30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنگ حمص کا ایک اہم واقعہ
سیِّدُنا خالد بن ولید کی جنگی حکمت عملی
اہل حمص نے اسلامی لشکر سے جو جنگ کرنےکا ارادہ کیا تھا وہ ازراہِ تکبر تھا، اس لیے جنگ کے دوسرے دن حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے غرور اور تکبر کو توڑنے کے لیے ایک جنگی حکمت عملی اختیار کی جس سے ان کا غرور خا ک میں مل گیا ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلامی لشکر کے تمام غلاموں کو جمع کیا جن کی تعداد چار ہزار تھی۔ سب کو مسلح کرکے قلعے پر حملہ کرنے بھیجا۔ جب وہ قلعے کے قریب پہنچے تو حمص کے حاکم نے انہیں غور سے دیکھا اور اپنے قریبی لوگوں سے کہا کہ آج قلعے کا محاصرہ کرنے جو لوگ آئے ہیں یہ عرب معلوم نہیں ہوتے بلکہ یہ تو سب حبشی ہیں ۔
کچھ ذی شعور لوگوں نے اسے کہا کہ دراصل مسلمانوں نے ہمیں ذلیل وخوار جان کر قصداً غلاموں کو لڑنے بھیجا ہے اور ہمیں انہوں نے طعنہ دیا ہے ۔ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اس جنگی حکمت عملی کا اثر یہ ہوا کہ رات کے وقت حاکم حمص نے سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مکتوب لکھا کہ آج دن کو تو ہم جنگ لڑنے نہیں آئے لیکن کل ہم قلعے سے نکل کر تم سے جنگ لڑنے کے لیے آئیں گے۔ اسلامی لشکر بھی یہی چاہتا تھا کہ رومی قلعے سے باہر نکل کر لڑنے کے لیے آئیں اور ان کا یہ مقصد پورا ہونے والا تھا۔لیکن اگلے دن غلے وراشن کی کمی کے سبب رومیوں سے معاہدہ کرکے اسلامی لشکر حمص سے روانہ ہوگیا۔
#**(5)فتح رستن
**#
اہل رستن کا تجدید معاہدہ سے انکار
اسلامی لشکر حمص سے کوچ کرکے رستن آیا۔ رستن والوں سے اسلامی لشکر کا پہلے ہی معاہدہ تھا البتہ اس معاہدے کی میعاد پوری ہونے کو تھی۔ لہٰذا تجدید معاہدہ کے لیے جب سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قاصد کو بھیجا تو انہوں نے اس سے انکار کردیا۔
سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح کی جنگی تدبیر
رستن شہر کا قلعہ بہت ہی بلند اور نہایت مضبوط تھا، اسے فتح کرنے کے لیے ایک طویل لڑائی کی حاجت تھی لیکن فی الفور اسلامی لشکر اس کا متحمل نہیں تھا۔ اس لیے حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک جنگی تدبیر اپنانے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے اسلامی لشکر کے اہم لوگوں سے مشاورت کے بعد رستن کے حاکم نقیطاس کو ایک مکتوب روانہ کیا جس میں فرمایا کہ ہمارے پاس نہایت ہی قیمتی سازوسامان کی کثرت ہے اور ہم کہیں دور جانے کا اِرادہ رکھتے ہیں یقیناً اتنا قیمتی اور کثیر سامان ہرجگہ ساتھ رکھنا نہایت ہی دشوار ہے، لہٰذا ہم یہ سامان تمہارے پاس امانتاً رکھوانا چاہتے ہیں جو واپس آکر لے لیں گے۔‘‘ حاکم رستن نے جیسے ہی مکتوب پڑھا اُس کی باچھیں کھل گئیں اور وہ بہت خوش ہوا کہ اسلامی لشکر نے ملک شام کے دیگر کئی علاقوں سے جو قیمتی ہیرے جواہرات، سونا چاندی، ریشمی قالین وغیرہ کروڑوں کی مالیت کا سامان بطور مال غنیمت لیا ہے میں اس پر باآسانی قبضہ کرلوں گا۔ اپنی بددیانتی کو پوار کرنے کے لیے اس نے جواباً ایک مکتوب روانہ کیا اور کہا : ’’یہ تو پرانے زمانے سے دستو رچلا آرہا ہے کہ ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ پر اعتماد کرکے اُس کے پاس سامان وغیرہ رکھواتا ہے اور بعد میں لے لیتاہے۔ آپ بلا جھجک سامان میرے پاس بھیج دیں اور جب چاہیں گے میں واپس لوٹا دوں گا۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے خدمت کا موقع دیا۔‘‘
سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیس ۲۰ عدد بڑے بڑے صندوق منگوائے انہیں خالی کرکے اس طرح کاریگری کرنے کا حکم دیا کہ صندوق کی کنڈی میں باہر سے تالا لگا دیا جائے لیکن صندوق کے فرش کو کاٹ کر تختہ میں ایسی ترکیب کی جائے کہ اس کے اندر جوشخص موجود ہو وہ باہر کا تالا کھول کر باآسانی باہر آجائے۔جب صندوق تیار ہوگئے تو آپ نے بیس صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا انتخاب فرمایا اور ان پر حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن جعفر طیار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مقرر کیا۔ انہیں اس بات کی ہدایت کی کہ تمام مجاہد ایک ساتھ صندوق سےنکلیں اور نعرۂ تکبیر لگاکر جلد از جلد قلعے کا دروازہ کھول دیں جہاں حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ موجود ہوں گے۔
تمام صندوقوں میں مجاہدین کو تلواروں سمیت بند کرکے حاکم نقیطاس کے پاس بھیج دیا گیا، جب صندوق اس کے پاس پہنچے تو وہ خوشی سے پھولا نہ سما رہا تھا، اس نے وہ تمام صندوق اپنی بیوی ماریہ کے محل میں رکھوا دیے۔
اسلامی لشکر وہاں سے روانہ ہوکر سودیہ نامی مقام پر ٹھہر گیا۔ قلعے والوں نے جب اسلامی لشکر کو رخصت ہوتا دیکھا تو خوشی سے ناچنے لگے ۔رات کے وقت حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بڑے لشکر کے ساتھ رستن کے قلعے کی طرف خاموشی سے روانہ ہوگئے۔ وہاں اہل رستن اتنی بڑی کامیابی کی خوشی میں جشن منانے میں مصروف ہوگئے، اس جشن کامہمان خصوصی حاکم نقیطاس تھا۔
جب ان کی محفل عروج پرتھی عین اُسی وقت سارے صندوقوں سے مجاہدین نکلے اور نقیطاس کی بیوی سے قلعے کی چابیاں لے لیں ۔ قلعے کا دروازہ کھول کر تمام مجاہدین نے نعرہ تکبیر اور صلاۃ وسلام کی صدائیں بلند کیں ، سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے لشکر سمیت قلعے میں داخل ہوگئے اور اس جگہ کو گھیر لیا جہاں جشن ہورہا تھا۔ پھر اسلامی لشکر نے ایک زوردار نعرۂ تکبیر لگایا جس سے تمام رومیوں کے دل دہل گئے، سب کے سانس خشک ہوگئے، ان کا ایک شخص بھی مقابلے پر نہ آیا کیونکہ اس وقت وہ سب نہتے تھے۔ سب لوگوں نے امان امان پکارنا شروع کردیا۔ کئی لوگوں نے اسلام قبول کرلیا، بقیہ نے جزیہ کی ادائیگی پر صلح کرلی۔
حاکم نقیطاس نے نہ تو اسلام قبول کیا اور نہ ہی صلح کی بلکہ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا کہ مجھے اپنے گھروالوں سمیت یہاں سے جانے دے، جسے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قبول کرلیا۔یوں وہ قلعہ چھوڑ کر چلا گیا۔ فتح کی خوشخبری سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھیج دی گئی اور آپ نے سجدہ شکر ادا کیا۔(1)
#**(6)جنگ شیزر
**#
رستن کی فتح کے بعد اسلامی لشکر حماۃ کی طرف روانہ ہوا، ان سے بھی پہلے ہی معاہدہ تھا، وہاں تھوڑا عرصہ رہ کر اسلامی لشکر شیزر آیا۔ رستن اور حماۃ کی طرح یہ بھی صلح میں داخل تھا لیکن یہاں کے حاکم نے صلح توڑ دی۔ اہل شیزر کو زبردستی جنگ پر آمادہ کیا۔ جنگ کے لیے قلعے سے باہر آیا تو حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کے لشکر پر ایسا سخت حملہ کیا کہ ایک ہی جھٹکے میں رُومی مغلوب ہوگئے اور حاکم سمیت تمام لوگ قلعے کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے، مجاہدین نے ان کا تعاقب کیا اور قلعے میں داخل ہوگئے۔ اہل شیزر نے ادائے جزیہ کی شرط پر امان حاصل کی اور ان کا حاکم خفیہ راستے سے بھاگ گیا۔ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شیزر کی فتح کے بعد اسلامی لشکر کو حمص کی جانب کوچ کا حکم دیا کیونکہ شیزر کی فتح کے بعد حمص سے کیا گیا معاہدہ ختم ہوگیا تھا۔
جنگ شیزر کا ایک اہم واقعہ
جب اسلامی لشکر حمص کی جانب واپس آرہا تھا توانطاکیہ سے آنے والے راستے پر ایک بڑا غبار اٹھتا ہوا نظر آیا، اس غبار کو تمام مجاہدین حیرت سے دیکھنے لگے، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ کیسا غبار ہے؟ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس طرف روانہ ہوگئے اور اسلامی لشکر بدستور حمص کی جانب چلتا رہا۔ جب سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس غبار کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک رومی سردار اپنے گھوڑے پر بڑی شان وشوکت سے سوار ہے اور اس کے گرد ایک سو ۱۰۰سوار اس کے خادم کی حیثیت سے چل رہے ہیں ۔حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس قافلے کو گرفتار کرکے سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس لے آئے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ا س سے ہرقل بادشاہ اور اس کی جنگی تیاریوں کی تفصیلات معلوم کیں پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے اسلام کی دعوت پیش کیا تو اس نے اپنے خادمین کے سامنے ایک عجیب وغریب انکشاف کیا، وہ کہنے لگا: ’’اِنِّي الْبَارِحَةَ رَاَيْتُ رسول اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ وَقَدْ اَسْلَمْتُ عَلٰى يَدَيْهیعنی آج رات میں نے خواب میں حضور نبی کریم، رَ ءُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی ہے اور میں رات ہی کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست اقدس پر اسلام قبول کرچکا ہوں ۔‘‘بعد ازاں اسلامی لشکر پھر حمص کی جانب چل پڑا۔(2)
#**(7)جنگِ حمص (باردوم)
**#
فتح حمص کا اجمالی حال
حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب اسلامی لشکر کو لے کر حمص پہنچے تو رومی بھاگ کر قلعے میں گھس گئے اور اندر سے دروازے بند کرلیے۔ پھر انہوں نے سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو لکھا کہ ’’آپ نے عہد کی خلاف ورزی کی ہے، آپ نے کہا تھا کہ ہم نہیں آئیں گے لیکن پھر بھی آگئے۔ ‘‘آپ نے فرمایا: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کبھی بھی بدعہدی نہیں کرتے ، ہم نے بھی تم سے کوئی بدعہدی نہیں کی، عہد میں یہ تھا کہ جب تک کوئی اور علاقہ فتح نہ کرلیں گے تب تک حمص واپس نہیں آئیں گے، ہم رستن اور شیزر فتح کرکے آرہے ہیں ۔‘‘ جب رُومیوں نے مکتوب پڑھا تو وہ سوچنے لگے کہ واقعی مسلمان اپنے عہد میں پکے ہیں ۔ بہرحال انہوں نے جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ حمص کے لوگ بڑے جنگجو ، لمبے چوڑے اور بھاری جسامت والے تھے۔ جنگ کے پہلے دن انہوں نے قلعے کادروازہ کھولا اور زور دار حملہ کیا، حملہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے، بعدازاں سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ترغیب سے مجاہدین نے ایک نئے جوش کے ساتھ رومیوں پر حملہ کیا۔ لیکن رومی اپنی جگہ مضبوطی سے جمے رہے۔ دوسرے دن سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نماز فجر کے بعد مجاہدین کو نیا جوش اور جذبہ دلایا۔ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جنگی حکمت عملی سے رومیوں کو گھیر لیا گیا، شدید لڑائی کے بعد رومیوں کا حاکم مارا گیا اور اہل حمص نے مسلمانوں سے معاہدہ کرکے امان حاصل کرلی۔(3)
جنگ حمص کے اہم واقعات
سیِّدُنا عکرمہ بن ابوجہل کی شہادت
پہلے دن کی جنگ میں حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دلیری نے جنگ کا رُخ پلٹ دیا، انہیں دیکھ کراسلامی لشکر کے دیگر شہسوار بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ رومیوں پر ٹوٹ پڑے۔ حضرت سیِّدُنا عکرمہ بن ابوجہل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قوم مخزوم کے ساتھ رومیوں پر ایسا شدید حملہ کیا کہ اہل حمص نے ایسا حملہ نہ کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی سوچا تھا۔ تلوار سے ان کا مقابلہ کرنا محال تھا، لہٰذا رومیوں نے ان پر تیروں کی بوچھاڑ کردی۔سیِّدُنا عکرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تیروں سے بے خوف ہوکر رومیوں کے خلاف قتال کررہے تھے۔ ساتھیوں نے عرض کیا: ’’اے عکرمہ! اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے ہوئے اپنے آپ پر نرمی کیجئے۔‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ساتھیوں کو ایمان افروز جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے گروہ مؤمنین! ایک وہ زمانہ تھا کہ میں جہالت کی تاریکی میں تھا اور بتوں کی حمایت میں مسلمانوں سے لڑتا تھا، لیکن آج (جب حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی برکت سے مجھے ایمان کی روشنی نصیب ہوئی تو )اللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت ورضامندی میں لڑ رہا ہوں ۔‘‘
پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’وَاِنِّيْ اَرَى الْحُوْرَ مُتَشَوِّقَاتٍ اِلَيَّ وَلَوْ بَدَتْ وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ لِاَهْلِ الدُّنْيَا لَاَغْنَتْهُمْ عَنِ الشَّمْسِ وَالْقَمْر وَلَقَدْ صَدَقَنَا رسول اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْمَا وَعَدَنَا یعنی میں اس وقت بھی جنت کی حوروں کو دیکھ رہا ہوں جو میری طرف شوق اور دلچسپی سے دیکھ رہی ہیں ۔ اگر ان میں سے ایک حور بھی دنیا والوں پر ظاہر ہوجائے تو وہ انہیں سورج اور چاند سے غنی کردے اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جو ہم سے وعدہ فرمایا تھا وہ بالکل برحق ہے۔‘‘یہ کہہ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شیر کی طرح رومیوں پر ٹوٹ پڑے، تمام رومی محو حیرت تھے، جو بھی ان کے قریب جاتا آن کی آن میں خاک میں ملا دیا جاتا۔ حاکم ہربیس دور بیٹھا آپ کی جرأت وبہادری دیکھ رہا تھا، اس نے اپنے قریب سے حربہ اٹھایا اور سیِّدُنا عکرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دل کا نشانہ لے کر پھینکا، وہ سیدھا نشانے پر لگا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ زمین پر تشریف لے آئے، آپ کی روح قفص عنصری سے پرواز کر گئی۔(4)اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ واقعے سے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:
٭…اسلامی لشکر کے ہرسپاہی کا مقصد اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا ہوتی تھی، وہ کسی بھی دنیوی خواہش کے باعث جہاد نہیں کیا کرتے تھے۔
٭…اللہ عَزَّوَجَلَّنے جنت کو لوگوں کی نظر سے پوشیدہ رکھا ہے، لیکن وہ اپنی رحمت کاملہ سے جسے دنیا میں دکھا نا چاہے دکھا سکتا ہے۔
٭…حضرت سیِّدُنا عکرمہ بن ابوجہل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی مقام ومرتبے والے صحابی تھے، اللہ عَزَّوَجَلَّنے انہیں شہادت سے پہلے ایسی قوت بینائی عطا فرمادی تھی کہ دنیا میں رہتے ہوئے جنت کی حوروں کو دیکھ رہے تھے۔
٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولیوں ، خاص بندوں کی نظر اور عام لوگوں کی نظر میں بہت فرق ہوتاہے، عام لوگ دنیا میں ہی بعض چیزیں اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ پاتے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّکے برگزیدہ بندے دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس کی عطا اور فضل وکرم سے جنت کو بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔
سیِّدُنا خالدبن ولید کی جنگی حکمت عملی
جنگ حمص میں حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پہلے دن ہی رومیوں کے جوش اور طاقت کو دیکھ لیا تھا، آپ جانتے تھے کہ یہ نہایت ہی بزدل قوم ہیں اسے مارنے کے لیے کوئی جنگی حکمت عملی اختیار کرنی پڑے گی۔ چنانچہ آپ نے سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں ایک جنگی حکمت عملی پیش کی کہ رومی لشکر میں دو طرح کے فوجی ہوتے ہیں ، گھڑ سوار اور پیدل۔ جب رومی لشکر حملہ آور ہو تو تھوڑی دیر تک مسلمان ان سے لڑیں اور بعد میں اپنی ہزیمت ظاہر کرکے پیچھے ہٹنا شروع کردیں ۔ پھر آہستہ آہستہ بھاگ کھڑے ہوں ۔نیز اپنے کیمپ میں جانے کےبجائے جوسیہ والے راستے پر نکل جائیں ۔ یوں پیدل چلنے والے رومی کفار اسلامی لشکر کو بھاگتا دیکھ کر کیمپ میں لوٹ مار شروع کردیں گے اور دیگر لوگ مجاہدین کا تعاقب کریں گےجب وہ کافی دور نکل جائیں تو اچانک مجاہدین پلٹیں اور رومیوں پر زوردار حملہ کردیں ۔ان کے خاتمے کے بعد پیدل فوج کی طرف متوجہ ہوں اور پھر انہیں آڑے ہاتھوں لیں ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ مسلمان جب ہزیمت دکھا کر بھاگے تو رومی سوار ان کے تعاقب میں دور تک نکل آئے، پیدل فوج اور قلعے کے اندر سے بھی مزید لوگ اِسلامی لشکر کے کیمپ میں پہنچ کر لوٹ مار کرنے لگے۔قلعے میں اب فقط بوڑھے، بچے اور عورتیں رہ گئیں تھیں ، باقی تمام لوگ لوٹ مار میں مصروف ہوگئے۔ سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اچانک تمام مجاہدین کو پلٹنے کو کہا، تمام مجاہدین یکبارگی پلٹے اور تعاقب میں آنے والے رومیوں پر ٹوٹ پڑے۔ اسلامی لشکر نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا، رومیوں نے جوابی حملہ کیا لیکن ٹھہر نہ سکے۔ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رومیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ ان کے حاکم ہربیس کو حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تلوار کی دو ایسی شدید ضربیں لگائیں کہ اس کے دونوں بازو کٹ گئے اور وہ زمین پر گر گیا، آپ نے اس کے دل میں نیزہ پیوست کرکے مارڈالا۔
لڑائی کے دوران سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ قلعے کی طرف چلے گئے اور جاکر قلعے کے دروازے پر قبضہ کرلیا، نہ تو کسی کو باہر آنے دیتے تھےا ور نہ ہی کسی کو اندر آنے دیتے تھے۔ پیدل رومی جو لوٹ مار میں مصروف تھے بیچ میں پھنس گئے۔ اتنے میں سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اسلامی لشکر کے ساتھ وہاں آگئے۔جب رومیوں نے اپنے آپ کو مجاہدین کے درمیان گھراہوا دیکھا تو لُوٹا ہوا مال واسباب چھوڑ چھاڑ کر اپنے دونوں ہاتھ اوپر کرکے لَفُوْن لَفُوْن یعنی امان امان پکارنے لگے۔اہل حمص کو امان دے دی گئی، یوں اللہ عَزَّوَجَلَّنے مسلمانوں کو عظیم الشان فتح ونصرت سے سرفراز فرمایا۔(5)
جنگِ یرموک
جنگ یرموک کا پس منظر
جب ہرقل بادشاہ کو اطلاع ہوئی کہ مسلمانوں نے رستن، شیزر اور حمص جیسے عظیم قلعے بھی فتح کرلیے تھے تو وہ آگ بگولہ ہوگیا، اس نے دیگر کئی علاقوں سے ایک عظیم فوج کو اکٹھا کیا جس میں جبلہ بن ایہم اورماہان ارمنی جیسے طاقتور ومشہور ومعروف سربراہ بھی موجود تھے،ہرقل نے ان کے سامنے ایک طویل تقریر کرکے ان میں نیا جذبہ اور جوش پیدا کیا۔ پھر اس نے لشکر کو ترتیب دے کر مختلف مقامات پر روانہ کردیا۔جبکہ حمص کا قلعہ فتح کرنے کے بعد حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جابیہ کے مقام پر آگئے۔ جاسوسوں نے آپ کو ہرقل کے جمع کیے ہوئے لشکر کے بارے میں بتایا تو آپ بہت متفکر ہوئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جنگی مقام کے لیے مشورہ کیا اور سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مشورے سے ’’یرموک‘‘ کے مقام پر پڑاؤ کیا۔ جب رومی لشکر کو اسلامی لشکر کی یرموک میں آمد کا معلوم ہوا تو ماہان ارمنی کی قیادت میں وہ بھی یرموک پہنچ گیا۔
دونوں لشکروں کی تعداد
دونوں لشکروں کی صحیح تعداد میں اختلاف ہے۔ رومی لشکر جب انطاکیہ سے روانہ ہواتھا تب اس کی تعداد پانچ لاکھ ساٹھ ہزار (560000)تھی، یہ لشکر اکیس فرسخ لمبا تھا اور ایک فرسخ کم وبیش تین میل کا ہوتاہے۔راستے میں آنے والے مختلف علاقوں سے بھی کئی لوگ اس لشکر میں شامل ہوتے گئے، انطاکیہ کے ساحلی علاقوں اور بیت المقدس کی فوجیں بھی یرموک آپہنچی تھی، جبلہ بن ایہم اپنے ساٹھ ہزار عربی ساتھیوں سمیت اس لشکر کا حصہ تھا، اس حساب سے رومی لشکر کی کل تعداد دس لاکھ ساٹھ ہزار (1060000)ہوتی ہے۔ اسلامی لشکر کی تعداد بعض نے تیس ہزار بتائی ہے لیکن اصح اور راجح قول کے مطابق اسلامی لشکر کی تعداد چالیس سے پینتالیس ہزار تھی۔
جنگ یرموک کا پہلا دن
ماہان ارمنی نے جبلہ بن ایہم کو اسلامی لشکر سے لڑنے کی ترغیب دی، اسے کثیر مال ودولت، عزت وشہرت کی لالچ دی۔ چنانچہ جبلہ بن ایہم قوم بنو غسان کے ساٹھ ہزار مسلح عرب متنصرہ کے ساتھ سوار ہو کر میدان جنگ میں آگیا۔(6)
1 فتوح الشام، ذکر فتح الرستن، ج۱، ص۱۳۷۔
2 فتوح الشام، ذکر فتح الرستن، ج۱، ص۱۴۱۔
3 فتوح الشام، ذکر فتح الرستن، ج۱، ص۱۴۱۔
4 فتوح الشام، معرکۃ حمص، ج۱، ص۱۴۵۔
5 فتوح الشام، معرکۃ حمص، ج۱، ص۱۴۵، ۱۴۷۔
6 فتوح الشام، جبلۃ بن الایھم، ج۱، ص۱۵۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع