30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لے آئے تھے۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی خدمت
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے حضرت موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عَہْدِ طُفُولِیَّت میں ان کی پرورش اور خدمت کی سَعَادت بھی حاصِل کی اور بہت دفعہ جب فرعون نے انہیں شہید کرنے کا اِرادہ کیا تو آپ نے ان کی حِمَایَت ودِفَاع کیا اور فرعون کو اس کے مذموم اِرادے سے باز رکھا۔ بہرحال حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام عَہْدِ طُفُولِیَّت میں آپ کے پاس کیسے پہنچے اور آپ نے کیونکر ان کی خدمت کی سَعَادت
حاصِل کی، اس کا واقعہ بہت ہی حیرت انگیز ہے جسے پڑھ یا سن کر خدائے قدیر وعزیز کی قدرت پر یقین بڑھتا ہے۔ چنانچہ
فرعون کے حکم سے اس کے کارِندے بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر نَومَوْلُود بچے کو قتل کر ڈالتے تھے۔ دَرْاَصْل فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا کہ ’’ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ نکلی جس نے سارے مصر کو گھیر لیا اور تمام قبطیوں کو جَلا ڈالا مگر بنی اسرائیل کو آگ سے کوئی نقصان نہ پہنچا۔ ‘‘ یہ عجیب وغریب خواب دیکھ کر فرعون پریشان ہو گیا۔ اس نے نُجُومیوں سے تعبیر مَعْلُوم کی تو انہوں نے بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہو گا جو تیری بادشاہت ختم ہو جانے کا سبب بنے گا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے قتل کر دیا جائے۔ اس طرح فرعون کے حکم سے 12 ہزار یا 70 ہزار لڑکے قتل کر دئیے گئے۔ ([1])
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی پیدائش
اسی مصیبت وآفت کے دَور میں حضرت سیِّدنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وِلَادت ہوئی۔ ابتداءً کچھ عرصہ آپ کی والِدہ ماجِدہ حضرت سیِّدَتُنا یُوْحَانِذ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو چُھپا کر رکھا پھر جب فرعون کی طرف سے اندیشہ ہوا تو ایک صندوق میں رکھ کر رات کے وَقْت دریائے نیل میں بہا دیا۔ ([2]) دریائے نیل سے نکل کر ایک نہر فرعون کے محل کے قریب بہتی تھی یہ صندوق دریائے نیل سے بہتا ہوا نہر میں چلا گیا۔ ([3]) فرعون اور اس کی بیوی حضرت بی بی آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا دونوں نہر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ جب ان دونوں نے صندوق بہتا دیکھا تو نوکروں کو بھیج کر وہ صندوق منگوا لیا، جب صندوق کھولا گیا تو اس میں سے ایک خوبصورت بچہ نکلا جس کی آنکھوں کے درمیان نور جگمگ جگمگ کر رہا تھا۔ چونکہ ان دنوں فرعون کے حکم سے بنی اسرائیل کے بچوں کا قتل عام جاری تھا اس لئے بعض سرکشوں نے فرعون سے کہا کہ کہیں یہ وہی بچہ نہ ہو جس سے ہم بچنا چاہتے ہیں، ممکن ہے قتل کے خوف سے اسے دریا میں ڈال دیا گیا ہو۔ یہ سن کر فرعون نے بچے کو شہید کرنے کا اِرادہ کر لیا۔ ([4]) لیکن حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے فرعون کو سمجھایا بجھایا کہ یہ بچہ سال بھر سے زیادہ عمر کا مَعْلُوم ہوتا ہے اور تُو نے اس سال کے اندر پیدا ہونے والے بچوں کے قتل کا حکم دیا ہے ([5]) عِلاوہ بریں مَعْلُوم نہیں یہ بچہ دریا میں کس سرزمین سے آیا تجھے جس بچہ کا اندیشہ ہے وہ اسی ملک کے بنی اسرائیل سے بتایا گیا ہے ([6]) اور یہ بھی کہا: ([7])
قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَؕ-لَا تَقْتُلُوْهُ ﳓ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا (پ٢٠، القصص: ٩)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو شاید یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔
یوں فرعون کو سمجھا بجھا کر حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے انہیں اپنے پاس رکھ لیا، اپنا بیٹا بنا لیا اور خود ان کی پرورش کرنے لگیں۔
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا دِفاع اور حِفاظت
ایک دن حضرت سیِّدنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرعون کے پاس ایک چھوٹی سی ڈنڈی سے کھیل رہے تھے، اچانک آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وہ ڈنڈی فرعون کے سر پر دے ماری۔ فرعون اس مار پر سوچ میں پڑ گیا اور آخر کار آپ کو شہید کرنے کا اِرادہ کر لیا۔ اس پر حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کہنے لگیں: اے بادشاہ ! غصہ مت کر
[1] تفسير خازن، پ١، البقرة، تحت الآية:٤٩، ١ / ٤٣، ملتقطًا.
[2] خزائن العرفان، پ۲۰، القصص، تحت الآیۃ:۷، ص۷۱۵، ملخصًا.
[3] عجائب القرآن، ص۱۷۱.
[4] التفسير الكبير، پ٢٠، القصص، تحت الآية:٧، ٨ / ٥٨٠، ملتقطًا.
[5] مستدرك حاكم، كتاب تواريخ المتقدمين الخ، باب ذكر موسى وهارون عليهما السلام،
٣ / ٤٥٧، الحديث:٤١٥٠.
[6] خزائن العرفان، پ۲۰، القصص، تحت الآیۃ:۹، ص۷۱۶.
[7] مستدرك حاكم، كتاب تواريخ المتقدمين الخ، باب ذكر موسى وهارون عليهما السلام، ٣ / ٤٥٧، الحديث:٤١٥٠.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع