک تیسرا شخص اللہ ( عَزَّوَجَلَّ ) کی بارگا ہ میں پیش کیا جائیگاجسے راہ خدا( عَزَّوَجَلَّ ) میں قتل کیا گیا ہوگا۔رب لم یزل( عَزَّوَجَلَّ )فرمائے گا تونے کیا کیا۔ وہ کہے گا، اے میرے مالک مجھے جہاد کا حکم دیا گیا ، میں تیری راہ میںلڑا یہاں تک کہ قتل کر دیا گیا ۔ رب قہّار ( عَزَّوَجَلَّ )فرمائے گاتو جھوٹ کہتا ہے اور فرشتے (علیہم السلام) بھی کہیں گے تو جھوٹ بولتا ہے بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے سو تجھے بہادر کہہ لیا گیا ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا ابو ھریرہ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )فرماتے ہیں کہ اتنا ارشاد فرماکر میرے آقا ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) نے میری ران پر ایک لکیر کھینچی اور فرمایا ، اے ابو ھریرہ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )یہ وہ لوگ ہیں کہ قیامت کے دن جہنم کی آگ سب سے پہلے ان پر بھڑکائی جائے گی ‘‘۔ ( جامع ترمذی، ص ۳۴۳، ۳۴۴، ابواب الزھد) جب اس حدیث کے راوی (ص)حضرت امیر مَعاویہ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ حدیث پاک بیان کی تو ان پر شدید گریہ طاری ہو گیا یہاں تک کہ لگتا تھا کہ خوف خدا(ل) سے انکی روح پرواز کر جائے گی ۔ اللہ( عَزَّوَجَلَّ )کا ارشاد پاک ہے: مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَھَا نُوَفِّ اِلَیْھِمْ اَعْمَالَھُمْ فِیْھَا وَ ھُمْ فِیْھَا لاَ یُبْخَسُوْنَ ترجمہ کنز الایمان: ’’جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس میں اس کا پورا پھل دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے‘‘(پارہ۱۲‘ سورئہ ہود‘ آیت ۱۵)

دو دینار کی خاطر :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بنی اسرائیل کی روایات میں سے ایک روایت یہ ہے کہ ایک عابد نے طویل عرصے تک اللہ (
عَزَّوَجَلَّ ) کی عبادت کی پھر اسے کچھ لوگوں نے خبر دی کہ فلاں جگہ کچھ لوگ ایک درخت کی پوجا کرتے ہیں یہ سن کر اسے بہت غصہ آیا اور وہ درخت کاٹنے کے ارادے سے کلہاڑا اپنے کاندھے پر رکھ کر اس درخت کی طرف روانہ ہوا راستے میں شیطان ایک بزرگ کی صورت میں اسکے سامنے آیا اور اسکا ارادہ دریافت کیا اسنے کہا میں اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں ۔ شیطان نے کہا تجھے اس درخت سے کیا غرض تو اپنی عبادت اور نفس کی مشغولیت کو چھوڑ کر دوسروں کاموں میں کیوں دخل دیتا ہے۔ عابد نے جواب دیا یہ کام بھی میرے لئے عبادت کا درجہ رکھتا ہے ۔ شیطان نے تیور بدل کر کہا لیکن میں ہر گز تجھے درخت نہیں کاٹنے دوں گا چنانچہ دونوں میں جھگڑا ہونا شروع ہو گیا کچھ دیر بعد عابد نے شیطان کو زمین پر دے مارا اور اسکے سینے پر چڑھ بیٹھا ۔ شیطان نے کہا ، مجھے چھوڑ دے میں تجھ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ عابد نے اسے چھوڑ دیا تو کہنے لگا ، اے بھلے مانس اللہ تعالیٰ نے تو یہ کام تجھ پہ فرض نہیں کیا ،تو اس کی پوجا بھی نہیں کرتا پھر بھلا دوسرے کی پوجا کا گناہ تجھے کیوں ملے گااور پھر دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بے شمار انبیاء کرام (علیہم السلام) ہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انہیں درخت کاٹنے کا حکم فرما دیتا۔عابد نے غصے سے کہا ، میں اسے ضرور کاٹوںگا پھر دونوں میں لڑائی ہونے لگی اور عابد نے ایک مرتبہ پھر اسے پچھاڑ دیا ۔جب ابلیس عاجز آگیا تو اس نے ایک نئی چال چلی اور کہنے لگا کہ آئو ہم ایک بات پر فیصلہ کر یں۔ اس میں تمہارا بہت فائدہ ہے عابد نے کہا وہ کیا، شیطان بولا تم ایک فقیر آدمی ہو تمہارے پاس کچھ نہیں تم دوسروں پر بوجھ بنے رہتے ہو اور دوسرے تمہاری خبر گیری کرتے ہیں کیا تمہیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ تم اپنے بھائیوں سے اچھا سلوک کرو، پڑوسیوں کی غم خواری کرو اور لوگوں کی مدد سے بے نیاز ہو جائو ؟ عابد نے جواب دیا ، ہاں یہ بات تو ہے۔ شیطان نے کہا تو بس ٹھیک ہے تم درخت کاٹنے کا ارادہ ترک کردو تو میں ہر رات دو دینار تمہارے سرہانے رکھ دیا کروں گا۔ جب صبح اٹھو تو ایک اپنے اوپر خرچ کرو اور ایک اپنے بھائیوں پر صدقہ کردو۔تو یہ تمہارے لئے اس درخت کہ کاٹنے سے زیادہ نفع بخش ہے کیونکہ اگر تم درخت کاٹ بھی دو تب بھی درخت کے پجاری اسکی جگہ کوئی دوسرا درخت لگا لیں گے اور اس طریقے سے نہ تو تمہارا کوئی فائدہ ہوگا اور نہ تمہارے بھائیوں کا بھلا ہو سکے گا ۔ عابد شیطان کی بات سن کر سوچ میں پڑ گیا اور دل ہی دل میں کہنے لگا … میں نبی نہیں ہوںکہ اس درخت کا کاٹنا مجھ پر لازم ہو ، مجھے بطور خاص اللہ( عَزَّوَجَلَّ ) نے اس درخت کے کاٹنے کا حکم بھی نہیں دیا کہ میں نافرمانی کر کے گنہگار کہلائوںاور جو کچھ یہ بزرگ فرماتے ہیں اس میں میرا اور میرے بھائیوں کا فائدہ ہی تو ہے لہٰذا اسے مان لینے میں کوئی حرج نظر نہیں آتا۔۔۔ چنانچہ عابد نے شیطان سے وعدہ کر لیا کہ وہ درخت نہیں کاٹے گا ۔ اور گھر کی طرف لوٹ گیا اگلی صبح اسکے تکیے کے نیچے دو دینارموجود تھے اب تو یہ خوشی سے پھولا نہ سمایا ۔ دوسرے دن بھی یہی معاملہ ہوا لیکن تیسرے دن جب تکیے کے نیچے دیکھا تو وہاں کچھ نہ تھا اب تو عابد غصے آگ بگولہ ہو گیا ، کلہاڑا کندھے پر رکھا اور درخت کاٹنے کیلئے چل پڑا ۔ اب کی بار پھر شیطان اسکے راہ میں حائل ہوا اور پوچھا کہ کہا ں کا ارادہ ہے عابد نے کہا بس اب میں درخت ضرور کاٹوں گا شیطان نے کہا خدا کی قسم اب تم درخت نہیں کاٹ سکتے چنانچہ پہلے کی طرح عابد نے شیطان کو پکڑا اور زمین پر پٹخ دینا چاہا لیکن اس مرتبہ شیطان نے اسے کسی چڑیا کی طرح دبوچا اور زمین پر پٹخ کر اسکے سینے پر سوار ہو گا او خوفناک لہجے میں بولا اپنے ارادے سے باز آجا ورنہ میں تیرا گلا کاٹ دوںگا ۔ یہ معاملہ دیکھ کر عابد کے ہوش گم ہو گئے اور وہ تھر تھر کانپتے ہو ئے بولا ، اے شخص پہلے تو میں تجھ پہ غالب آیا کرتا تھا لیکن اس مرتبہ تو مجھ پر غالب آگیا ہے اس کی کیا وجہ ہے ۔ اس پر شیطان نے جو جواب دیا وہ گرہ میں باندھ لینے کے قابل ہے شیطان بولا، پہلی دو مرتبہ تمہیں جو غصہ تھا وہ محض اللہ ( عَزَّوَجَلَّ ) کی خاطر آیا تھا اور تم آخرت کے ثواب کی نِیّت کیے ہوئے تھے اسی لئے اللہ ( عَزَّوَجَلَّ ) نے تمہیں مجھ پر غلبہ عطا فرمایا تھا لیکن اس مرتبہ تمہیں جو غصہ آیا اسکا سبب کچھ اور نہیں بلکہ صرف دیناروں کی عدم دستیابی تھی چنانچہ تمہارا غصہ محض اپنی ذات اور دنیا کی خاطر تھا اس لئے میں نے باآسانی تمہیں زیر کر لیا ۔میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت نے اللہ ( عَزَّوَجَلَّ )کے سچے کلام کی تصدیق کر دی ارشاد باری تعالیٰ: اِلاَّ عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ترجمہ کنز الایمان: ’’مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں‘‘ (پارہ ۲۳ سورۂ ص ‘ آیت ۸۳) کیونکہ انسان کو شیطان سے صرف اخلاص ہی کی بدولت چھٹکارا ملتا ہے اسی لئے حضرت سَیِّدُنَا معروف کرخی (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) اپنے آپ کو زود کوب کرتے ہوئے اپنے نفس کو ڈانٹا کرتے تھے کہ اے نفس اخلاص کو اختیار کر لے تاکہ تو چھٹکارا پائے ۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اخلاص کیا ہے ؟ آئیے مشہور بزرگ حضرت سَیِّدُنَا یعقوب مکفوف( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )سے سنتے ہیں۔آپ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )فرماتے ہیں کہ مخلص وہ شخص ہے جو اپنی نیکیوں کو بھی اسی طرح چھپائے جیسے اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے ۔ اورحضرت سَیِّدُنَا سلیمان (رحمہ اللہ تعالیٰ) مخلصین کو بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں، کہ خوشخبری ہے اس شخص کیلئے جسکا ایک قدم بھی صحیح ہو جائے جس سے وہ محض رضائے الٰہی کا ارادہ کرے ۔ خلیفہ دوئم حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطّاب ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )نے حضرت سَیِّدُنَا ابو موسیٰ اشعری( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )کو ایک مرتبہ کچھ اس طرح کی تحریر بھیجی کہ جسکی نِیّت صحیح ہو جائے اللہ تعالیٰ اسے اسکے ان معاملات میں کافی ہو جاتا ہے جو اسکے اور لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ کسی ولی کامل ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )نے اپنے بھائی کو خط لکھا ’’ اپنے اعمال میں اخلاص نِیّت اختیار کرو تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا ‘‘۔ اور حضرت سَیِّدُنَا ایوب سختیانی ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )فرماتے ہیں ’ عمل کرنے والوں کیلئے سب سے زیادہ مشکل کام نِیّت کو خالص کرنا ہے ‘‘ اور حضرت سَیِّدُنَا مطرف(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) فرماتے تھے ، جو آدمی خالص نِیّت رکھتا ہواسکا اجر بھی خالص ہوتا ہے اور جسکی نِیّت میں جس قسم کی ملاوٹ ہو اسی قسم کا بدلہ اسے دیا جاتا ہے ۔

گدھا کہاں گیا :

کسی بزرگ (رحمہ اللہ تعالیٰ) کو خواب میں دیکھا گیا تو پوچھا کہ آپ (رحمہ اللہ تعالیٰ) نے اپنے اعمال کو کیسا پایا، فرمانے لگے ، میں نے جو عمل بھی اللہ تعالیٰ کیلئے کیا تھا اسکا اجر پایا۔ حتی کہ انار کا ایک دانہ جو ایک مرتبہ راستے سے ہٹایا تھا اور ہماری ایک بلی مر گئی تھی (تو اسکے رنج و صدمے کے ثواب کو بھی) میں نے اپنی نیکیوں میں پایا اور میری ٹوپی میں ایک دھاگہ ریشم کا تھا تو میں نے اسے برائیوںکو پلڑے میں دیکھا ، اور میرا ایک گدھا جسکی قیمت ایک سو دینار تھی تو میں نے اسکا ثواب نہ پایا تو پوچھا ، کہ بلی کی موت کاثواب تو نیکیوں کے پلڑے میں ہے اور گدھے کی موت والا ثواب نہیں ،اسکی کیا وجہ ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ اس گدھے کا ثواب وہاں بھیجا گیا جہاں تو نے بھیجا تھا ۔کیونکہ جب تجھے تیرے گدھے کے مرنے کی اطلاع دی گئی تو تو نے کہا تھا اللہ کی لعنت میں گیا چنانچہ اس وجہ سے تیرا اجر باطل ہو گیا ۔ اور اگر تم یہ کہتے کہ اللہ کے راستے میں گیا تو اسے اپنی نیکیوں میں پاتے ۔(اسی وجہ سے ہمیں ہر مصیبت پر ’’اِنَّا لِلّٰہِ۔۔۔۔۔۔‘‘ پڑھ لینا چاہئے) ایک روایت میںہے کہ انہی بزرگ نے یہ بھی ارشاد فرمایا،کہ میں نے ایک مرتبہ صدقہ اخلاص کے ساتھ لوگوں کے سامنے دیا اور لوگوں کا دیکھنا مجھے اچھا لگا تو اس کا مجھے نہ تو کوئی ثواب ملا نہ عذاب۔ یہ بات سن کر حضرت سَیِّدُنَا سفیان ثوری(
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )فرمانے لگے یہ تو ان کی خوش نصیبی ہے کہ عذاب نہ ہوا بلکہ یہ تو عین احسان ہے ۔ اور حضرت سَیِّدُنَا یحییٰ بن مَعاذ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) فرماتے ہیں’’ اخلاص اعمال کو عیبوں سے اس طرح ممتاز کر دیتا ہے جسطرح دودھ گوبر اور خون میں سے نکل کر آتا ہے لیکن صاف ستھرا ہوتا ہے ۔ مروی ہے کہ ایک شخص عورتوں کا لباس پہن کر عورتوں کے اجتماعات میں جاتا تھا اور انکی غمی و خوشی کی تقریبات میں شریک ہو تا تھا ایسی ہی کسی محفل میں ایک مرتبہ وہاں ایک قیمتی موتی چوری ہو گیااور آواز دی گئی کہ دروازہ بند کرکے ایک ایک کی تلاشی لو حتی کہ اس شخص کے برابر والی عورت کی باری آئی تو اس شخص نے بڑے اخلاص کے ساتھ اللہ ( عَزَّوَجَلَّ )سے دعا مانگی ’’ یا اللہ( عَزَّوَجَلَّ ) آج اگر ذلت سے چھٹکارا عطا فرمادے تو پھر کبھی ایسا کام نہیں کرو ں گا۔تو وہ موتی برابر والی عورت کے پاس سے مل گیا اور اعلان کیا گیا کہ موتی مل گیا ہے اب کسی کی تلاشی نہ لی جائے(پتہ چلا کہ اخلاص کے ساتھ دعا کرنے سے بلائیں اور پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں)‘‘۔

حج بہتر ہے یا ہل چلانا :

ایک بزرگ (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں میں حضرت سَیِّدُنَا ابو عبید تستری (رحمہ اللہ تعالیٰ)کے ساتھ کھڑا تھا و ہ نو(۹) ذی الحجہ کے دن کھیت میں ہل چلا رہے تھے اسی دوران ان کا کوئی بھائی جو کے ابدال تھا آیا اور آہستہ سے کچھ بولا آپ(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے فرمایا’’ نہیں‘‘۔ اس پر وہ بادلوں کی سی تیزی سے واپس چلا گیا ۔ میں نے حضرت ابو عبید(
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )سے پوچھا ’’ اس نے آپ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )کو کیا کہا تھا؟‘‘۔ تو جواب دیا ’’ اس نے مجھ سے کہا تھا میرے ساتھ حج کرو ، میں نے کہا نہیں‘‘۔ وہ بزرگ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کہنے لگے ’’آپ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )نے انکار کیوں فرمایا‘‘۔ انہوں نے جواب دیا’’ اسلئے کہ اس وقت میری نِیّت حج کی نہیں تھی بلکہ میرا ارادہ تو یہ تھا کہ سورج غروب ہونے سے پہلے اس کھیت کا کام نمٹا لوں ۔چنانچہ میں نے سوچا کہ اگر میں بغیر نِیّت کے محض اس ابدال کے کہنے سے حج کرو ں تو کہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا شکار نہ ہو جائوں، کیونکہ اس طرح تو یہ حج اللہ تعالیٰ کے لئے نہ ہوگا بلکہ کسی اور کی خاطر ہوگا اور جو کام میں کر رہا ہوں یعنی رزق حلال کے لئے محنت کررہا ہوں وہ میرے لئے ایسے ستّرحجـوں سے زیادہ بڑا ہے‘‘۔

مجاہد یا تاجر :

ایک دوسرے بزرگ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) فرماتے ہیں’’ میں ایک مرتبہ سمندر کے راستے جہاد کیلئے نکلا تو کسی کے پاس مجھے ایک توشہ دان نظر آیا ، میں نے سوچا اسے خرید لیتا ہوںکہ دوران جہاد بھی کام آئے گا اور میںجب فلاں شہر پہنچوں گا تو اسے بیچ کر نفع حاصل کرلوں گا چنانچہ میں نے اسے خرید لیا اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے دو آدمی اترے ہیں ایک دوسرے سے کہتا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میںجہاد کرنے والوں کے نام لکھو چنانچہ وہ اسے لکھواتا ہے کہ فلاںشخص جو بظاہر جہاد کو نکلا ہے اسکا مقصد فلاں شہر کی سیر کرنا ہے۔ فلاں ریا کار ی کی غرض سے نکلا ہے ۔فلاںتاجر ہے۔ پھر میری طرف دیکھا کہ اسے تاجروں میں شمار کرومیں نے کہا خدا کا خوف کرو میں تو ہر گز تجارت کیلئے نہیں نکلا نہ میرے پاس کوئی مال تجارت ہے میں تو صرف جہاد کیلئے نکلا ہوں ۔ اس نے کہا جناب کیا آپ نے کل رات ایک توشہ دان نہیںخریدا جسے آئندہ بیچ کر آپ نفع حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ سن کرمیں رونے لگا اور میں نے کہا کہ مجھے تاجر نہ لکھو ۔ اس نے اپنے دوسرے ساتھی کی طرف دیکھا اور پوچھا کیا خیال ہے ؟ ۔ اسنے جواباً کہایوں لکھو کہ فلاں شخص جہاد کو نکلا لیکن راستے میں اسنے ایک توشہ دان خریدا تاکہ اسے بیچ کے نفع حاصل کرے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اسکے بارے میں جو چاہے فیصلہ فرمائے۔

د و رکعتیں :

حضرت سَیِّدُنَا سر ی سقطی(
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )فرماتے ہیں’’ اگر تم اخلاص کے ساتھ تنہائی میں دو رکعتیں پڑھ لو تو یہ بات تمہارے لئے ستّر یا سات سو عمدہ سند کی حدیثیں لکھنے سے بہتر ہے ‘‘۔ ایک دوسرے بزرگ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کا قول ہے ایک گھڑی کا اخلاص بھی ہمیشہ کی نجات کا باعث ہے لیکن اخلاص بہت ہی کم پایا جاتا ہے۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کہا جاتا ہے کہ علم بیج ہے ، عمل کھیتی اور اخلاص اسکا پانی بعض بزرگان دین (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم) فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی بندے کو ناپسند فرماتا ہے تو اسے تین باتیں عطا کرتا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ تین باتوں سے محروم کر دیتا ہے۔(۱)اسے صالحین کی صحبت تو عطا فرماتا ہے لیکن وہ انکی کوئی بات قبول نہیں کرتا۔(۲)اسے اچھے اعمال کی توفیق دیتا ہے لیکن وہ انہیں اخلاص سے نہیں کرتا۔(۳) حکمت تو عطا فرماتا ہے لیکن سچائی سے محروم کر دیتا ہے۔ مشہور بزرگ حضرت سَیِّدُنَا موسیٰ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) فرماتے ہیں بندوں کے اعمال میںسے اللہ تبارک و تعالیٰ صر ف اخلاص کی طرف توجہ فرماتا ہے ۔ اور حضرت سَیِّدُنَا جنید بغدادی( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کا فرمان ہے’’اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو عقلمند ہیںچنانچہ وہ عمل کرتے ہیںاور انکے اعمال میں اخلاص موجود ہوتا ہے۔ پھر وہ اخلاص انکے لئے دیگر نیکیوں کا حصول آسان بنا دیتا ہے‘‘۔ حضرت سَیِّدُنَا محمد بن سعید مروزی( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )فرماتے ہیں’’تمام معاملات میں بنیادی باتیں صرف دو ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟ دوسرا یہ کہ تم اسکے ساتھ کیسا برتائو اختیار کرتے ہو؟۔تو دونوں جہانوں کی کامیابی اس میں ہے کہ تم اسکے سلوک پر راضی ہو جائو (یعنی ہمیشہ راضی برضا رہو)اور اپنی طرف سے یہ سلوک کرو کہ اپنے کاموں میں اخلاص پیدا کرو‘‘۔

فصل …۲ حقیقت اخلاص:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ملاوٹ تقریبًا ہر شئے میں ممکن ہے تو جب کوئی چیز ملاوٹ سے پاک ہو تو اسے خالص کہتے ہیںاور جس عمل کے ذریعے اسے خالص بنایا جاتا ہے وہ اخلاص کہلاتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے۔
نُسْقِیْکُمْ مِمَّا فِیْ بُطُوْنِہٖ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِیْنَ (پارہ۱۴ ‘سورہ نحل ‘آیت ۶۶) ترجمہ کنزالایمان: ’’ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جو انکے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کیلئے‘‘ ۔ دودھ کا خالص ہونا یہ ہے کہ اس میں خون اور گوبر بلکہ کسی ایسی چیز کی ملاوٹ نہ ہو جو اس میں مل سکتی ہو۔ اخلاص کی ضد ہے شریک کرنا چنانچہ جو شخص مخلص نہیں ہوتا وہ لغوی طور پرمشرک ہوتا ہے۔البتہ شرک کے کئی درجات ہیں۔

شرک کے درجات:

توحید میں اخلاص کی ضد یہ ہے کہ الوہیت (یعنی معبود ہونے )میں کسی کو اﷲ (
عَزَّوَجَلَّ ) کا شریک مانا جائے ۔شرک خفی (پوشیدہ )بھی ہوتا ہے اور جلی (ظاہر)بھی اسی طرح اخلاص کا معاملہ ہے ۔ دوسری بات یہ کہ اخلاص اور شرک دونوں کا تعلق دل سے ہوتا ہے ۔ یہ دونوں دل پر وارد ہوتے ہیں لہٰذا دل ان دونوں کا محل ہوتا ہے اور انکے وارد ہونے کا تعلق ارادے اور نِیّت سے ہے اور نِیّت کی حقیقت ہم بیان کر چکے ہیںاور یہ بھی سمجھا چکے ہیں کہ نِیّت عمل کی طرف ابھارنے والی غرض کے موافق ہوتی ہے ۔ چنانچہ جب عمل کی طرف ابھارنے والا صرف ایک ہو تو اسکی وجہ سے فعل صادر ہوگا وہ خالص ہوگا اور اسکا تعلق نِیّت سے ہے لہٰذا جو شخص صَدَقہ کرے اور اسکی نِیّت اور غرض دکھاوا ہو تووہ شخص خالص ریاکار ہے ۔لیکن عام بول چال میں اخلاص کا لفظ اس عمل پر بولا جاتا ہے جس کا مقصد صرف قرب الٰہی ہواور اس میں کسی دوسری نِیّت کی ملاوٹ نہ ہوجسطرح ’’اِلْحَاد ‘‘کا لغوی معنی میلان او ر جھکائو ہے لیکن عرف عام میں راہ حق سے بھٹک جانے کو الحاد کہتے ہیں اسلئے جس فعل کا باعث محض ریاکاری ہووہ ہلاکت کا باعث ہے لیکن یہاںہم ریاکار کے متعلق گفتگو نہیں کر رہے اُس سلسلے میں ایک آسان سی بات سمجھ لیجئے جو حدیث پاک میں وارد ہوئی ہے کہ قیامت کے دن ریاکار کو چار ناموں سے پکارا جائے گا، اے ریاکار، اے دھوکے باز،اے مشرک اور اے کافر(الجامع لاحکام القرآن، ج اوّل، ص ۱۹، مقدمۃ الکتاب) اس وقت ہم جو گفتگو کر رہے ہیں وہ اس سلسلے میں ہے کہ انسان کا مقصد قرب خداوندی ( عَزَّوَجَلَّ ) ہو لیکن اس میں کوئی دوسرا باعث مثلا ریاکاری یا نفسانی فوائد وغیرہ شامل ہو جائیں۔ اسکی مثال یوں سمجھئے کہ کوئی شخص تقرّب الٰہی کیلئے روزہ رکھے لیکن ضمنی طور پر معدے کو آرام پہنچانے کا فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہویا غلام آزاد کرے اور ضمنی طو رپہ یہ ارادہ بھی کرے کہ اس طرح غلام کی بد اخلاقی اور اخراجات سے چھٹکارا حاصل ہو جائے گا یا حج کرے اور ضمنی طور پہ یہ سوچے کے سیر کرنے سے مزاج اعتدال پر آجائے گا یا اپنے شہر میں پائے جانے والے کسی شر سے محفوظ رہے گایا اس شہر میں کوئی دشمن موجود ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے یا بیوی بچوں یا کسی دوسرے کام سے تھک چکا ہے اور کچھ دن آرام کرنا چاہتا ہے۔ ایک مثال یہ بھی ہے کہ کوئی شخص جہاد کرتا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ فن سپہ گری میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے یا لشکر وغیرہ کی تیار ی کا ڈھنگ سیکھنا چاہتا ہے یا کوئی شخص رات کو نماز پڑھتا ہے او رایک مقصد یہ بھی ہے کہ فی الوقت یہ سونا نہیں چاہتا ہے یا گھر والوں اور سامان کی حفاظت کرنا چاہتا ہے یا کوئی طالب علم اسلئے علم حاصل کرتا ہے کہ اس علم کے ذریعے اسے کچھ ما ل ( عَزَّوَجَلَّ ) آسانی سے حاصل ہو سکتاہے یا خاندان میں عزّت یا علم کی عزّت کے باعث لالچی لوگوں سے اسکی زمین اور مال محفوظ رہیں۔ یا کوئی شخص درس و تدریس یا وعظ و نصیحت میں مصروف ہوتا ہے اور ان کاموں سے اسکا ایک مقصد خاموشی کی تکلیف سے جان چھڑانا اور باتیں کرنے کی لذّت حاصل کرنا ہوتاہے یا کوئی شخص علماء و صوفیاء (رحمہم اللہ تعالیٰ ) کی خدمت اسلئے بھی کرتا ہو کہ دنیا میں اسکی عزت کی جائے گی یا اسکے ساتھ نرمی کا برتائو کیا جائیگا۔ یا کوئی شخص قرآن مجید اسلئے لکھتا ہو کہ بار بار کی کتابت سے لکھائی اچھی ہو جائے گی یا کوئی آدمی پیدل حج اسلئے کرے کہ کرایہ بچ جائے یا وضو اسلئے کرتا ہے کہ بدن صاف ہو جائے یا ٹھنڈک حاصل ہوغسل اسلئے کرتا ہے کہ بدن کی بو دور ہو یا حدیث پاک اسلئے روایت کرتا ہے تاکہ عمدہ اور اعلیٰ سند کا علم ہو یا مسجد میں اعتکاف کرتا ہے تاکہ گھر کے کرائے میںتخفیف ہو جائے یا روزہ رکھتا ہے تاکہ کھانے پکانے کے جھنجٹ سے بچ جائے۔ یا اسلئے کے دوسرے کاموں کیلئے فرصت مل جائے یا کوئی شخص سائل سے پیچھا چھڑانے کے لیئے صدقہ کرتا ہے یا کسی مریض کی بیمار پرسی اسلئے کرتا ہے کہ اگر وہ بیمار ہو تو اسکی بیمار پرسی کی جائے یا جنازے میں اسلئے جاتا ہے تاکہ لوگ اسکے جنازے میں بھی شرکت کریںیا ان کاموں میں کوئی کام اسلئے کرتا ہے کہ اسکی نیک نامی ہوجائے اور لوگ اسے اچھی نگاہ سے دیکھیں ۔ بہر حال جب کسی عمل کا باعث تقرب خداوندی ہو لیکن اسکے ساتھ اس قسم کے مذکورہ امور میں سے بھی کوئی بات ملی ہوئی ہو تو اور اس شخص پر ان امور کی شرکت کی وجہ سے عمل کرنے میں آسانی پیدا ہوجائے اب اسکا عمل مخلَص نہ رہا۔بلکہ اسمیں شرکت پائی گئی اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ میں ہر اس شخص سے بڑھ کر بے نیاز ہوں جو شرکت سے بے نیاز ہو۔

خلاصہ :

یہ ہوا کہ وہ تمام دنیاوی فوائد جن سے نفس کو آرام ملتا ہے اور دل ان کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے خواہ وہ کام کم ہوں یا زیادہ جب کسی عمل میں پائے جائیںتو وہ عمل صاف اور خالص نہیں رہتا اور انسان کی حالت تو یہ ہے کہ دنیا وی مفادات سے بندھا، نفسانی خواہشات کے سمندر میں غرق ہے اور بہت کم اسکا فعل یا عبادت اس قسم کے فوائد اور اغراض سے خالی ہوتے ہیںاسی لئے کہا گیا ہے کہ جس شخص کی زندگی کا ایک لمحہ بھی خالص رضائے الٰہی میں گزرا وہ نجات پا گیااور یہ بات اسلئے ہے کہ خلوص بہت نادر اور ان ملاوٹوں سے دل کا پاک وصاف ہونا نہایت مشکل ہے ۔ چنانچہ خالص تو وہ عمل ہے جسکا باعث صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے قرب کی طلب ہو اور اگر کسی عمل کا باعث مذکورہ بالا ملاوٹوں ہی میں سے کوئی ہو تو ایسے شخص کا معاملہ کتنا خطر ناک ہوگالیکن فی الحال ہمارے پیش نظر وہ صورتیں ہیں کہ جب بندے کا مقصد اصلی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہو پھر اسکے عمل میں مذکورہ ملاوٹیں شامل ہو جائیں تو کیا ہوگا؟ اور نِیّت کے باب میں یہ کہہ چکے ہیںکہ یہ ملاوٹ یا تو موافقت کے درجے میں ہوگی یا شرکت یا مددواعانت کے طور پر ہوگی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ باعثِ نفسی (یعنی نفس کی اپنی کوئی خواہش جو عمل کی طرف ابھارے) باعثِ دینی(یعنی حصول قرب خداوندی کی تمنّا)کے برابر ہو یا اس سے زیادہ قوی ہو یا کمزور ہو اور ہر ایک کا حکم الگ ہے جسے ہم عنقریب بیان کریں گے ۔

اخلاص کا مطلب :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! بہر حال اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ عمل ان تمام ملاوٹوں سے پاک ہو۔ ملاوٹ خواہ کم ہو یا زیادہ یہاںتک کہ صرف اﷲ (
عَزَّوَجَلَّ )کے قرب کی خواہش کے علاوہ عمل پر اسے کوئی شئے نہ ابھارے اور یہ بات اسی شخص سے صادر ہو سکتی ہے جو رب کائنات ( عَزَّوَجَلَّ )سے سچی محبت کرتا ہے ، اسکا عاشق زار ہے اور فکر آخرت میں اس قدر گرفتا رہے کہ اسکا دل دنیا کی محبت سے بیزار ہے اور دنیا کی محبت کیلئے دل میں کوئی جگہ موجود نہیں حتی کے اسے کھانے پینے کی طرف رغبت نہیںہوتی بلکہ اس سلسلے میں اسکی رغبت محض اتنی ہوتی ہے جس سے ضرورت پوری ہو جائے کہ یہ ایک فطری امر ہے لہٰذا وہ کھانے کی خواہش اسلئے نہیں کرتا کہ یہ کھانا ہے بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر قدرت حاصل ہوسکے ۔ وہ تمنّا کرتا ہے کہ کاش وہ بھوک کی آفت سے محفوظ ہو جائے ، تاکہ اسے کھانے کی ضرورت ہی نہ پڑے چنانچہ اسکے دل میں ضرورت سے زائد چیزوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور ضرورت کی چیزوں کی طلب بھی محض اس وجہ سے ہوتی ہے کہ یہ اسکے دین کی ضرورت ہے اسے اگرفکر ہوتی ہے تو صرف فکر الٰہی پس ایسا شخص جب کھاتا، پیتا یا قضائے حاجت کیلئے جاتا ہے تو تمام حرکات و سکنات میں اسکا عمل خالص اور نِیّت درست ہوتی ہے مثلا وہ اس نِیّت سے سوتا ہے تاکہ آرام حاصل کر کے عبادت کیلئے تیار ہو جائے ۔ تو اسکا سونا بھی عبادت ہے اور اس معاملے میں اسے مخلصِین کا درجہ حاصل ہوتاہے ۔ لیکن جس شخص کی حالت ایسی نہ ہو اس پر اعمال کے سلسلے میں اخلاص کا دروازہ بند رہتا ہے البتہ کبھی کبھار اسے یہ دولت نصیب ہوتی ہے ۔ اور جس طرح وہ آدمی جس پر اللہ تعالیٰ اور آخرت کی محبت غالب ہو اسکی عام حرکات میں بھی یہی رنگ جھلکتا ہے اور وہ مجسَّم اخلاص بن جاتا ہے اسی طرح وہ آدمی جسکے نفس پر کوئی دنیوی شئے مثلا ، دنیوی اقتدار، طاقت اور بلند مرتبہ وغیرہ کوئی ایسی شئے غالب آجائے جسکا رب ( عَزَّوَجَلَّ ) سے کوئی تعلق نہ ہو تو اسکی تمام حرکات میں بھی یہی رنگ جھلکتا ہے ، حتی کہ اسکی عبادتیں بھی اس ملاوٹ سے کم ہی محفوظ رہتی ہیں۔

اخلاص کس طرح حاصل ہوتا ہے :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پس اخلاص اسطرح حاصل ہوتا ہے کہ نفسانی خواہشات پر قابو پالیا جائے اور دنیاکی طمع کو ختم کر کے صرف آخرت کو پیش نظر رکھا جائے یعنی وہی دل پر غالب ہو اس وقت اخلاص آسان ہوگا کتنے ہی اعمال ایسے ہیں جن میں انسان تھکاوٹ برداشت کرتا ہے اور اس کے خیال میں یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضاکیلئے ہوتا ہے حالانکہ وہ اس سلسلے میں دھوکے کا شکار ہوتا ہے کیوں کہ ان میں آفت کی وجہ اسے معلوم نہیں ہوتی۔ جیسے کہ کسی بزرگ (
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کے بارے میں منقول ہے انہوں نے فرمایا ’’میں نے تیس سال کی نمازیں جومیں پہلی صف میں پڑھتا تھا، دوبارہ پڑھیں کہ ایک دن کسی عذر کی وجہ سے مجھے تاخیر ہوگئی اور میں نے دوسری صف میں نماز پڑھی اس سے مجھے لوگوں کے سامنے شرمندگی ہوئی کہ انہوں نے مجھے دوسری صف میں دیکھا اس سے مجھے معلوم ہوا کہ جب لوگ مجھے پہلی صف میں دیکھتے تھے تو اس سے مجھے خوشی ہوتی تھی اور یہ بات میرے لئے راحتِ قلبی کا سبب تھی لیکن مجھے اس کی خبر نہ تھی ‘‘ اور یہ ایک باریک اور پوشیدہ بات ہے کہ اس جیسی باتوں سے بہت کم اعمال محفوظ ہوتے ہیں اور اس بات سے صرف انہی لوگوں کو آگاہی ہوسکتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ اس بات کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ اور جو لوگ اس سے غافل ہیں وہ قیامت کے دن اپنی تمام نیکیوں کو گناہوں کی شکل میں پائیں گے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی سے وہی لوگ مراد ہیں۔ وَبَدَا لَھُمْ مِنَ اللّٰہِ مَا لَمْ یَکُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ o وَ بَدَالَھُمْ سَیِّئَاتُ مَا کَسَبُوْا ترجمہ کنز الایمان: ’’اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو انکے خیال میں نہ تھی ‘اور ان پر اپنی کمائی ہوئی برائیاںکھل گئیں‘‘ (پارہ۲۴ ‘سورۂ زمر‘ آیت ۴۷،۴۸) اور اللہ ( عَزَّوَجَلَّ )کا فرمان عبرت نشان ہے: قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالاً الَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا ترجمہ کنز الایمان: ’’تم فرمائو کیا ہم تمہیںبتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گم گئی اور وہ اس خیال میں ہیںکہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں‘‘ (پارہ ۱۶ سورۂ کہف‘ آیت ۱۰۳،۱۰۴) اور اس فتنے کا زیادہ تر شکار علماء ہیں کیوں کہ ان میں سے اکثر اپنے علم کو پھیلانے سے غلبے کی لذت دوسروں کواپنا فرمانبردار بنانے کی خوشی اور تعریف سے سرور محسوس کرتے ہیں۔ اور شیطان ان کو دھوکے میں ڈالتے ہوئے کہتا ہے تمہاری غرض تو دین خداوندی پھیلانا اور رسول کریم ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کے لائے ہوئے دین سے مخالفوں کو دور کرنا ہے اور ایسے مبلغین لوگوں اور بادشاہوں کی خیر خواہی اور وعظ و نصیحت کا (معاذ اللہ) اللہ تعالی پر احسان جتاتے ہیں او راس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ لوگ ان کی بات کو قبول کرتے ہیں اور ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور مبلغ دعوٰی کرتا ہے کہ میری خوشی کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کی نصرت میرے لئے آسان کردی ۔ حالانکہ اگر اس کا کوئی ہمعصر اس سے اچھا بیان کرتا ہو اور لوگ اِس سے ہٹ کر اُس کی طر ف متوجہ ہوجائیں تو یہ بات اسے بری لگتی ہے اور وہ غمگین ہوجاتا ہے ۔ اگر اس کے بیان کا باعث دین نہیں ہوتا تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ کام دوسرے کے سپرد کر دیا ۔اس کے باوجود شیطان اُس کا پیچھا نہیں چھوڑتا اور کہتا ہے کہ تیرے غم کا سبب تو یہ ہے کہ تجھ سے ثواب چلا گیا تو اس لئے غمگین نہیں کہ لوگ تجھے چھوڑ کر دوسری طرف چلے گئے ۔ کیوں کہ اگر وہ تیری بات سے نصیحت حاصل کرتے تو ثواب تجھے ہوتا اور تیرا ثواب کے چلے جانے پر غمگین ہونا اچھا ہے اور اس بیچارے کومعلوم نہیں کہ اس کا حق کیلئے جھکائو اور تبلیغ کا کام کرنا اپنے سے افضل کے سپرد کرنا زیادہ ثواب کا باعث ہے اور تنہا تبلیغ کے مقابلے میں اس صورت میں ثواب زیادہ ہوگا توبتائیے اگر حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) حضرت سَیِّدُنَاابو بکر صدیق ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کی خلافت پر غمگین ہوتے تو کیا یہ غم اچھا ہوتا یا برا؟یقیناکسی بھی دین دار آدمی کو اس بات میں شک نہیں کہ اگر حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) ایسا کرتے تو یہ بات قابِل تعریف نہ ہوتی کیوں کہ ان کا حق کے سامنے جھک جانا اور قوم کے معاملہ اپنے سے افضل کے سپرد کر دینا خود لوگوں کے مسائل کی ذمہ داری اٹھانے سے بہتر تھا اور اس میں ثواب بھی زیادہ ہے بلکہ حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق (ص) اس بات پر خوش ہوئے کہ جو شخصیت ان سے افضل ہے اس نے تن تنہا اس ذمہ داری کو اٹھایا۔ چنانچہ ایسے مبلغین و علماء کو کیا ہوا کہ وہ اس بات پر خوش نہیں ہوتے بعض اوقات کچھ اہل علم شیطان کے دھوکے میں آجاتے ہیں اور دل میں کہتے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے افضل عالم پیدا ہوا تو ہمیں خوشی ہوگی لیکن امتحان سے پہلے یہ بات کہنا محض جہالت اور نفس کا دھوکہ ہے کیونکہ نفس اس قسم کے وعدوں میں فورًا جھک جاتا ہے اور یہ اُسی وقت تک ہوتا ہے جب تک وہ معاملہ در پیش نہیں ہوتا لیکن جب وہ معاملہ آجاتا ہے تو اس میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور اپنے قول سے پھرجاتا ہے ، اور اس بات کی معرفت اسی شخص کو ہوسکتی ہے جو شیطان اور نفس کے مکرو فریب کو جانتا ہو اور اس سلسلے میں اسے کافی تجربہ ہو۔ تو میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حقیقتِ اخلاص کی معرفت اور اس پر عمل ایک گہرا سمندر ہے اس میں اکثر لوگ ڈوب جاتے ہیں محض اِکّادُکّا ہی محفوظ رہتے ہیں قرآن مجید کی اس آیت میں اس استثناء کا ذکر ہے ، چنانچہ اللہ ربّ العزّت کا فرمان برأت نشان ہے: اِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمُ الْمُخْلَصِیْنَ ترجمہ کنز الایمان: ’’مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں‘‘ (پارہ ۲۳ سورۂ ص ‘ آیت ۸۳)

فصل …۳ اخلاص کے بارے میں چند اقوال:

حضرت سَیِّدُنَا سُوسی (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) فرماتے ہیں اخلاص اس بات کا نام ہے کہ خود اپنے اخلاص پر بھی نظر نہ رہے کیوں کہ جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے اسکا اخلاص ابھی اخلاص کا محتاج ہے ۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سَیِّدُنَا سُوسی (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے جو کچھ فرمایا وہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اپنے عمل کو خود پسندی سے بھی پاک وصاف رکھا جائے کیوں کہ اخلاص کی طرف توجہ اور اس پر نظر بھی خود پسندی ہے اور یہ بھی آفات میں سے ایک آفت ہے خالص عمل وہ ہے جو تمام آفت سے پاک ہو اور یہ اپنے عمل کو خالص سمجھنا بھی ایک بڑی آفت ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا سہل (
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) فرماتے ہیں ’’اخلاص یہ ہے کہ بندے کی حرکت و سکون سب کچھ صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہو، آپ (ص)کا یہ قول جامع ہے اور اس سے بات پوری طرح مکمل ہوجاتی ہے ۔ حضرت سَیِّدُنَاابراھیم بن ادھم( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) کے قول کا بھی یہی مطلب ہے آپ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) نے فرمایا ’’ اخلاص اللہ تعالیٰ کے ساتھ نِیّت کو سچا کرنے کانام ہے‘‘۔ حضرت سَیِّدُنَاسہل( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )سے پوچھا گیا کہ نفس پر سب سے سخت بات کیا ہے؟ ۔ آپ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )نے فرمایا’’ اخلاص‘‘، کیوں کہ اس میں نفس کا اپنا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا رویم ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) فرماتے ہیں عمل میں اخلاص یہ ہے کہ عمل کرنے والا دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں اس عمل کا بدلہ نہ مانگے ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نفسانی مقاصد دنیوی ہوں یا اُخروی وہ آفت ہیں اور جو شخص اس لیے عبادت کرے کہ جنت میں نفسانی خواہشات سے بہرہ ور ہو وہ آفت زدہ ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عمل سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضامقصود ہونی چاہئیے اور یہ صدیقین کے اخلاص کی طرف اشارہ ہے جسے ’’خالص اخلاص‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن جو شخص جنت کی امید اور جہنم کے خوف سے عبادت کرتا ہے وہ فوری طور پر ملنے والے فوائد کے حوالے سے مخلص ہے ورنہ وہ پیٹ اور شرمگاہ کی خواہش کو پورا کرنے والا ہے اور عقل مند لوگوں کا سچا مطلوب تو فقط اللہ تعالیٰ کی رضا ہوتا ہے اور کسی قائل کا یہ قول اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی ہرحرکت کسی نہ کسی مقصد کیلئے ہوتی ہے۔ مقاصد و اغراض سے پاک ہونا تو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور جو اپنے لئے یہ دعوٰی کرے وہ کافر ہے ۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضرت سَیِّدُنَاابو بکر باقلانی ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )نے ان لوگوں کو کافرقرار دیا جو ہر قسم کی غرض سے پاک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور فرمایا، یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ۔ آپ ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) نے جو فرمایا وہ حق ہے لیکن لوگوں نے اغراض سے پاک ہونے کا مطلب یہ لیا ہے کہ بندہ کا عمل ان اغراض سے پاک ہو جن کو لوگ عرف ِعام میں غرض سمجھتے اور کہتے ہیں ۔جبکہ جنت کی خواہش بھی اپنی اصل کے لحاظ سے ایک غرض ہی ہے ۔اور معرفت ، مناجات اور دیدار الٰہی سے لطف اندوز ہونا تو مخلص لوگوں کی غرض ہے لیکن عام لوگوں کے نزدیک یہ باتیں غرض شمار نہیں ہوتی بلکہ وہ اس بات پر تعجب کرتے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اطاعت، مناجات اورباگارہ خداوندی کی دائمِی حاضِری جیسی اہم نعمتیں جو ان کے پاس ہیں اگر اس کے بدلے میں ان کوجنت کی تمام نعمتیں بھی دی جائیں تو وہ اسے حقیر جانیں اور اس کی طرف متوجہ نہ ہوں پس ان کی حرکت بھی کسی غرض کیلئے ہوتی ہے اور عبادت کا بھی ایک مقصد ہوتا ہے اوروہ فقط ذاتِ معبود ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ۔

اپنے خالق ( عَزَّوَجَلَّ ) کو دیکھ :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حضرت سَیِّدُنَاابو عثمان (ص)فرماتے ہیں’’ اخلاص یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے خالق کی طرف دیکھے اور یوں مخلوق کو دیکھنا بھول جائے‘‘۔ اس قول میں صرف ریا کی آفت کی طرف اشارہ ہے اسی لیے بعض بزرگوں (رحمہم اللہ تعالیٰ) نے فرمایا عمل میں اخلاص یہ ہے کہ شیطان اس پر مطلع نہ ہو ورنہ وہ اسے بگاڑ دے گا اور نہ فرشتوں کو اس کا علم ہو کہ وہ اسے لکھیں یہ محض پوشیدہ رکھنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اخلاص وہ چیز ہے جو مخلوق سے پوشیدہ اور ملاوٹ سے پاک ہو۔ یہ قول تمام مقاصد کو جامع ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا محاسبی (
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )فرماتے ہیں ’’اخلاص یہ ہے کہ بندہ رب ( عَزَّوَجَلَّ ) کے معاملے سے مخلوق کو نکال دے‘‘۔ اس قول میںمحض ریا کی نفی کی طرف اشارہ ہے اسی طرح حضرت سَیِّدُنَا خَوَّاص ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) نے فرمایا’’ جو شخص جاہ و منصب کا پیالہ پیتا ہے وہ بندگی کے اخلاص سے نکل جاتا ہے‘‘۔ حضرت سَیِّدُنَا عیسٰی(علیہ السلام)کے حواریوں نے آپ(علیہ السلام)کی خدمتِ بابرکت میں عرض کیا کہ کس کا عمل خالص ہے؟ آپ(علیہ السلام) نے فرمایا’’ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کرتا ہے اسے یہ بات پسند نہیں ہوتی کہ اس پر کوئی اس کی تعریف کرے تو یہ بھی ریا کو چھوڑ نے کی بات ہے آپ(علیہ السلام)نے اس بات کو خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا کہ اخلاص میں نقصان کا یہ سب سے بڑا سبب ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا جنید بغدادی( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )فرماتے ہیں’’ اخلاص ، عمل کے کدورتوں سے پاک ہونے کا نام ہے‘‘۔ حضرت سَیِّدُنَا فضیل ( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ) فرماتے ہیں’’ لوگوں کو دکھانے کیلئے عمل کو چھوڑنا ریا ہے اور ان کیلئے عمل کرنا شرک ہے اور اخلاص یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے ان دونوں مصیبتوں سے بچائے‘‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اخلاص دائمی مراقبہ (اعمال کی حفاظت) اور نفسانی اغراض کو بھولنے کانام ہے۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہ سب کچھ اخلاص کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ورنہ اس سلسلے میں بے شمار اقوال ہیں لیکن واضح ہوجانے کے بعد زیادہ باتیں نقل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور اس سلسلے میں شافی بیان سرکار دو عالم ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کا بیان ہے آپ ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) سے اخلاص کے بارے میںپوچھا گیا تو آپ ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) نے ارشاد فرمایا: اَنْ تَقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ ثُمَّ تَسْتَـقِیْمَ کَمَا اُمِرْتَ (سنن ابنی ماجہ، ص ۲۹۴، ابواب الفتن) ترجمہ : ’’تم کہو کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے پھر اس پر استقامت اختیار کرو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا۔ یعنی اپنے نفس اور خواہش کے پجاری نہ بنو اور صرف اپنے رب (ل) کی عبادت کرو اور اس کی عباد ت میں اسی طرح سیدھی راہ پر رہو جس طرح تمہیں حکم دیا گیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے اللہ تعالیٰ کے غیر سے توجہ بالکل ہٹالے اور یہی سچا اخلاص ہے۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن