30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور خود کو بدبخت نہ کر کیونکہ یہ تو چھوٹا ہے اگر تُو چاہے تَو اس کو آزما لے، میں تھال میں سونا اور انگارا رکھ دیتی ہوں، تُو دیکھ لے یہ کس کو اٹھاتا ہے۔ فرعون اس کے لئے تیار ہو گیا، جب حضرت سیِّدنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے سونے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو فِرِشتے نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کر دیا، آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وہ انگارا اُٹھا کر اپنے منہ میں رکھ لیا پھر جب اس کی تپش (جلن) محسوس ہوئی تو پھینک دیا۔ اس طرح فرعون انہیں شہید کرنے کے اِرادے سے باز آ گیا۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ...! ! پیاری پیاری اسلامی بہنو ! اس سے ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی قدرتِ کامِلہ کا اِظْہَار ہوتا ہے کہ وہ خالق ومالِک عَزَّ وَجَلَّ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس کے حکم کے آگے دَم نہیں مار سکتا، بیان کردہ ایمان افروز حِکَایَت اس کی واضح مِثَال ہے کہ فرعون نے جس بچے کے خوف سے ہزاروں بےگناہ بچے ذَبح کروا دئیے، رَبُّ الْعِزّت تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے اسی بچے کی پرورش ونگہداشت کی خدمت اسے سونپ دی۔ اس سے یہ بھی مَعْلُوم ہوا کہ اللہ رَبُّ الْعِزّت جس کی حِفاظَت فرمانا چاہے بڑے سے بڑا طُوفان اس کا بال بھی بِیْکا نہیں کر سکتا، دیکھئے ! حضرت سیِّدنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کس طرح دریائے نیل کی موجوں سے ماں کی گود میں پہنچا دیا...سُبْحٰنَ اللہِ
؎ تو نے کس شان سے موسیٰ کی بچائی ہے جان
تیری قدرت پہ میں قربان خُدائے رحمن
آہ ! آج اُمَّتِ مسلمہ نِہَایَت زَبُوں حالی کا شِکار ہے، اِسْلَام دشمن طاغوتی طاقتیں بَرسر پیکار ہیں، کہیں بےقُصُور مسلمان عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو نِہَایَت سَفّاکیت اور بےدردی کے ساتھ شہید کیا جا رہا ہے تو کہیں بہیمانہ مظالم ڈھا کر انہیں اِسْلَام سے برگشتہ کرنے کی سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں اور عالمی سطح پر اِسْلَامی تہذیب وثقافت کو اس بےدردی سے کچلا جا رہا ہے کہ الامان والحفیظ۔ اس کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کا عملی طور پر اِسْلَام سے دُور ہو جانا اور اس کی تعلیمات بُھلا بیٹھنا ہے۔ آئیے ! اس نازُک صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے تعلیماتِ اِسْلَامیہ کو عملی طور پر اپنائیےاور نِہَایَت ہی عاجزی واِنکساری کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں دَسْتِ سوال دراز کیجئے کہ اے ہمارے ربِّ کریم...اے پاک پروردگار ... اے ہر شے پر قادِر مالِک ومولیٰ...اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ...!!
؎ تجھے واسطہ اپنی قدرت کا ہے
تجھے واسطہ اپنی سطوت کا ہے
تجھے واسطہ اپنی عظمت کا ہے
تجھے واسطہ اپنی رحمت کا ہے
زمانے کی گردش میں رکھ لینا آج
جنابِ مُحَمَّد کی اُمّت کی لاج
کیونکہ اس رحیم وکریم پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ مسلمانوں کو ایک بار پھر وہی پہلے کا سا جاہ وجلال، شان و وَقار اور شوکَتِ اقتدار عطا فرما دے جب ان کا نام سن کر کفار کے دل دَہل جایا کرتے تھے اور طاقت ور ترین قوموں کے دلوں پر ان کی عظمت کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا نام کس نے رکھا...؟
حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ایک پیارے نبی حضرت سیِّدنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام رکھنے کی سَعَادت حاصِل ہوئی چنانچہ حضرت سیِّدنا امام عَلَاءُ الدِّین علی بن محمد خازِن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے ان کا نام رکھنے کے لئے کہا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے فرمایا: میں نے اس کا نام موسیٰ رکھا۔ ([2]) چونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی اور درختوں کے درمیان پائے گئے تھے اور قبطی زبان میں پانی کو ’’ مو ‘‘ اور درخت کو ’’ سی ‘‘ کہتے ہیں۔ ([3]) اس لئے آپ کا یہ نام رکھا گیا۔
پیاری پیاری اسلامی بہنو ! انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت، ان کی تعظیم وتوقیر اور ان سے محبت وعشق عظیم سَعَادت ہے جبکہ ان کی توہین وتکذیب، نفرت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع