30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسلامی تاریخ کا سنہری باب
ساٹھ ہزار کے مقابلے میں فقط ساٹھ مجاہد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اب اسلامی تاریخ کا ایک ایسا سنہری باب پیش کیا جاتا ہے جس کے بغیر تاریخ ادھوری ہے، جسے پڑھ کر آج بھی کفارومشرکین لرز اٹھتے ہیں ۔جبلہ بن ایہم جب قوم غسان کے ساٹھ ہزار فوجیوں کے ساتھ میدان میں آیا تو سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں عرض کیا: ’’حضور! رومی لشکر کے سپہ سالار نے ان عربوں کو ہمارے مقابلے پر بھیجا ہے تاکہ وہ لوہے کو لوہے سے کاٹ سکے، اگر ہمارا پورا لشکر ان کے مقابلے پر گیا تو ان کی اہمیت برقرار رہے گی۔ میں ان کے ساتھ ایک ایسی جنگ چال چلنا چاہتا ہوں جو ان کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔میں پورے لشکر نہیں بلکہ تھوڑے سے شہسواروں سے ان کا مقابلہ کرنے جاؤں گا۔‘‘ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو چونکہ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر اعتماد تھا اس لیے انہوں نے اس بات کی اجازت عطا فرمادی کہ تم جتنے مجاہدین لے کر جانا چاہو لے جاؤ۔ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’میں ان ساٹھ ہزار مشرکین کے مقابلے کے لیے فقط تیس مجاہدین لے کر جاؤں گا۔‘‘ (1)
سیِّدُنا خالد بن ولید کا نفسیاتی حربہ
دراصل سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نصرانی عربوں کے ساتھ نفسیاتی حربہ استعمال کررہے تھے، کیونکہ عرب لڑائی کے معاملے میں نہایت ہی غیرت مند ہوتے ہیں ، نہ تو وہ اپنے سے کمزور سے لڑتے ہیں اور نہ ان پر کوئی برتری جتاتے ہیں ۔بلکہ اپنے ہم پلہ لوگوں سے لڑنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔جب ساٹھ ہزار نصرانی عرب تیس مجاہدین کو دیکھیں گے تو پھنس جائیں گے کیونکہ بالفرض انہوں نے جنگ کے ذریعے مجاہدین کو شکست دے دی تو بھی لوگ انہیں لعن طعن کریں گے کہ ساٹھ ہزار نے تیس لوگوں کو شکست دے کر کون سا کمال کیا ہے۔ اور اگر وہ ہار گئے تو بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے کہ ساٹھ ہزار جنگجوؤں کو فقط تیس مجاہدین نے روند ڈالا۔
اسلامی لشکر کے سبھی لوگ حیران ہوگئے
بہرحال سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بات سن کر سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سمیت سب لوگ حیران ہوگئے اور سب نے سمجھا کہ شاید یہ مزاح فرمارہے ہیں ۔سیِّدُنا ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عرض کرنے لگے: ’’اے خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ! کیا آپ واقعی تیس آدمی لے جانا چاہتے ہیں یا مزاح فرمارہے ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’جی ہاں میرا یہی ارادہ ہے۔‘‘ عرض کیا: ’’حضور! اللہ عَزَّوَجَلَّنے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ کیا یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا نہیں ہے ؟کہ ۳۰ آدمی ساٹھ ہزار لوگوں سے مقابلہ کریں گے۔‘‘فرمایا: ’’میں اسلامی لشکر سے ایسے بہادر منتخب کروں گا جنہوں نے اپنی جانوں کو راہ خدا میں وقف کرچکے ہیں ۔ وہ صرف اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضامندی کے لیے لڑتے ہیں ۔‘‘ عرض کیا: ’’میں آپ کی اس بات سے بالکل اتفاق کرتا ہوں واقعی ہمارے لشکر میں ایسے مجاہدین موجود ہیں لیکن میں ان ہی مجاہدین کے ساتھ محبت اور شفقت کی وجہ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ساٹھ ہزار مشرکین عرب کے مقابلے میں تیس کی بجائے ساٹھ مجاہدین کو لے جائیں ۔‘‘یہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’ابوسفیان کی رائے مناسب ہے، میں بھی ان کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں ۔‘‘(2)
اسلامی لشکر کی روانگی
یہ سن کر سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فقط ساٹھ ۶۰مجاہدین کے ساتھ ساٹھ ہزار نصرانی عربوں کے مقابلے کے لیے روانہ ہوئے۔سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ساتھ تلوار کے علاوہ کوئی بھی ہتھیار رکھنے سے منع کردیا، نیز تمام مجاہدین کے سامنے ایسی تقریر کی کہ سبھی جذبۂ جہاد سے سرشار ہوگئے، اور اسلام کی خاطر اپنی جان لٹانے کا عہد کیا۔میدان جنگ میں جب یہ اسلامی دستہ پہنچا تو جبلہ بن ایہم نے سوچا شاید اسلامی لشکر کا کوئی دستہ صلح کی بات چیت کرنے کے لیے آرہا ہے۔ ان مجاہدین میں سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بڑے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی شامل تھے۔سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیچ میں پہنچ کر صف بندی شروع کردی۔ جبلہ بن ایہم بڑا حیران ہوا اور قریب جاکر بولا: ’’اے عربی شہسوار! مجھے تم سے یہی امید تھی کہ تم جنگ کا ارادہ ترک کرکے صلح کے لیے ضرور آؤ گے۔‘‘ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے گرجدار آواز میں فرمایا: ’’کون سی صلح؟ اور کیسی صلح؟ ہم تم سے صلح کی گفتگو کرنے نہیں بلکہ جنگ کرنے آئے ہیں ۔‘‘یہ سن کر جبلہ کو غصہ آگیا اور کہنے لگا: ’’تم مجھ سے مقابلہ کرنے آئے تو جاؤ اور اپنے لشکر کو کہو کہ میدان میں آئے کیونکہ میں تو پہلے سے ہی اپنے لشکر کے ساتھ میدان میں ہوں ۔‘‘ سیِّدُناخالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’کیا ہم ساٹھ آدمی تجھے نظر نہیں آتے؟‘‘ اس نے کہا:’’تم تو نظر آرہے ہو لیکن تمہارا لشکر نظر نہیں آرہا۔‘‘ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سینہ تان کر ارشاد فرمایا: ’’میں تمہارے مقابلے کے لیے یہ لشکر ہی لے کر آیا ہوں ، اور ہاں غور سے سن! تیرے ساٹھ ہزار کے لشکر کے لیے ہم ساٹھ مجاہد ہی کافی ہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ ہیں ، تیرے ساٹھ ہزار کے لشکر کے لیے تو ہم تیس ہی کافی تھے لیکن ہمارے لشکر کے رحم دل سپہ سالار سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اصرار پر میں نے اس میں اضافہ کیاہے اور تیس کے بجائے ساٹھ آدمی لے آیا ہوں ۔‘‘سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی باتیں سن کر جبلہ کا خون خشک ہوگیا اور وہ اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا: ’’ان عربوں نے تو مجھے سخت آزمائش میں ڈال دیا ہے، اگر ہم ساٹھ ہزار لوگوں نے انہیں مار ڈالا تو کونسا بہادری کا کام کیا؟ اور اگر وہ غالب آگئے تو ہماری نسلیں بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گی۔‘‘
دونوں لشکروں میں گھمسان کی جنگ
بہرحال جبلہ نے اپنے ساٹھ ہزار کے لشکر کو حملہ کرنے کا حکم دیا، دونوں طرف سے تلواریں چلنے لگیں۔نصرانی ان ساٹھ مجاہدین پر ٹوٹ پڑے تھے لیکن تمام مجاہدین ایک آہنی دیوار کی طرح رومی لشکر کے سامنے ڈٹے رہے، رومی لشکر نے یکبارگی حملہ کرکے تمام مجاہدین کو نرغے میں لے لیا، لیکن سیِّدُنا خالد بن ولید ، سیِّدُنا زبیر بن عوام ، سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابوبکر ، سیِّدُنا فضل بن عباس ، سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر اور حضرت سیِّدُنا ضرار بن ازور رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم ان چھ صحابہ نے اپنے گھوڑے ایک ساتھ ملا کر حصار بنالیا اور جوبھی دشمن قریب آتا اسے زمین پر ڈال دیتے۔بظاہر ساٹھ تلواریں تھیں لیکن ایسا لگتا تھا کہ ہزاروں تلواریں چل رہی ہوں ، رومی کٹ کٹ کر زمین پر گر رہے تھے۔
اسلامی لشکر دورسے ان مجاہدین کو دیکھ رہے تھے، سب سے زیادہ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ متفکر تھے، لشکر کے سبھی لوگ ان ساٹھ مجاہدین کے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں سلامتی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔صبح سے شام تک جنگ جاری رہی، رومی تھک کر چور ہوگئے تھےجبکہ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سمیت تمام مجاہدین ایسے لڑ رہے تھے جیسے ابھی ابھی میدان میں آئے ہوں ۔ شام کے وقت رومی لشکر کے سپاہی بھاگ کھڑے ہوئے۔(3)
جنگ کا اختتام:
جب حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسلامی لشکر میں واپس آئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ فقط بیس مجاہد تھے اور اہم ترین چالیس مجاہد لاپتہ تھے۔آپ زاروقطار رونے لگے اور خود کو یوں سرزنش کرنے لگے: ’’اے ابن ولید! تونے مسلمانوں کو ہلاک کردیا، کل بارگاہِ الٰہی اورامیر المؤمنین کے دربار میں تو کیا عذر پیش کرے گا؟‘‘
سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کے پاس آئے اور انہیں حوصلہ دیا۔ پھر مشعلیں روشن کرکے میدان جنگ میں گئے تاکہ لاپتہ افراد کو تلاش کریں ۔ پورا میدان لاشوں سے بھرا پڑا تھا۔ مجاہدین جس لاش کو اٹھاتے وہ رومی کی ہوتی۔ بڑی مشکل سے دس صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی لاشیں ملیں ۔ اب بھی تیس صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان لاپتہ تھے۔ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اندیشہ ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے بقیہ قید ہوگئے ہوں یا دشمنوں کے تعاقب میں گئے ہوں ۔ لیکن آپ کو دوافراد کی بہت فکر تھی ایک تو سیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہ یہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی کے بیٹے تھے اور دوسرے سیِّدُنا فضل بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہ یہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا کے بیٹے تھے۔(4)
گمشدہ اصحاب کی تلاش
سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’کون خوش نصیب ہے جو اپنے بھائیوں کی تلاش میں جائے گا؟‘‘ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اصرار کیا کہ ان کی تلاش کے لیے میں ہی جاؤں گا۔ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اجازت دے دی۔ ابھی تو وہ تھوڑی ہی دورگئے تھے کہ سامنے سے کچھ سوار آتے دکھائی دیے، جیسے ہی وہ قریب آئے تو انہوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ حضرت سیِّدُنا خالد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی نعرے سے جواب دیا۔ دیکھا تو وہ پچیس صحابہ کرام تھے ان کے آگے آگے حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوام اور سیِّدُنا فضل بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا تھے۔ ان کی واپسی سے تمام لوگ بہت خوش ہوئے۔ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سجدۂ شکر ادا کیا۔
ساٹھ مجاہدین میں سے دس مجاہدین شہید ہوئے، پہلے بیس مجاہدین سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی معیت میں واپس آئے اور پھر رات کے وقت پچیس ۲۵مجاہدین واپس آئے،باقی فقط پانچ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان قید ہوئے تھے۔ جبکہ رومی لشکر کے ساٹھ ہزار نصرانیوں میں سے پانچ ہزار نصرانی مقتول ہوئے تھے۔(5)
جنگ کی تفصیل فاروقِ اعظم کی بارگاہ میں
حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس تاریخی معرکے کی تفصیلات بذریعۂ مکتوب حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط اَزدی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دے کر بارگاہِ فاروقِ اعظم میں بھیجا۔ سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’میں تیرہ ۱۳ذی الحجہ جمعۃ المبارک کی شام عصر کے بعد مقامِ یرموک سے مدینۂ منورہ کے لیے روانہ ہوااور اگلے جمعۃ المبارک مدینہ منورہ پہنچا۔ مسجد نبوی لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے اپنی اونٹنی کو باب جبریل پر باندھا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے روضۂ مبارکہ پر حاضری دی، بارگاہِ رسالت و بارگاہِ صدیقی دونوں میں سلام پیش کیا، دو۲ رکعت نماز ادا کی اور پھر وہ مکتوب لے کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ اَوّلاً میں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دونوں ہاتھوں کو چوما، پھر سلام کیا اور سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مکتوب پیش کیا۔ ‘‘(6)
٭…میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جب وہ سفر سے لوٹتے تو سب سے پہلے حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضری دیتے، صلاۃ وسلام پیش کرتے اور دو رکعت نماز بھی پڑھتے۔لہٰذا سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مزار پرانوار پر حاضری دینا، وہاں صلاۃ وسلام پڑھنا اور نوافل ادا کرنا نہ صرف جائز ومستحسن یعنی اچھا ہے بلکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت مبارکہ ہے۔
٭…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس مبارک عمل سے معلوم ہوا کہ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے مزارات میں زندہ ہیں ، ورنہ وہ کبھی بھی دونوں کی بارگاہ میں حاضر ہوکر سلام پیش نہ کرتے۔
٭…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ فاروقی میں حاضر ہو کر امیر المؤمنین سیِّدُنا عمر فارو ق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھوں کو چوما۔ معلوم ہوا اللہ عَزَّوَجَلَّکے برگزیدہ بندوں ، اولیائے کرام، پیران عظام، علمائے کرام وغیرہ کے ہاتھ چومنا جائز ہے، نہ صرف جائز ہے بلکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ثابت ہے۔
٭…اگر بزرگوں کے ہاتھ چومنا جائز نہ ہوتا تو سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کبھی بھی فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ نہ چومتے ۔
٭…نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان وتابعین عظام کا یہ معمول تھا کہ وہ امیر المؤمنین اوردیگر بزرگوں کے ہاتھوں کو بوسہ دیا کرتے تھے، کیونکہ اگر یہ کوئی نیا عمل ہوتا تو وہاں موجود اصحاب میں سے کوئی نہ کوئی آپ کو ضرور منع کرتا، لیکن وہاں کسی نے بھی منع نہ کیا بلکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی منع نہ کیا جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیک بھی یہ جائز عمل تھا۔
فاروقِ اعظم کا اَکابر صحابہ سے مدنی مشورہ
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جیسے ہی وہ مکتوب پڑھا، آپ کا رنگ تبدیل ہوگیا اور آپ بہت پریشان ہوگئے۔ آپ نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔ وہاں موجود اکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی پریشان ہوگئے اور سبھی پوچھنے لگے کہ حضور کیا معاملہ ہے، اسلامی لشکر کی طرف سے کون سی ایسی بات آئی ہے کہ جس نے آپ کو پریشان کردیا ہے؟سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اوروہ مکتوب پڑھ کر سنایا، تمام حاضرین بھی پریشان ہوگئے۔ سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’امیر المؤمنین! اگرچہ آپ کا شام جانا مسلمانوں کے لیے تقویت کا باعث ہوگا لیکن آپ ہمیں بھیجیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! میں اپنی جان، مال سب کچھ مسلمانوں پر لٹانے میں کسی قسم کا بخل نہیں کروں گا۔‘‘ پھر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رومی لشکر کی تفصیلات معلوم کی ۔
رسول اللہ اور جنگ یرموک کا ذکر
تفصیلات سے آگاہی کے بعد آپ نے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مشورہ فرمایا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کیا: ’’اَبْشِرُوْا رَحِمَكُمُ اللہ تَعَالٰى فَاِنَّ هٰذِهِ الْوَقْعَةَ يَكُوْنُ فِيْهَا آيَةٌ مِنْ آيَاتِ اللہ تَعَالٰى يَخْتَبِرُ بِهَا عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِيْنَ لِيَنْظُرَ اَفْعَالَهُمْ وَصَبْرَهُمْ فَمَنْ صَبَرَ وَاحْتَسَبَ كَانَ عِنْدَ اللہ مِنَ الصَّابِرِيْنَ وَاعْلَمُوْا اَنَّ هٰذِهِ الْوَقْعَةَ هِيَ الَّتِيْ ذَكَرَهَا لِيْ رسول اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِيْ يَبْقٰى ذِكْرُهَا اِلَى الْاَبَدِ هٰذِهِ الدَّائِرَةَ الْمُهْلِكَةَ یعنی آپ تمام لوگوں کو خوشخبری ہو کیونکہ جنگ یرموک اللہ عَزَّوَجَلَّکی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّاس جنگ کے ذریعے اپنے مؤمنین بندوں کو آزمائے گا تاکہ وہ ان کے افعال اور صبر کو دیکھے، پس جو ان میں سے صبر کرے گا اور اجر کی امید رکھے گا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں صابرین میں سے ہوگا اور جان لو کہ یہ وہی جنگ ہے جس کا ذکر خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے کیا تھا اور اس ہلاکت خیز جنگ کا ذکر ہمیشہ باقی رہے گا۔‘‘سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے استفسار کیا: ’’اس جنگ میں کس کی ہلاکت ہوگی؟‘‘ فرمایا: ’’جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کفر کیا اور اس کے لیے اولاد ثابت کی، لہٰذا مدد الہی پر پختہ بھروسہ رکھیں ۔‘‘(یعنی رومیوں کی شکست ہوگی اور مسلمانوں کی فتح ) (7)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی مبارک تصریح سے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:
٭…جنگ یرموک اللہ عَزَّوَجَلَّکی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کو آزمایا جائے گا۔ نیز اس مبارک جنگ کا ذکر ہمیشہ باقی رہے گا۔
٭…جنگ یرموک ۱۵ ہجری میں لڑی گئی لیکن رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی حیات طیبہ ہی میں اس کی غیبی خبر دے دی تھی، معلوم ہوا سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّکی عطا سے علم غیب رکھتے ہیں ۔
٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس بات کو جانتے تھے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اللہ عَزَّوَجَلَّنے علم غیب عطا فرمایا ہے، جبھی تو تمام اصحاب نے سنا اور کسی نے اعتراض نہ کیا۔
٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیائے کرام، اولیائے عظام کے علم غیب کا عقیدہ رکھنا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ثابت ہے، یہی وجہ ہے کہ جب سیِّدُنا علی المرتضی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مشرکین کی شکست اور مسلمانوں کی فتح کی غیبی خبر دی تو کسی نے بھی انکار نہ کیا۔
جوابی مکتوب اور سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط کی روانگی
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف جوابی مکتوب روانہ کیا، وہ مکتوب حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عطا فرمایا اور پھر ان کے لیے دعا فرمائی۔سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جوابی مکتوب لے کر میں باب حبشہ سے نکلا، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا: لَقَدْ اَخْطَاْتُ فِي الرَّاْيِ اِذْ لَمْ اَسْلِمْ عَلٰى قَبْرِ رسول اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا اَدْرِيْ اَرَاهُ بَعْدَ الْيَوْمِ اَمْ لَا یعنی یہ میری بہت بڑی غلطی ہوگی اگر میں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار پر سلام پڑھے بغیر چلا گیا کیونکہ کیا معلوم بعد میں حاضری نصیب ہو یا نہ ہو۔‘‘
مزید فرماتے ہیں : ’’فَقَصَدْتُّ حُجْرَةَ رسول اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللہ عَنْهَا جَالِسَةٌ عِنْدَ قَبْرِهٖ وَعَلِىُّ بْنُ اَبِيْ طَالِبٍ كَرَّمَ اللہ وَجْهَهُ وَالْعَبَّاسُ جَالِسَانِ عِنْدَ الْقَبْرِ وَالْحُسَيْنُ فِيْ حُجْرِ عَلِيٍّ وَالْحَسَنُ فِيْ حُجْرِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللہ عَنْهُ وَهُمْ يَتْلُوْنَ سُوْرَةَ الْاَنْعَامِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللہ عَنْهُ يَتْلُوْ سُوْرَةَ هُوْدٍ فَسَلَّمْتُ عَلٰى رسول اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمیعنی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مزار پرانوار کا قصد کرکے چلا، جب وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا مزار پرانوار کے قریب تشریف فرما ہیں ، حضرت سیِّدُنا علی المرتضی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی مزار پرانوار کے پاس بیٹھے ہیں ، سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی گود میں اور سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی گود میں بیٹھے ہیں ، سب لوگ سورۂ اَنعام کی تلاوت کررہے ہیں جبکہ سیِّدُنا علی المرتضی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سورۂ ھود کی تلاوت کر رہے ہیں ۔ پھر میں نے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ اَقدس میں صلاۃ وسلام پیش کیا۔‘‘(8)
٭…میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مبارک عمل سے واضح ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار کا قصد کرنا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے۔
٭…حسن اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پراَنوار پر حاضر ہوکر صلاۃ وسلام پیش کرنا بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے۔
٭…دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار پر حاضری دینا ، وہاں تلاوت قرآن کرنا اور صلاۃ وسلام پیش کرنا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا معمول تھا۔
٭…سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار کے قصد سے چلنا، مزار پر حاضری دینا، وہاں تلاوت قرآن کرنا، صلاۃ وسلام پیش کرنا یہ تمام امور بالکل جائز اور اجر وثواب کا ذخیرہ ہیں ۔
مولاعلی اور شان فاروقِ اعظم
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ جب میں قبرِ انور پر صلاۃ وسلام پیش کرکے روانہ ہونے لگا تو مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے فرمایا: ’’اے عبداللہ! کیا تم ملک شام واپس جارہے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’جی ہاں ! جا تو رہاہوں لیکن دل میں ایک خیال آتا ہے کہ جب میں وہاں پہنچوں گا یقیناً دونوں طرف شدید جنگ جاری ہوگی، تلواریں آپس میں ٹکرا رہی ہوں گی، اسلامی لشکر جب مجھے بغیر کسی مدد کے اکیلا دیکھے گا تو ہوسکتا ہے ان کے دل ٹوٹ جائیں اور وہ ہمت ہار بیٹھیں ، مجھے اس بات کی فکر کھائے جارہی ہے۔‘‘
یہ سن کر مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فضائل ومناقب بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے عبد اللہ! تمہیں کس نے منع کیا ہے کہ تم حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے دعا نہ کرواؤ۔(یعنی تمہیں اسلامی لشکر کی فتح ونصرت کے لیے امیر المؤمنین سے ضرور دعا کروانی چاہیے تھی)اے عبد اللہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ٭سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی دعا رد نہیں کی جاتی۔٭ان کی دعا اور قبولیت کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔٭دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہی کے متعلق ارشاد فرمایا تھا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔٭کیا یہ وہی شخصیت نہیں ہیں جن کی رائے کی قرآن نے موافقت کی ہے۔ ٭رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہی کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر آسمان سے اللہ عَزَّوَجَلَّکا عذاب نازل ہو تو عمر بن خطاب کے سوا کوئی نہ بچے گا۔٭کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنےان کی شان میں واضح آیات نازل فرمائی ہیں ۔٭یہ نہایت ہی عابد وزاہد اور متقی شخص ہیں۔٭یہ حضرت سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مشابہ ہیں ۔٭اگر وہ تمہارے لیے دعا فرمادیں تو ہاتھوں ہاتھ قبول ہوجائے۔‘‘
یہ سن کر سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا: ’’حضور! آپ نے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جو بھی فضائل بیان کیے ہیں میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں ، میں نے ان سے تو دعا کروالی ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ اور سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی دعا فرمادیں خصوصاً رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار کے قریب دعا فرمائیں ۔‘‘
حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا اور حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا دونوں نے دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے اور یوں دعا فرمائی: ’’ اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَتَوَسَّلُ بِهٰذَا النَّبِيِّ الْمُصْطَفٰى وَالرَّسُوْلِ الْمُجْتَبَى الَّذِيْ تَوَسَّلَ بِهٖ آدَمُ فَاَجَبْتَ دَعْوَتَهُ وَغَفَرْتَ خَطِيْئَتَهُ اِلَّا سَهَّلْتَ عَلٰى عَبْدِ اللہ طَرِيْقَهُ وَطَوَيْتَ لَهُ الْبَعِيْدَ وَاَيَّدْتَ اَصْحَابَ نَبِيِّكَ بِالنَّصْرِ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَاءَیعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہم تیری بارگاہ میں تیرے اس نبیٔ مصطفی، رسولِ مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وسیلہ پیش کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں جن کا سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بھی وسیلہ پیش کیا تھا تو تونے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کی لغزش کو معاف فرمایا، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! تو عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے راستے کو ان کے لیے آسان فرمادئے، ان کی منزل کی دوری کو سمیٹ کر قریب کردے اور تو اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب کی مدد ونصرت کے ذریعے تائید فرما۔ بے شک تو ہی دعاؤں کو سننے والا ہے۔‘‘ پھر مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا: ’’سِرْ يَا عَبْدَ اللہ بْنَ قُرْطٍ فَاللّٰهُ تَعَالٰى اَكْرَمُ مِنْ اَنْ يَّرُدَّ دَعَاءَ عُمَرَ وَعَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ وَاَزْوَاجِ رسول اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَوَسَّلُوْااِلَيْهِ بِاَكْرَمِ الْخَلْقِ عَلَيْهیعنی اے عبد اللہ بن قرط! اب بے فکر ہو کر جاؤ کیونکہ امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ، سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور علی ، حسن وحسین اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج مطہرات نے رب عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں مخلوق کی سب سے زیادہ عزت ومرتبے والی ہستی (یعنی حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا وسیلہ پیش کیا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّاس بات سے کریم تر ہے کہ وہ اس وسیلے کے ہوتے ہوئے ان کی دعا کو رد فرمائے ۔‘‘
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’فَخَرَجْتُ مِنَ الْحُجْرَةِ وَاَنَا فَرْحٌ مَسْتَبْشِرٌ وَاسْتَوَيْتُ عَلٰى كَوْرِ الْمَطِيَّةِ وَرَكِبْتُ الْفُلَاةَ وَاَنَا فَرْحٌ بِدُعَاءِ عَلِيٍّ وَالْعَبَّاسِ وَعُمَرَ رَضِيَ اللہ عَنْهُمْ اَجْمَعِيْنیعنی میں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار سے نکلا تو بہت ہی خوش تھا، میں نے اونٹنی کا کجاوہ وغیرہ درست کیا اور اس پر سوار ہوگیا،میں حضرت سیِّدُنا علی، سیِّدُنا عباس وسیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن کی دعا سے بہت ہی خوش ہورہا تھا۔‘‘ سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مدینہ منورہ سے جمعۃ المبارک کے روز روانہ ہوئے اور تیسرے دن عصر کے وقت مقام یرموک میں پہنچ گئے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اتنا جلدی پہنچنے پر سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت ہی متعجب ہوئے۔ سیِّدُنا عبد اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سیِّدُنا عمر، سیِّدُنا علی ، سیِّدُنا عباس، سیِّدُنا امام حسن وامام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن کی دعا کا ذکر کیا تو سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’صَدَقْتَ يَا ابْنَ قُرْطٍ وَاِنَّهُمْ لَكِرَامٌ عَلَى اللہ عَزَّ وَجَلَّ وَاِنَّ دُعَاَءُهْم لَا يَرُدُّ یعنی اے ابن قرط! تم نے بالکل سچ کہا، یہ ایسی عزت وعظمت والی ہستیاں ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّان کی دعا کو کبھی بھی رد نہیں فرماتا۔‘‘(9)
علم وحکمت کے مدنی پھول,,,,,,,,,,,,,
٭…میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سیِّدُنا مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیک بھی بڑے مقام ومرتبہ والے تھے۔
٭…سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے اپنی مشکل کا ذکر کیا، مولاعلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود مشکل کشا ہیں لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ تم سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے دعا کرواؤ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّان کی دعا کو رد نہیں فرماتا اور ان کی دعا کے ذریعے تمہاری مشکل دور ہوجائے گی۔
٭…سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے تربیت یافتہ تھے، انہیں معلوم تھا کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دعا رد نہیں کی جاتی مگر ان کی یہ مدنی سوچ تھی کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دعا کے ساتھ اگر اہل بیت کی دعا بھی ہوتو وہ سونے پہ سہاگے کا کام کرے گی، اسی لیے انہوں نے مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھی دعا کی درخواست کی۔
٭…سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ مبارک عقیدہ تھا کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دعا کے ساتھ اہل بیت کی دعا بھی ہو اور پھر وہ دعا جو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار کے قریب ہو تو ایسی دعا کبھی بھی رد نہیں کی جائے گی۔
٭…معلوم ہوا یہ عقیدہ رکھنا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار کے قریب دعائیں قبول ہوتی ہیں ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا مبارک عقیدہ ہے۔
٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلہ جلیلہ سے دعا مانگنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ، سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ، سیِّدُنا امام حسن وحسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور ازواج مطہرات کی سنت مبارکہ ہے۔
٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وسیلے سے دعا کرنا دعا کی قبولیت کا اہم سبب ہے۔جیسا کہ سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا کہ ’’اب دعا کسی صورت بھی رد نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ دعا اکرم الخلق یعنی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلے سے مانگی گئی ہے۔ ‘‘
٭…جو دعا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلے سے مانگی گئی ہو اس پر خوش ہونا بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت مبارکہ ہے، جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس دعا کے بعد بہت زیادہ خوش ہوئے اور باقاعدہ اس بات کو بیان کیا۔
٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ، سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ، سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ، سیِّدُنا امام حسین وحسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ ان تمام حضرات کا مقام ومرتبہ بہت ہی بلند وبالا تھا، یہی وجہ ہےکہ جب سیِّدُنا عبد اللہ بن قرط رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سب کی دعا کا ذکر کیا تو سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کا بلند مقا م ذکر کیا۔
مدینہ منورہ سے سات ہزار کے لشکرکی روانگی
اسلامی لشکر اور رومی لشکر کی تفصیلات مدینہ منورہ اور اطراف کے تمام علاقوں میں پھیل گئی تھیں اس وجہ سے جس دن سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جوابی مکتوب روانہ فرمایا اس سے اگلے مدینہ منورہ کے اطراف کے علاقوں تقریباً سات ہزار مجاہدین کا لشکر ملک شام میں موجود اِسلامی لشکر کی مدد کے لیے تیار ہوگیا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِس لشکر کی سپہ سالاری یمن کے حاکم حضرت سیِّدُنا سعید بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سونپی اور مختلف نصیحتوں کے بعد اسے ملک شام کی جانب روانہ کردیا۔ وہ لشکر مختلف گھاٹیوں سے ہوتا ہوا اسلامی لشکر کے پاس پہنچ گیا۔(10)
جنگ یرموک کا دوسرا دن
سیِّدُناخالدبن ولید ماہان کے دربار میں
رومی لشکر کے سب سے بڑے سپہ سالار ماہان ارمنی نے جب پہلے دن کی کیفیت دیکھی کہ کس طرح مسلمانوں کے فقط ساٹھ مجاہدین نے ہمارے ساٹھ ہزار رومیوں کو بھگادیا تو وہ بڑا حیران ہوا، اس نےجبلہ بن ایہم کو بلا کر سختی سے سرزنش کی تو جبلہ کہنے لگا: ’’اے سردار!مجھ پر غصے نہ ہوں میں آپ کے لیے ایک تحفہ لایا ہوں ، پھر اس نے ان پانچ قیدی صحابہ کرام کو بلایااور کہا کہ میں نے ان کو قید کرلیا ہے اور بقیہ کو قتل کرڈالا ہے۔ البتہ ان کا ایک سپاہی ایسا ہے جو پورے اسلامی لشکر کی جان ہے، اگر ہم اسے قتل کردیں تو اسلامی لشکر کی کمرٹوٹ جائے گی۔‘‘ ماہان کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کا نام خالد بن ولید ہے۔ ماہان نے سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو صلح کےلیے بلاکر دھوکے سے شہید کرنے کا پلان بنایا اور قاصد کو اسلامی لشکر کی طرف روانہ کیا۔ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حکم سے سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سو۱۰۰ مجاہدین کے ساتھ ماہان کے دربار میں پہنچے۔ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور ماہان کے درمیان ایک طویل گفتگو ہوئی، جب گفتگو میں شدت ہوئی تو ماہان کے طے شدہ منصوبے کے مطابق اس کے محافظوں نے تلواریں تان لیں لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتے سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ساتھیوں سمیت ماہان کو چاروں طرف سے گھیر لیا، اپنے سر پرموت دیکھ کر ماہان کا سانس اوپرکااوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا، اس کی حیثیت سرکس کے ایک جانور کی طرح ہوگئی جو اپنے مالک کے حکم پر چپ چاپ عمل کرتاہے، سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پانچ قیدی صحابہ کرام کو لانے کا کہا اور ان سب کو لے کر بڑی شان وشوکت سے اسلامی لشکر واپس لوٹے جس پر پورے اسلامی لشکر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ماہان کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور قیدی صحابہ کی آزادی کی تمام تفصیل بتادی۔ (11)
دونوں لشکروں میں گھمسان کی جنگ,
تیسرے دن دونوں لشکروں میں گھمسان کی جنگ ہوئی، چوتھے دن اسلامی لشکر جنگ کے لیے میدان میں آیا لیکن اس دن رومی لشکر لڑنے کے لیے نہ نکلا۔ اسی طرح ماہان نے سات دن تک جنگ موقوف رکھی۔ گیارہویں دن ماہان نے رات سے ہی اپنے لشکر کو ترتیب دے کر صبح جب اسلامی لشکر نماز فجر میں مصروف تھا اس نے حملہ کردیا۔ جلدی جلدی تمام مجاہدین نے جنگ کی تیاری کی اور سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رومی لشکر کو جاکر روکا۔ گیارہویں دن کی اس جنگ میں اِسلامی لشکر میں موجود خواتین نے بھی حصہ لیا۔ جنگ کے بارہویں دن بھی ایسی گھمسان کی جنگ ہوئی کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی، سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جس طرف جاتے لاشوں کے اَنبار لگادیتے۔بارہویں دن رومی لشکر کے چالیس ہزار سپاہی مقتول ہوئے ۔(12)
جنگ یرموک میں مسلمانوں کا شعار
حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے فرماتے ہیں : ’’كَانَ خَالِدٌ اَمَامَنَا فِيْ حَمْلَتِهٖ وَنَحْنُ مِنْ وَرَائِهٖ وَكَانَ شِعَارُنَا يَا مُحَمَّدُ يَا مَنْصُوْرَ اُمَّتِكَ اُمَّتِك یعنی حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہمارے آگے آگے اور ہم سب ان کے پیچھے پیچھے تھے اور اس دن ہمارا شعار یَارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، اے اپنی امت کی مدد فرمانے والے تھا۔‘‘(13)
یارسول اللہ کے نعرے اور رسول اللہ سے مدد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ جنگ یرموک میں مسلمانوں کا شعار یہ تھا کہ وہ یَارسول اللہ کے نعرے لگایا کرتے تھے، رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مدد طلب کیا کرتے تھے، یقیناً ان کا یہ عمل قرآن وسنت کے مطابق تھا اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّکی عطا سے ہماری مدد فرماتے ہیں اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مدد فرمانا اللہ عَزَّوَجَلَّہی کا مدد کرنا ہے۔معلوم ہوا یارسول اللہ کے نعرے لگانا اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مدد طلب کرنا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام کی سنت مبارکہ ہے یہی وجہ ہے کہ آج بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے حقیقی محبت کرنے والے ان کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے یارسول اللہ کے نعرے لگاتے ہیں اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مدد بھی طلب کرتے ہیں ۔
سیِّدُنا خالد بن ولید کی مبارک ٹوپی,
جنگ کے بارہویں دن سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مقابلہ ایک رومی سردار بطریق نسطور سے ہوا، دونوں کے درمیان جنگ جاری تھی کہ اچانک سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا گھوڑا بدکا اور زمین پر گرگیا جس سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی زمین پر گرگئے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وہ مبارک ٹوپی بھی گرگئی جسے آپ ہروقت اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے، حیرانی کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی وہ ٹوپی گری آپ کو اپنی جان کی نہیں بلکہ اس ٹوپی کی فکر لگ گئی اور آپ نے بآواز بلند پکارا: ’’قَلَنْسُوَتِیْ رَحِمَکُمُ اللہ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّتم لوگوں پر رحم فرمائے ہے کوئی جو میری ٹوپی مجھے تھما دے۔‘‘ چنانچہ آپ کی قوم میں سے ایک شخص گیا اور آپ کی ٹوپی آپ کو تلاش کرکے تھمادی، جیسے ہی آپ نے وہ ٹوپی پہنی تو ایسے لگا جیسے آپ کو نئی طاقت مل گئی ہو، پھر آپ نے اس سردار پر اپنی تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس کے جسم کے دو ٹکڑے ہوگئے۔رومیوں نے جب اس کا یہ حشر دیکھا تو سب کا سانس رک گیا اور وہ بھیگی بلی کی طرح بھاگ کھڑے ہوئے۔(14)
سیِّدُنا خالد بن ولید کا مبارک عقیدہ
جب سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لشکر میں واپس آئے تو اُن سے پوچھا گیا کہ حضرت جب میدان جنگ میں ہرطرف تلواریں چل رہی تھیں ، اس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی ٹوپی کی فکر لگی ہوئی تھی، اس کی کیا وجہ تھی؟‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور نبی کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حلق کروایا تو میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک بالوں میں سے چند بال مبارک اپنے پاس رکھ لیے۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’مَا تَصْنَعُ بِهٰؤُلَاءِ يَا خَالِدُ یعنی اے خالد! تم ان بالوں کا کیا کرو گے؟‘‘میں نے عرض کیا: ’’اَتَبَرَّكُ بِهَا يَا رسول اللہ وَاسْتَعِيْنُ بِهَا عَلَى الْقِتَالِ قِتَالَ اَعْدَائِيْ یعنی یَارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں آپ کے ان مبارک گیسوؤں سے تبرک حاصل کروں گا اور جنگوں میں اپنے دشمنوں کے قتال پر ان سے مدد طلب کروں گا۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’لَا تَزَالُ مَنْصُوْراً مَا دَامَتْ مَعَكَ یعنی اے خالد! جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے ان کے وسیلے سے ہمیشہ تمہاری مدد کی جاتی رہے گی۔‘‘سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’فَجَعَلْتُهَا فِيْ مُقَدَّمَةِ قَلَنْسُوَتِيْ فَلَمْ اَلْقِ جَمْعاً قَطُّ اِلَّا اِنْهَزَمُوْا بِبَرَكَةِ رسول اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمیعنی پھر میں نے ان مبارک گیسوؤں کو اپنی ٹوپی کے اگلے حصے میں محفوظ کرلیا اور میں جب بھی اپنے دشمنوں سے مقابلے کے لیے جاتاہوں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی برکت سے میرے دشمنوں کو شکست وذلت سے دوچار فرماتا ہے۔‘‘(15)
علم وحکمت کے مدنی پھول,,,,,,,,,,,,,,,
٭…میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کتنے واضح الفاظ میں اپنا مبارک عقیدہ بیان کررہے ہیں کہ میں ان مبارک گیسوؤں سے تبرک اور مدد حاصل کروں گا۔ معلوم ہوا سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک گیسوؤں سے تبرک اور مدد حاصل کرنا دونوں جائز ہیں ۔
٭…معلو م ہوا کہ یہ فقط سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عقیدہ ہی نہیں تھا بلکہ آپ کا یہ مشاہدہ تھا کہ مجھے جنگوں میں ان ہی مبارک گیسوؤں کی برکت سے فتح ونصرت حاصل ہوتی ہے۔
٭…جب سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا کہ میں ان سے برکت اور مدد حاصل کروں گا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تائید فرمائی کہ جب تک تمہارے پاس یہ بال رہیں گے تمہیں ہمیشہ مدد ونصرت ہی ملے گی، تمہارے دشمنوں کو شکست وذلت دی جائے گی۔
٭…سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک گیسوؤں سے برکت اور مدد حاصل کرنے کا معاملہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نہ صرف حیات مبارکہ میں تھا بلکہ آپ کے وصال ظاہری کے بعد بھی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ ارشاد فرمایا کہ اے خالد جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے تب تک تمہاری مدد کی جاتی رہے گی۔ اور سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب یہ واقعہ بیان کررہے ہیں اس وقت رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ظاہری ہوچکا تھا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آثار رسول اللہ سے تبرک ومدد کا معاملہ حیات طیبہ میں بھی تھا اور وصال ظاہری کے بعد بھی ہے۔
٭…اگر حضور نبی کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک گیسوؤں سے تبرک حاصل کرنا اور مدد طلب کرنا ناجائز یا شرک ہوتا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو روکتے اور منع فرماتے کہ اے خالد یہ عقیدہ رکھنا درست نہیں ہے، جبکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں منع نہ فرمایا بلکہ یہ فرماکر اُن کے عقیدے کو پختہ کردیا کہ اے خالد جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے تم ہمیشہ فتح یاب ہوتے رہو گے۔
٭…رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو منع نہ فرمانا بلکہ ان کی تائید فرمانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تبرکات وآثار سے تبرک اور مدد حاصل کرنا نہ صرف صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے نزدیک جائز ہے بلکہ خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نزدیک بھی جائز ہےاور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کئی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اپنے موئے مبارکہ خود عطا فرمائے۔ چنانچہ،
٭…حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجام کو بلا کر اپنی سراقدس کے داہنی جانب کے بال منڈوائے اور سیِّدُنا طلحہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو وہ بال عطا فرمادیے، پھر بائیں جانب کے بالوں کو منڈوایا اور وہ سب بال بھی سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عطافرمائے نیز انہیں یہ
حکم فرمایا کہ ان بالوں کو لوگوں میں تقسیم فرمادیں ۔(16)
٭…سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بطریق نسطور کے ساتھ لڑ ائی کررہے تھے تو آپ کی مبارک ٹوپی گرگئی اور آپ اس کی تلاش میں لگ گئے، اس پر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آپ سے سبب پوچھا اور آپ نے مذکورہ بالا ساری بات بیان کی لیکن آپ کے بیان پر کسی نے بھی انکار نہ کیا معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ مبارک عقیدہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گیسوؤں سے تبرک اور مدد حاصل کرنا جائز ہے۔
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک گیسوؤں سے یوں استعانت طلب کرتے ہیں :
ہم سیہ کاروں پہ یارب تپش محشر میں
سایہ افگن ہوں ترے پیارے کے پیارے گیسو
سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہوجائے
چھائے رحمت کی گھٹا بن کے تمہارے گیسو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ابوالجعیدپرظلم وستم اوررومیوں سے بدلہ
جنگ یرموک کے تیرہویں دن صبح کے وقت ابوالجعید نامی ایک رومی رئیس سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ملنے کے لیے آیا اور اس نے کہا کہ رومیوں کا لشکر اتنا بڑا ہے کہ اگر آپ کئی دنوں تک انہیں قتل کرتے رہیں تو بھی اسے ختم نہ کرپائیں گے، ہاں اگر آپ میرے منصوبے پر عمل کریں تو میں ایک ساتھ ہزاروں رومیوں کو قتل کروا سکتا ہوں ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے اپنے ساتھ ہونے والی رومی سرداروں کی ظلم وزیادتی کی ایک طویل داستان سنائی اور کہنے لگا کہ اب میں اپنے ساتھ ہونے والے ظلم وستم کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔بعدازاں اس نے بغیر جزیہ امان کی شرائط پر اپنا پورا منصوبہ بیان کیا۔اس منصوبے کی تفصیل کچھ اس طرح تھی کہ رومی لشکر کے دو کیمپ تھے، ابوالجعید دوسرے کیمپ میں تھا۔ منصوبے کا پہلا حصہ یہ تھا کہ آج رات پورے اسلامی لشکر کے کیمپ میں آدھی رات کے بعد مشعلیں روشن کی جائیں جس سے رومیوں کو یہ تاثر ملے گا کہ اسلامی لشکر والے شکست کھا کر بھاگ رہے ہیں ۔ جبکہ پانچ سو مجاہدین راستے میں چھپ جائیں گے۔ دوسرا حصہ یہ تھا کہ ابوالجعید اپنے کیمپ میں جاکر یہ تاثر دے کہ آج رات اسلامی لشکر بھاگ جائے گا اور یہ بھی توقع ہے کہ اسلامی لشکر رومیوں پر حملہ کرے گا، پھر جس وقت اسلامی لشکر کے کیمپ میں مشعلیں روشن ہوں تو راستے میں چھپے ہوئے پانچ سو مجاہدین رومی کیمپ پر حملہ کردیں ، تھوڑی دیر کے بعد وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ کھڑے ہوں ۔رومی لشکر کو چونکہ پہلے سے معلوم ہوگا اس لیے وہ مجاہدین کا تعاقب کریں گے، مجاہدین آگے نکل کر چھپ جائیں گے اور رومی لشکر مسلسل بھاگتا جائے گا، اسلامی لشکر میں مشعلیں روشن ہونے، مجاہدین کا تعاقب کرنے اور اسلامی لشکر کو لوٹنے کے زعم میں رومیوں کے ذہن سے یہ نکل جائے گا کہ اسی راستے میں ایک گہری اور تیزی پانی والی ندی بھی ہے، اس بے خیالی میں ہزاروں رومی ندی میں گر کر ہلاک ہوجائیں گے۔
سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی فراست سے جان لیا کہ ابوالجعید صحیح کہہ رہا ہے اور یہ دھوکے نہیں دے گا، چنانچہ اس کے منصوبے پر بعینہ عمل کیا گیا، سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پانچ سو مجاہدین کے ساتھ راستے میں چھپ گئے، اسلامی لشکر میں مشعلیں روشن کی گئیں ، ابو الجعید نے رومیوں کو دونوں باتیں بتا کر لڑنے کی پرزور ترغیب دلائی، مجاہدین رومی کیمپ پر حملہ کرکے بھاگ کھڑے ہوئے، رومی ان کا پیچھا کرنے لگے، راستے میں مجاہدین چھپ گئے لیکن رومی بدستو آگے گھوڑے دوڑاتے رہے، رات کے اندھیرے میں یاقوصہ ندی میں رومیوں کی پہلی صف گری، پھر اس کے بعد دوسری صف گری تو اس نے پہلے والوں کو روند ڈالا، اسی طرح بعد میں آنے والی اپنے سے پہلے والوں کو ماردیتے، یوں ابوالجعید کی جنگی تدبیر سے ہزاروں رومی ایک ساتھ واصل جہنم ہوگئے۔(17)
رومی بطریق کی مقابلہ کے لیے طلبی
جنگ یرموک کے چودہویں دن ماہان کی رہی سہی ہمت بھی ٹوٹ گئی، اس نے خود میدان جنگ میں جانے کا ارادہ کیا لیکن پھر اس نے ایک رومی سردار جرجیر کو بھیجا جس کے مقابلے پر خود سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لائے اور اسے واصل جہنم کیا۔ اس سردار کے قتل ہونے کے بعد ماہان نے خود میدان جنگ میں اترنے کا ارادہ کیا لیکن ایک بھاری ڈیل ڈول والا بطریق جوجرجیرسردار کا رشتہ دار میدان جنگ میں جانے پر مصر ہوا۔ جیسے ہی وہ بطریق میدان جنگ میں آیا نہایت ہی بدتمیزی کے ساتھ اپنے مقابلے کے لیے کسی مجاہد کو طلب کرنے لگا۔
اس کے مقابلے کے لیے اَوّلاً سیِّدُنا ضرار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میدان جنگ میں گئے اور پھر اپنا جنگی لباس اتارنے کے لیے واپس آئے تو حضرت سیِّدُنا مالک نخعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اس بطریق سے مقابلے کے لیے میدان جنگ میں چلے گئے۔وہ بطریق اپنی جسامت اور طاقت کے گھمنڈ میں باربار مدمقابل کو طلب کررہا تھا، حضرت سیِّدُنا امام مالک نخعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب میدان جنگ میں اس کے قریب پہنچے تو حضرت سیِّدُنا ضرار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دیکھا کہ آپ نے پکار کر فرمایا: ’’تَقَدَّمْ يَا عَدُوَّ اللہ يَا عَابِدَ الصَّلِيْبِ اِلَى الرَّجُلِ النَّجِيْبِ نَاصِرِ مُحَمَّدِ نِ الْحَبِيِبیعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّکے دشمن، اے صلیب کے پجاری، اب ایسے شخص سے مقابلے کے لیے نکل جس کے مدد گار حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں ۔‘‘جیسے ہی اُس رومی بطریق نے یہ سنا تو اس پر لزرہ اور خوف طاری ہوگیا، ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکا، بالآخر واصل جہنم ہوگیا۔(18)
سیِّدُنا مالک نخعی کا مبارک عقیدہ
٭…میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا مالک نخعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کتنے واضح الفاظ میں فرمارہے ہیں کہ ان کے مددگار حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں ، نیز حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنا ناصر ومددگار کہنا تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا مبارک عقیدہ ہے کیونکہ جب آپ نے یہ مبارک کلام فرمایا اس کو سیِّدُنا ضرار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سن رہے تھے اور وہ اسلامی لشکر میں موجود تھے یقیناً وہاں موجود تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بھی اس کو سنا تھا، اگر ان کا یہ عقیدہ نہ ہوتا تو وہ ضرور سیِّدُنا مالک نخعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو روکتے اور اس سے منع کرتے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے نزدیک رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس طرح اپنی حیات طیبہ میں حامی ومددگار تھے ویسے ہی اپنے وصال ظاہری کے بعد بھی ان کے حامی ومددگار تھے۔
ان کے سوا رضا کوئی حامی نہیں جہاں
گزرا کریں پسر پہ پدر کو خبر نہ ہو
اِسلامی لشکر کی عظیم الشان فتح
جب ماہان نے اپنے اہم سرداروں کو قتل ہوتے دیکھاتو خود ہی میدان جنگ میں آیا، سیِّدُنا مالک نخعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کے کندھے پر ایسا وار کیا جس نے اس کے آہنی لباس کو پھاڑ ڈالا ، اس کے زخم سے خون بہنے لگا، اگرچہ زخم اتنا گہرا نہیں تھا لیکن ماہان کی ساری بہادری پانی ہوگئی، وہ بھاگ کر دوبارہ رومی لشکر میں واپس آگیا اور اس کے پورے بدن پر کپکپی طاری تھی، آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر آسمان کی طرف بار بار دیکھتا تھا، اس کی یہ حالت دیکھ کر تمام رومیوں کے دل اچاٹ ہوگئے، دل الٹ پلٹ ہونے لگے۔ اس کیفیت کو دیکھ کر سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مشورے سے سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلامی لشکر کو رومی لشکر پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ رومی پہلے ہی ڈرے ہوئے تھے مجاہدین کی تلواروں کے سامنے تھوڑی دیر بھی نہ ٹھہر سکے، سارے بھاگ کھڑے ہوئے۔ ایک کثیر تعداد میں رومی یاقوصہ ندی میں گرکر ہلاک ہوگئے، ہزاروں رومی پہاڑوں پر چلے گئے، مجاہدین نے ان کا تعاقب کیا اور جوبھی ہاتھ لگا اسے جہنم واصل کردیا۔ بقیہ جو بچے ان سب نے ’’امان امان ‘‘پکارنا شروع کردیا۔ بہرحال جنگ یرموک کے چودہویں دن اللہ عَزَّوَجَلَّنے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح ونصرت عطا فرمائی، اس جنگ میں چار ہزار مجاہدین شہید ہوئے اور جبکہ رومی مقتولوں کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی۔ رومی لشکر کے سپہ سالار ماہان ارمنی کا سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دمشق تک پیچھا کیا اور بالآخر اسے بھی جہنم واصل کردیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رومی بھگوڑوں کا پیچھا کرتے گئے راستے میں جوبھی ملتا اسے جہنم واصل کرتے، یوں آپ حمص تک پہنچ گئے۔سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی وہیں پہنچ گئے، پھر اسلامی لشکر کو لے کر دمشق چلے گئے۔ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جنگ اور مال غنیمت کی تمام تفصیلات وغیرہ لکھ کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس بھیج دیں ۔پھر امیر المؤمنین کے حکم سے مجاہدین میں مالِ غنیمت تقسیم فرمایا، اس جنگ میں جو مال غنیمت ہاتھ آیا اس کی کثرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہرسوار کے حصے میں چودہ ہزار ۱۴۰۰مثقال سونا اور ہرپیدل سپاہی کے حصے میں آٹھ ہزار ۸۰۰۰مثقال سونا آیا۔(19)
سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح کا مبارک مکتوب
اِسلامی لشکر کے سپہ سالار حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جنگ کی تفصیلات سے متعلق جو مکتوب روانہ کیا اس میں ہرطرح کی تفصیل لکھی، جو پچھلے صفحات میں گزر چکی ہے۔ البتہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مکتوب میں شامل خطبہ پیش خدمت ہے جو سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مبارک عقیدے پر مشتمل ہے:
’’اَمَّا بَعْدُ فَاَنَا اَحْمَدُ اللہ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَاشْكُرْهُ عَلٰى مَا اَوْلَانَا مِنَ النِّعَمِ وَخَصَّنَا بِهٖ مِنْ كَرَمِهٖ بِبَرَكَاتِ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ وَشَفِيْعِ الْاُمَّةِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمیعنی حمدوصلاۃ کے بعد میں کہتا ہوں کہ تمام تعریفیں اس رب عزوجل کے لیے ہیں جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس کا اس بات پر شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں اپنی نعمتوں میں سے ایک بہترین نعمت (یعنی فتح یرموک)عطا فرمائی اور ہمیں اس فتح کے ساتھ اپنے فضل وکرم، نبی رحمت، شفیع امت صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی برکات کے طفیل خاص فرمایا۔‘‘(20)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل ورسول اللہ کی برکت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کس طرح اپنے دعائیہ خطبے میں اللہ عَزَّوَجَلَّکے فضل وکرم سے متصل رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی برکت کو ذکر کر رہے ہیں ۔ معلوم ہوا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے نزدیک اللہ عَزَّوَجَلَّکے فضل وکرم کے ساتھ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برکت کو ذکر کرنا بالکل جائز امر ہے، نیز یہ مکتوب سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے بھی اسے پڑھا مگر ان مبارک الفاظوں پر کوئی کلام نہ کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ عقیدہ تھا کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے فضل وکرم کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برکت اور عنایت کو بھی ذکر کیا کرتے تھے۔
رسول اللہ کی فاروقِ اعظم کوفتح یرموک کی بشارت
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جنگ یرموک کے تعلق سے اسلامی لشکر کے لیے بہت زیادہ فکر مند تھے، کیونکہ آپ کو معلوم تھا کہ اسلامی لشکر کی تعداد رومیوں کے مقابلے میں نہایت ہی قلیل ہے۔ جس دن
اسلامی لشکر کو فتح عظیم حاصل ہوئی اس رات سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک مبارک خواب دیکھا کہ حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ساتھ ہی حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے روضہ مبارکہ میں تشریف فرما ہیں ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دونوں کو سلام کرنے کے بعد عرض کیا: ’’يَارسول اللہ اِنَّ قَلْبِيْ مَشْغُوْلٌ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ وَمَا يَصْنَعُ اللہ بِهِمْ وَقَدْ بَلَغَنِيْ اَنَّ الرُّوْمَ فِيْ اَلْفِ اَلْفٍ وَّسِتِّيْنَ اَلْفاًیعنی یَارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرا دل اسلامی لشکر کے بارے میں بڑا متفکر ہے کہ پتا نہیں اللہ عَزَّوَجَلَّنے ان کے ساتھ کیامعاملہ فرمایا ہے کیونکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان کے مقابلے میں رومی لشکر کی تعداد دس لاکھ ساٹھ ہزار ہے۔‘‘سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’يَاعُمَرُ اَبْشِرْ فَقَدْ فَتَحَ اللہ عَلَى الْمُسْلِمِيْنَ وَقَدِ انْهَزَمَ عَدُوُّهُمْ وَقَتْلَ كَذَا وَكَذَایعنی اے عمر! تمہیں خوشخبری ہو کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے جنگ یرموک میں مسلمانوں کو فتح عطا فرمادی ہے اور ان کے دشمنوں نے شکست کھائی ہے اور انہیں اس اس طرح قتل کردیا گیاہے۔‘‘ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت مبارکہ تلاوت کی: (تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)) (پ۲۰، القصص: ۸۳) ترجمۂ کنزالایمان: ’’یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لئے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔‘‘
دوسرے دن نمازِ فجر پڑھانے کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنا مبارک خواب تمام لوگوں کے سامنے بیان کیا تو سب لوگ خوش ہوگئے اور ایک دوسرے کو فتح کی مبارک باد دینے لگے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مبارک خواب بالکل حق ہے کیونکہ شیطان رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صورت میں نہیں آسکتا۔ تمام لوگ قاصد کا انتظا ر کرنے لگے کہ کب وہ فتح کی خوشخبری لاتا ہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّکی عطا سے غیب کا علم رکھتے ہیں ، نہ صرف علم بلکہ اپنے اُمتیوں کے خواب میں آکر ان کو بشارتیں بھی عطا فرماتے ہیں ۔ نیز صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب فتح کی بشارت دے دی ہے تو ضرور فتح کی خوشخبری آئے گی، یہی وجہ تھی کہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان فتح کی خوشخبری کا انتظار کرنے لگے۔(21)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
1 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۵۹۔
2 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۵۹ ملخصا۔
3 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۶۳۔
4 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۶۴۔
5 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۶۵۔
6 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۶۶۔
7 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۶۷۔
8 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۶۸۔
9 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۶۸۔
10 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۶۹۔
11 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۷۳۔ ۱۷۹ ملخصا۔
12 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج، ص۱۷۹ملخصا۔
13 فتوح الشام، الشعار، ج۱، ص۱۹۷۔
14 فتوح الشام، الشعار، ج۱، ص۲۱۰۔
15 فتوح الشام، الشعار، ج۱، ص۲۱۰۔
16 مسلم، کتاب الحج، باب بیان ان السنۃ۔۔۔الخ، ص۶۷۸، حدیث: ۳۲۵۔
17 فتوح الشام، الشعار، ج۱، ص۲۱۱۔ ۲۱۲ بتصرف۔
18 فتوح الشام، الشعار، ج۱، ص۲۱۱۔ ۲۱۲ بتصرف۔
19 فتوح الشام، الشعار، ج۱، ص۲۱۷۔
20 فتوح الشام، الشعار، ج۱، ص۲۱۷۔
21 فتوح الشام، الشعار، ج۱، ص۲۱۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع