دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Hazrat Asiya رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا | فيضانِ حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا

book_icon
فيضانِ حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا

ٹیکنے پر مجبور ہو گیا، آپ نے فرمایا:   ’’ اِنَّکَ تَغْلِبُ نَفْسِیْ وَقَلْبِیْ فِیْ عِصْمَۃِ رَبِّیْ لَوْ قَطَعْتَنِیْ اِرْبًا مَّا ازْدَادَتْ اِلَّا حُبًّا   (اے دشمن خُدا، ظالم اِنسان!)  تُو میرے وُجُود پر تَو قادِر ہو سکتا ہے لیکن میرا دل میرے ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی پناہ میں ہے، اگر تو میرا ہر عُضْوْ کاٹ دے تب بھی میرا عشق بڑھتا جائے گا۔ ‘‘  ([1])  

رضائے الٰہی

جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وہاں سے گزر ہوا تو  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے ان سے پوچھا:  میرا ربّ مجھ سے راضی ہے یا ناراض؟  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا:  اے آسیہ ! آسمان کے فرشتے تیرے انتظار میں ہیں اور اللہ تعالٰی تیرے کارناموں پر فخر فرماتا ہے۔ سوال کر ! تیری ہر حاجت پوری ہو گی۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے اس طرح دُعا مانگی:  ([2])  

رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ (۱۱)   (پ٢٨، التحريم: ١١)

 ترجمۂ کنزالایمان:  اے میرے ربّ میرے لئے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش۔

شہادت

ادھر جب فرعون انہیں ایمان سے برگشتہ کرنے کی تمام تر تدبیریں کر دیکھتا ہے اور اسے ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو وہ آپ کو شہید کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے اور آخری حربے کے طور پر اپنے کارندوں سے کہتا ہے کہ ایک بڑی چٹان دیکھ کر لاؤ ! چٹان کو دیکھ کر بھی اگر یہ اپنی بات پر قائم رہتی ہے تو چٹان اس پر گرا دو اور اگر رُجُوع کر لیتی ہے تو یہ میری بیوی ہے  (چنانچہ اسے عزت و اِکْرَام کے ساتھ آزاد کر کے میرے پاس لے آؤ) ۔ چٹان لائی جاتی ہے، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا آسمان کی طرف نِگاہ اُٹھا کر دیکھتی ہیں تو وہاں جنت میں اپنا  (سفید موتی کا)  گھر نظر آتا ہے، جس سے آپ کا عزم واستقلال اور بڑھ جاتا ہے، اسی حالت میں آپ کی روح پرواز کر جاتی ہے؛ اس کے بعد آپ پر چٹان گرائی جاتی ہے اور وہ ایسے بدن پر گرتی ہے جس میں روح نہیں ہوتی۔ ([3])  

مفسر شہیر، حکیم الامت حضرت علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَنِی فرماتے ہیں:  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے ان پر فرشتے مُقَرَّر فرما دئیے جنہوں نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا پر سایہ کر لیا اور ان کا جنّتی گھر انہیں دِکھا دیا جس سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا ان تمام مصیبتوں کو بھول گئیں۔ بعض رِوَایات میں ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا مَعَ جسم آسمان پر اُٹھا لی گئیں۔ ([4])  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ان پر رَحْمَت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

طالبِ رضائے حق

پیاری پیاری اسلامی بہنو ! کفر وطغیان کی طاغوتی قوتوں کے سامنے کلمۂ حق کہہ کر حق کا پرچم لہرانا معمولی بات نہیں، بڑے دل گردے  (ہمت وحوصلے)  کا کام ہے۔ تاریخ اس امر کی شاہِد ہے کہ جب بھی کسی مردِ حق نے انسانیت کی ہِدَایَت اور فلاح وبہبود کے لئے اس امر کا بیڑا اُٹھایا تو باطِل کی وہ پُرشور قوتیں جو تخت وتاج کی مالِک تھیں، زمامِ اقتدار جن کے ہاتھوں میں تھی اور مال ودولت جن کے گھر کی باندی سمجھی جاتی تھی، طاقت وقوت کے نشے میں مخمور ہو کر اس کی مُخَالَفَت پر کمر بستہ ہو گئیں اور طرح طرح کی اذیتوں ومصیبتوں میں مبتلا کر کے اسے راہِ حق سے گمراہ کرنے کی پُرزور کوششیں کرنے لگیں، کبھی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالا تو کبھی کھولتے ہوئے تیل میں ڈال کر بھون ڈالا اور کبھی جسم کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر ڈالا، ان کے عِلاوہ ایسے ایسے جور وسِتَم ڈھائے کہ پہاڑ بھی ہوتے تو وحشت زدہ ہو جاتے  مگر بقول صَدْرُ الْاَفاضِل حضرت علّامہ مفتی سیِّد محمد نعیم الدِّین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کے:   ’’ طالِبِ رضائے حق، مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ کی مرضی پر فِدا ہوتا ہے، اسی میں اس کے دل کا چین اور اس کی حقیقی تسلی ہے، کبھی وحشت، پریشانی اس کے پاس نہیں پھٹکتی، کبھی اس مصیبت عظمیٰ سے خَلَاصِی اور رِہَائی کے لئے وہ دُعا نہیں کرتا، انتظار کی ساعتیں شوق کے ساتھ گزارتا ہے اور وَقْتِ مَوْعُود کا بےچینی کے ساتھ منتظر رہتا ہے۔‘‘  ([5])  یہی سبب ہے کہ جب اس نیک دل خاتون کو راہِ حق سے ہٹانے کے لئے طرح طرح کی مصیبتوں اور قسم قسم کی اذیتوں میں مبتلا کیا گیا حتی کہ ہاتھ پاؤں میں میخیں لگا کر تپتی ریت پر لِٹا دیا گیا تب بھی ان کے پائے ثبات میں لَرْزِش نہ آئی۔ اس میں خُصُوصاً ان نومسلموں کے لئے صبر واستقامت کا سبق موجود ہے جنہیں اِسْلَام قبول کرنے کی وجہ سے



[1]    مكاشفة القلوب، باب فى العشق، ص٤٦.

[2]    المرجع السابق.

[3]    تفسير طبرى، پ٢٨، التحريم، تحت الآية:١١، ١٢ / ١٦٢.تفسير بغوى، پ٢٨، التحريم، تحت الآية:١١، ٤ / ٤٣٢، ملخصًا.

[4]    نور العرفان، پ۲۸، التحریم، تحت الآیۃ:۱۱، ص۸۶۸.

[5]    سوانح کربلا، ص۱۱۱.

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن