30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وعداوت اور ان کی شان میں کسی نازیبا کلمے کا استعمال ہلاکت اور تباہی وبربادی کا سبب ہے، ان کی محبت ایمان کی جان ہے یہ بندے کو کائنات کی پستیوں سے اُٹھا کر ثُرَیَّا کی بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے اور ان سے نفرت وعداوت ایمان کے لئے سخت تباہ کن ہے۔ دیکھئے ! حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے ایک جلیل القدر نبی حضرت سیِّدنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت کی، ان کی راحت وآرام کا خیال رکھا، پرورش ونگہداشت کی اور ایمان لا کر ان کی تصدیق کی اس سے آپ کی قسمت کا ستارہ چمکا اور آپ کو وہ دائمی عزت وشوکت عطا ہوئی جسے زوال نہیں جبکہ ان کے مُقَابَلےمیں فرعون نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی توہین وتکذیب کی اور لوگوں کو آپ کی مُخَالَفَت پر اکسایا تو وہ تباہ وبرباد ہو گیا اور ہمیشہ کے لئے ذلیل وخوار اور نارِ جہنم کا مستحق ہو گیا۔ امام فخر الدِّین ابو عبد اللہ محمد بن عمر رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی صحا بِیِ رسول حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے یہ الفاظ کہے:
قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَؕ- (پ٢٠،القصص: ٩) ترجمۂ کنزالایمان: یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
تو بدبخت فرعون کہنے لگا: تیرے لئے ہو گا، مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے، اگر آسیہ کی طرح فرعون بھی اس بات کا اقرار کرتا کہ یہ بچہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو ضرور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ہِدَایَت عطا فرماتا جیسے آسیہ کو عطا فرمائی۔ ([1]) ذیل میں حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے چند دیگر فضائل ومَنَاقِب ذِکْر کئے جاتے ہیں چنانچہ
اس بلند رتبہ پاک کتاب قرآنِ کریم میں آپ کا ذِکْر ہے جو سب سے افضلواعلیٰ اور سب سے برتر رسول حُضُور احمدِ مجتبیٰ مُحَمَّد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازِل ہوئی، پارہ 28، سُورَۃُ التحریم میں خالق کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ کا فرمانِ عالی شان ہے:
وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَۘ-اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ (۱۱) (پ٢٨، التحریم: ١١)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ مسلمانوں کی مثال بیان فرماتا ہے فرعون کی بی بی جب اس نے عرض کی اے میرے ربّ میرے لئے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش۔
تفسیر بحر العلوم میں ہے کہ اس آیَت میں مسلمانوں کو تنگی اور سختی کے وَقْت صبر کرنے پر اُبھارا گیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ تم صبر کرنے میں فرعون کی بیوی حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے کمزور مت ہونا جنہوں نے فرعون کے مظالم پر صبر کیا (اور زبان تو کجا دل میں بھی شکوہ وشِکَایَت کو جگہ نہ دی۔) ([2])
(۲) احادیث میں مقام ومرتبے کا بیان
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے مقام ومرتبے اور فضل وکمال کے بیان میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کئی احادیث وارد ہیں، چنانچہ
آسیہ کے چار۴ حروف کی نسبت سے
آپ کے فضائل پر مبنی چار۴ فرامین مصطفٰے
٭ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زمین پر چار۴ خُطُوط کھینچ کر فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیا ہیں؟ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ’’ اَللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَم یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘ فرمایا: جنّتی عورتوں میں سب سے زیادہ فضیلت والی یہ عورتیں ہیں:
(۱) ...خدیجہ بِنْتِ خُوَیلد
(۲) ...فاطمہ بِنْتِ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)
(۳) ...فرعون کی بیوی آسیہ بِنْتِ مُزَاحِم
اور (۴) ...مریم بِنْتِ عمران (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ) ([3])
[1] التفسير الكبير، پ٢٠، القصص، تحت الآيه:٩، ٨ / ٥٨١.
مسند ابى يعلى، اول مسند ابن عباس، ٢ / ٣٣٩، الحديث:٢٦٢٠.مستدرك حاكم، كتاب تواريخ المتقدمين الخ، باب ذكر موسى وهارون عليهما السلام، ٣ / ٤٥٨، الحديث:٤١٥٠، بتغير، موقوف على ابن عباس.
[2] تفسير بحر العلوم، پ٢٨، التحريم، تحت الآية:١١، ٣ / ٣٨٣.
[3] مسند احمد، مسند بنى هاشم، مسند عبد الله بن عباس الخ، ٢ / ٢٤١، الحديث:٢٧٢٠.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع