30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے جو یہ سنا تو کہنے لگی: (اللہ سے مُراد کون ہے، کیا) میرا باپ...؟ اس نیک بندی نے جواب دیا: نہیں، بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہ ہے جو میرا، تیرا اور تیرے باپ کا بھی ربّ ہے۔ اس نے کہا: تیرا ربّ میرے باپ کے عِلاوہ کوئی اور ہے؟ فرمایا: ہاں۔ کہنے لگی: تو کیا میں اپنے باپ کو یہ بات بتاؤں؟ فرمایا: ہاں۔ چنانچہ اس نے اپنے باپ (فرعون) کو اس کی خبر دے دی اور فرعون نے انہیں (ان کے بچوں سمیت) بُلا بھیجا۔ جب یہ مؤمِنَہ خاتون اس کے دربار میں پہنچیں تو فرعون نے (انہیں مُخَاطَب کر کے غم وغصّے سے بھرپور لہجے میں) کہا:
’’ یَافُلَانَۃُ ! اَلَکِ رَبُّ غَیْرِیْ؟ اے فلاں عورت ! تُو میرے عِلاوہ کسی اور کو ربّ مانتی ہے...؟ ‘‘ کسی قسم کے اندیشے کو خاطِر میں لائے بغیر انہوں نے فوراً جواب دیا: ’’ نَعَمْ ! رَبِّیْ وَرَبُّکَ اللہُ ہاں ! میرا اور تیرا ربّ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے۔ ‘‘ اس پر فرعون (اور زیادہ بھڑک اُٹھا اور اس) نے تانبے کا ایک بہت بڑا برتن (تیل سے بھر کر) گرم کرنے کا حکم دیا۔ پھر اس نے ان کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس برتن میں ڈالنا شروع کر دیا حتی کہ جب آخری دودھ پیتا بچہ ہی رہ گیا تو گویا اس کی وجہ سے وہ مؤمِنَہ خاتون کچھ پیچھے ہٹیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بچے کو قوتِ گویائی (بولنے کی طاقت) عطا فرمائی اور اس نے پُکار کر کہا: ’’ یَا اُمَّہ ! اِقْتَحِمِیْ فَاِنَّ عَذَابَ الدُّنْیَا اَھْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَۃ اے ماں ! پرواہ نہ کر...! ! بےشک دنیا کی تکلیف آخرت کے عذاب کے مُقَابَلے میں بہت آسان ہے۔ ‘‘ ([1]) پھر انہیں بھی اس برتن میں ڈال کر شہید کر دیا گیا۔ مروی ہے کہ جس وَقْت انہیں اَذِیتیں دے کر شہید کیا جا رہا تھا، فرعون کی بیوی بھی انہیں دیکھ رہی تھیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی آنکھوں سے غیب کے پردے اُٹھا دئیے، ان کی بصیرت روشن فرما دی اور انہوں نے فرشتوں کو ان کی روح آسمان کی طرف لے جاتے دیکھ لیا۔ فرشتوں کو دیکھنے سے ان کا ایمان مزید پختہ ہوا اور حضرت سیِّدنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صَدَاقَت وحَقَّانِیَّت کا یقین بھی بڑھا۔ ([2]) نیز یہ اس سوچ میں پڑ گئیں کہ میں اپنے سامنے مؤمِنوں پر فرعون کے مظالم ہوتے کیسے دیکھ سکتی ہوں حالانکہ میں خود بھی مؤمِن ہوں۔ ([3]) ابھی یہ انہیں خیالات میں گم تھیں کہ فرعون ان کے پاس آیا اور اُس مَظْلُوم عورت پر اپنے ظلم کی داستان بیان کرنے لگا۔ ادھر انہوں نے بھی فرعون کے ظلم وسِتَم کے خِلَاف عَلَمِ بغاوت بلند کرنے کا ارادہ کر لیا تھا اور اس سلسلے میں پیش آنے والے تمام اندیشے پس پشت ڈال دئیے تھے چنانچہ جب فرعون نے انہیں اس مَظْلُومَہ کو شہید کرنے کی خبر دی تو انہوں نے کہا: ’’ اَلْوَیْلُ لَکَ مَا اَجْرَاَکَ عَلَی اللہ تیری خرابی ہو، کس شے نے تجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُقَابَلے میں اتنا بےباک کر دیا؟ ‘‘ فرعون ایک بار پھر بھڑک اٹھا اور غصے میں پیچ وتاب کھاتے ہوئے کہنے لگا: شاید تجھے بھی اسی جُنُون نے آ لیا ہے جس میں وہ ماشطہ (کنگھا کرنے والی عورت) مبتلا تھی۔ جواب دیا: ’’ مَا بِیْ جُنُوْنٌ وَلٰکِنِّیْ اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ تَعَالٰی رَبِّی وَرَبُّکَ وَرَبُّ الْعٰلَمِیْنَ مجھے کوئی جُنُون نہیں آیا، میں تو اس خُدائے واحِد ویکتا پر ایمان لا چکی ہوں جو میرا، تیرا اور تمام جہانوں کا ربّ ہے۔ ‘‘ : ([4]) اس طرح انہوں نے فرعون کی کھلم کھلا مُخَالَفَت کر کے اپنے ایمان کا اِظْہَار کر دیا۔
اب جب فرعون کو ان کے ایمان لانے کی خبر ہو چکی تو پہلے پہل اس نے انہیں بغیر اَذِیَّت وتکلیف دئیے یوں ہی سمجھانے بجھانے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لئے ان کی والِدہ کو بھی بُلایا اور دھمکی آمیز لہجے میں ان سے کہا: تیری بیٹی کو بھی اسیجُنُون نے آ لیا ہے جس میں ماشطہ (کنگھا کرنے والی عورت) مبتلا تھی۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر اس نے موسیٰ (عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کے خُدا کا انکار نہ کیا تو ضرور یہ موت کا مزہ چکھے گی۔ ان کی والِدہ نے تنہائی میں انہیں فرعون کی بات ماننے کی ترغیب دی۔ لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے فرمایا: ’’ اَمَا اَنْ اُکَفِّرُ بِاللّٰہِ فَلَا وَاللہِ کیا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا انکار کروں...! ! بخدا ! ہرگز نہیں۔ ‘‘ ([5])
جب فرعون کا یہ حربہ ناکام گیا تو پھر اس نے انہیں اَذِیتیں اور تکلیفیں دے کر ایمان سے برگشتہ کرنے کا فیصلہ کیا چنانچہ رِوَایَات میں ہے کہ اس کے حکم سے انہیں طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلا کیا گیا حتی کہ ہاتھ پاؤں میں میخیں لگا کر دھوپ میں سورج کی طرف رخ کر کے لٹا دیا گیا اور سینے پر چکی کا پاٹ رکھ دیا گیا (کہ ہِل بھی نہ سکیں) ۔ ([6]) لیکن یہ سب مَصَائِب اور تکالیف سہنے کے باوجود ان کے ایمان ویقین میں کمی نہ آئی بلکہ اور اِضافہ ہو گیا چنانچہ اَذِیَّت دینے کے بعد جب فرعون نے انہیں اسلام سے پِھرنے کے لئے کہا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے بڑا ہی ایمان افروز اور باطِل سوز جواب دیا جس سے فرعون کا گھمنڈ خاک میں مل گیا اور وہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی ہمت وحوصلے کے آگے گھٹنے
[1] معجم كبير، مسند ابن عباس، سعيد بن جبير عن ابن عباس، ٦ / ١٢، حديث:١٢١١٣.
صحيح ابن حبان، کتاب الجنائز، ذكر ما يجب على المرء من الثبات الخ، ص٨٢٧، حديث:٢٩٠٣، باختلاف بعض الالفاظ.
[2] الكامل فى التاريخ، قصة موسى عليه السلام ونسبه الخ، ١ / ١٤١.
[3] روح البيان، پ٣٠، الفجر، تحت الآية:١٠، ١٠ / ٤٣٣.
[4] الكامل فى التاريخ، قصة موسىٰ عليه السلام ونسبه الخ، ١ / ١٤١.
[5] المرجع السابق.
[6] مكاشفة القلوب، باب فى العشق، ص٤٦، ملخصًا.تفسير جلالين مع حاشية الصاوى، پ٢٨، التحريم، تحت الآية:١١، ٣ / ١٣٧، وغيرهما.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع