30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دسواں باب
عہدِ فاروقی میں محکمہ پولیس و فوج
اس باب میں ملاحظہ کیجئے۔۔۔۔۔۔۔
٭…… عہدِ فاروقی میں محکمۂ پولیس
٭…… محکمۂ پولیس کے فوجی افسران
٭…… عہدِ فاروقی میں جیل خانوں کا قیام
٭…… عہدِ فاروقی میں محکمہ فوج
٭…… عہدِ فاروقی میں فوج کی تقسیم
٭…… مفتوحہ علاقوں میں فو جی چھاؤنیاں
٭…… مختلف فو جی چھاؤنیاں اور ان کے ذمہ دار
٭…… فوجیوں کی تنخواہیں،سالانہ اضافےاور خصوصی وظائف کابیان
٭…… موسم کے لحاظ سے فوج کی تقسیم
٭…… جنگ میں اسلامی فوج کےایمان افروزنعروں کا بیان
٭…… جنگ میں فوجیوں کے ساتھ رہنےوالی ضروری اشیاء
٭…٭…٭…٭
عہدِ فاروقی میں محکمۂ پولیس
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عہدِ خلافت میں محکمہ پولیس بھی مکمل طور پر قائم ہوچکا تھا، جس کے سب سے بڑے افسر آپ خود تھے، مختلف ابتدائی مقدمات جیسے چوری،ڈکیتی، زنا وغیرہ کے تمام معاملات اسی محکمہ ہی کے سپرد تھے جس کی نگرانی سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود فرمایا کرتے تھے۔لوگوں کے معاملات پر نظر رکھنے کےلیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مختلف فوجی افسروں کو مقرر کررکھا تھا۔
محکمۂ پولیس کے فوجی افسران
عہدِ فاروقی میں تمام مسلمانوں کے لیے ایک بڑا بازار قائم تھا جس میں تجارتی وکاروباری معاملات طے کیے جاتے تھے، ان بازاروں کے مختلف معاملات کے حوالے سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عتبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مقرر فرمایا تھا۔ اس بازار میں ہونے والے تمام معاملات ان ہی کے سپرد تھے۔چنانچہ امام زہری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : ’’اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اِسْتَعْمَلَ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُتْبَةَ عَلَى السُّوْقِیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عتبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بازار کا (تفتیشی افسر)مقرر فرمایا تھا۔‘‘(1)اسی طرح حضرت سیِّدُنا قدامہ بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بحرین کے معاملات پر مقرر فرمایا تھا، بحرین کے دیگر معاملات آپ کے ذمہ تھے۔(2)
جیل خانے قائم فرمائے
محکمہ پولیس سے متعلق ایک امر یہ بھی ہے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جیل خانے بنائے، جن میں مختلف جرائم پیشہ لوگوں کو قید کیا جاتا تھا، یہ جیل خانے کسی بھی تادیبی کاروائی کے لیے استعمال ہوتے تھے، کیونکہ قید کرنا کوئی شرعی حد نہیں ہے بلکہ یہ حاکم وقت پر موقوف ہے کہ وہ جس مجرم کو چاہے اس قید خانے میں تادیباً قید کردے۔ یہی وجہ ہے کہ عہدِ فاروقی میں مختلف جرائم والے افراد کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی ان قید خانوں میں قید کیا گیا جو بظاہر کسی جرم کے مرتکب نہیں تھے لیکن حاکم وقت یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فقط تادیباً یا ترغیباً انہیں قید فرمایا، مثلا جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حفاظت حدیث سے متعلق اقدام شروع کیے تو بغیر گواہ کے کسی حدیث کو قبول نہ کرتے تھے جوبھی بغیر گواہ کے حدیث بیان کرتا اسے یا تو سزا دیتے یا اسے قید کر دیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تین اصحاب کو قید فرمایا۔(۱) حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (۲)حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (۳) حضرت سیِّدُنا ابو مسعود انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔ان تینوں سے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’قَدْ اَكْثَرْتُمُ الْحَدِيْثَ عَنْ رسول اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی میں نے تمہیں اس لیے قید کیا ہے کہ تم لوگ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتے ہو۔‘‘(3)
عہدِ فاروقی میں محکمۂ فوج
واضح رہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عہدِ خلافت سے پہلے جو بڑی بڑی عظیم سلطنتیں گزرچکی تھیں ان میں بھی فوج کا محکمہ موجود تھا لیکن وہ ایک غیر منظم اور فوجی اصولوں کے خلاف تھا۔ جبکہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جو محکمہ فوج قائم فرمایا تھا وہ قرآن وسنت کے عین مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ اَخلاقی وشرعی تقاضوں کے بھی مطابق تھا۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بذات خود اس کے ہرہر معاملے میں شامل ہو کر اس کو منظم فرمایا، اس محکمے کے لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کئی اقدامات
فرمائے جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
عہدِ فاروقی میں فوج کی تقسیم
جنگی فوج دو طرح کی تھی
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عہد میں فوج کی دو طرح تقسیم تھی، ایک تو وہ جو ہروقت دشمنوں کے مقابل محاذ پر رہتی تھی، جبکہ دوسرے فوجی وہ تھے جنہیں مختلف علاقوں میں بھیجنے کے بجائے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مدینہ منورہ میں ہی ٹھہرایا ہوا تھا ان کو صرف اسی وقت طلب کیا جاتا تھا جب ان کی ضرورت ہوتی تھی۔ان تمام فوجیوں کی بھی دو قسمیں تھیں ، ایک تو عام فوجی اور دوسرے اہم ترین کمانڈر حضرات، بڑے بڑے اکابرین صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے اکثر مدینہ منورہ میں ہی رہا کرتے تھے، ان کو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ صرف مختلف منصبوں پر فائز فرمایا کرتے تھے، کیونکہ یہ وہ عظیم تجربہ کار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تھے جو خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معیت میں جہاد کی سعادت حاصل کرچکے تھے، انہوں نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ذاتِ مبارکہ سے بلا واسطہ فیض حاصل کیا تھا، یہ وہ حضرات تھے جو نظام کو قائم فرمانے والے تھے جبکہ دیگر فوجی نظام کو قائم کرنے کے لیے راہیں ہموار کرنے والے تھے۔
تمام فوجیوں کا اِبتدائی ریکارڈ
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بحرین سے کثیر مال غنیمت لے کر حاضر ہوئے تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس وقت مشاورت کے بعد دیوان (رجسٹر) مرتب کرنے کا حکم دیا ، جس میں تمام حضرات کا ریکارڈ رکھا گیا، یہ کام حضرت سیِّدُنا عقیل بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ، حضرت سیِّدُنا مخرمہ بن نوفل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا جبیر بن مطعم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سرانجام دیا کیونکہ یہ تینوں حضرات ماہر نسب تھے۔انہوں نے رجسٹر میں تمام فوجیوں اور دیگر لوگوں کا ریکارڈ بالکل تفصیل کے ساتھ لکھ دیا۔(4)
واضح رہے کہ فوجیوں کا یہ وہ ابتدائی ریکارڈ تھا جو سب سے پہلے مرتب کیا گیا تھا بعد ازاں مختلف جگہوں کی فوجوں کا ریکارڈ ان کی چھاؤنیوں میں ان کے سپہ سالاروں کے پاس ہی موجود ہوتا تھا۔
مختلف جگہوں پر فوج کی تقرری
مفتوحہ علاقوں میں فوج کا ایک ایک مخصوص حصہ تعینات کردیا جاتا تھا جو وہاں کے انتظامات سنبھالتا ، اس کے علاوہ بھی جہاں کہیں ا س بات کی ضرورت محسوس ہوتی اس کا انتظام کردیا جاتا جیسا کہ ہرقل بادشاہ نے جب بحری راستے سے مصر پر حملے شروع کیے تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان تمام ساحلی علاقوں میں فوجی چھاؤنیاں قائم فرما دیں ۔(5)
مفتوحہ علاقوں میں فوجی چھاؤنیاں
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام مفتوحہ ممالک کے شہروں میں چھاؤنیاں قائم فرمائیں جنہیں ’’اجناد‘‘ کہا جاتا تھا۔ جن علاقوں میں آپ نے فوجی چھاؤنیاں قائم فرمائی ان میں فوجیوں کے لیے رہائش کا بھی انتظام فرمایا، جنہیں آج کل کے دور میں ’’بیرک‘‘ کہا جاتاہے۔ فوجیوں کے گھوڑوں کے لیے ایسے اصطبل بنائے جن میں بیک وقت کم از کم چار ہزار گھوڑے مع سازوسامان اور پوری جنگی تیاری کے ساتھ ہر وقت تیار رہتے تھے۔(6)
ایسی تیاری کا مقصد دراصل یہ تھا کہ اگر اچانک جنگ کی ضرورت پیش آجائے تو معمولی وقت میں بھی چھتیس ہزار سے زیادہ شہسوار مجاہدین کا یہ دستہ میدان جنگ میں جانے کے لیے فورا نکل پڑے، ہرفوجی چھاؤنی میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے گھوڑوں کے لیے وسیع وعریض چراگاہ بھی تیار کروائی تھی، دراصل اس پوری جنگی تیاری میں قرآن پاک کی اس آیت مبارکہ پر عمل کرنا تھا، جس میں دشمن کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار ہونے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتاہے:)وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْۚ-لَا تَعْلَمُوْنَهُمْۚ-اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْؕ-وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ(۶۰)((پ۱۰، الانفال:۶۰) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور ان کے لئے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے کہ ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن اور تمہارے دشمن ہیں اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے۔‘‘
مختلف فوجی چھاؤنیاں اور ان کے ذمہ دار
مصرکی فوجی چھاؤنیاں
(1) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ذوالقعدہ کے مہینے میں سن ۱۶ ہجری میں مصر کے تمام ساحلی مقامات پر چھاؤنیاں اور فوجی مراکز قائم فرمائے، اس کی وجہ یہ تھی کہ ’’ہرقل‘‘بادشاہ ملک شام اور مصر پر بحری حملے کیا کرتا تھا اور اہل حمص کی امداد کے لیے بذات خود روانہ ہوگیا تھا۔(7)
(2) …مرج القلعہ سے نہاوند تک جو بھی مقامات آئے ان تمام جگہوں پر اسلامی فوج نے اپنے مراکز قائم کیے اور ان کے پرانے ناموں کو ختم کرکے نئے نام رکھے، مثلا ماہ کے قریب ایک گھاٹی میں سواریوں کا اژدھام ہوگیا تو وہ گھاٹی’’ثنیۃ الرکاب‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئی۔ ایک اور گھاٹی جس کا راستہ ایک چٹان کے اوپر سے جاتا تھا اس کا نام ’’ملویہ‘‘ رکھا گیا، اسلامی لشکر ایک لمبے اور اونچے پہاڑ کے پاس سے گزرا جو سب پہاڑوں سے ابھرا ہوا تھا اس کو دیکھ کر کسی نے کہا: ’’گویا کہ یہ سمیرہ کا دانت’’سن سمیرہ‘‘ ہے، سمیرہ قبیلہ ضبی کی ایک شاخ بنو معاویہ کی مہاجرہ خاتون تھیں ان کا ایک دانت باقی دانتوں سے لمبا تھا اس لیے یہ پہاڑ بھی ’’سن سمیرہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوگیا۔(8)
(3) …دمشق کی فوجی چھاؤنی کے سب سے پہلے ذمہ دار حضرت سیِّدُنا یزید بن ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔
(4) …حمص چھاؤنی کے سب سے پہلے ذمہ دار حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔
(5) …قنسرین کی فوجی چھاونی کے سب سے پہلے ذمہ دار حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے ۔
(6) …فلسطین کی فوجی چھاؤنی کے سب سے پہلے ذمہ دار حضرت سیِّدُنا علقمہ بن مجرز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔
(7) …اُردن فوجی چھاؤنی کے سب سے پہلے ذمہ دار حضرت سیِّدُنا معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔
(8) …بصرہ میں مناذر کے مقام پر ایک فوجی چھاؤنی بنائی گئی جس کے ذمہ دار حضرت سیِّدُنا غالب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تھے، اسی طرح نہر تیری پر بھی ایک فوجی چھاؤنی بنائی گئی جس کا انتظام حضرت سیِّدُنا کلیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس تھا۔(9)
فوجی چھاؤنیوں کی اَزسرنوتعمیر
بصرہ کوفہ اور ان جیسے دیگر علاقوں میں جہاں پہلے سے عجمیوں کی فوجی چھاؤنیاں موجود تھیں سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں ازسرنو تعمیر کروایاخریبہ اور زابوقہ میں ساتھ چھوٹی چھوٹی چھاؤنیاں بنی ہوئی تھیں وہ سب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حکم سے پانی اور چراگاہ کے قریب نئے سرے سے تعمیر کی گئیں ۔ صوبہ خوزستان میں نہایت کثرت سے فوجی چھاؤنیاں قائم کی گئیں ، چنانچہ نہر تیری، منادر، سوق الاہواز، سرق، ہرمزان، سوس، بنیان، جندی سابور، مہرجانقدق اِن تمام شہروں میں فوجی چھاؤنیاں قائم تھیں ۔(10)
ہرسال اِسلامی فوج میں اِضافہ
عہدِ فاروقی میں فتوحات کی وسعت کا ایک راز یہ بھی تھا کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلامی فوج میں کبھی کمی نہ آنے دی، کیونکہ مختلف جنگوں میں اسلامی لشکر کے مجاہدین کی شہادتیں بھی ہوتی تھیں ، لیکن سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان شہادتوں کے مقابلے میں زیادہ فوجیوں کو بھرتی کرلیا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ کفار پر اسلامی لشکر کا ایسا رعب ودبدبہ بیٹھا کہ وہ اِسلامی لشکر کے سامنے بھیگی بلی بن کر رہ گئے۔
اِسلامی فوج کی وسعت
٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فوج میں اتنی وسعت فرمائی کہ عربوں کے علاوہ دیگر قوموں کےاَفراد کو بھی فوج میں داخل کرلیا۔ یزدگرد بادشاہ کا ایک مخصوص فوجی دستہ تھا جو جنگِ قادسیہ کے بعد اِیرانیوں سے علیحدہ ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا ۔ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان تمام لوگوں کو فوج میں داخل کرلیا اور کوفہ میں انہیں آباد کرکے ان کی تنخواہیں بھی مقرر فرمادیں۔(11)
٭…باذان نوشیرواں بادشاہ کی طرف سے یمن کا گورنر تھا، اس کی فوج کے اکثر ایرانی مسلمان ہو گئے تھے، سندھ کے جاٹ جن کو اہل عرب زط کہتے تھے، یزدگرد کے لشکر میں شامل تھے، سوس کے معرکے کے بعد وہ اسلام کے حلقہ میں داخل ہوگئے اور انہیں بھی فوج میں داخل کرکے بصرہ میں بسایا گیا۔(12)
جنگی تدابیرکے ماہرفوجی کمانڈر
واضح رہے کہ جنگ فقط ہتھیاروں کی زیادتی سے نہیں لڑی جاتی بلکہ فتح کے لیے مخصوص جنگی تدابیر کو بھی اختیار کرنا پڑتا ہے، ان کا دارومدار زیادہ تر فوج کے کمانڈر پر ہوتا ہے اگر فوج کا کمانڈر جنگی چالوں کا ماہر ہوگا تو وہ تھوڑی سی فوج کے ساتھ بھی ایک بڑی فوج سے بہتر طریقے سے مقابلہ کرسکتا ہے، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ باکمال فراست تھی کہ آپ فقط انہیں اصحاب کو سپہ سالار بنایا کرتے تھے جو جنگی تدابیر میں مہارت رکھتے تھے، اسلامی لشکر اور اس کے سپہ سالاروں کی جنگی تدابیر سے تاریخ بھری پڑی ہے، اگر اس کو تفصیل سے بیان کیا جائے تو علیحدہ سے ایک جلد تیار ہوسکتی ہے۔ فقط دو مثالیں پیش خدمت ہیں :
٭…جنگ نہاوند میں کفار کے مقابلے میں جو اسلامی لشکر آیا اس کے سپہ سالار حضرت سیِّدُنا نعمان بن مقرن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے، جب یہ اپنے لشکر کو لے کر دشمن کے سامنے پہنچے تو دشمن نے لوہے کی تاروں سے بنے کانٹے راستے میں بچھا دیے، اسلامی لشکر کو ان کی اس چال کا علم نہ تھا ، اسلامی لشکر کے گھوڑےجب اس راستے پر پہنچے تو وہ کانٹے ان کے پاؤں میں چبھ گئے اور ان گھوڑوں نے پیش قدمی سے انکار کردیا۔ اسلامی لشکر کے سپہ سالار حضرت سیِّدُنا نعمان بن مقرن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہاں ایک جنگی چال چلی وہ یہ کہ آپ اپنے لشکر سمیت اس جگہ سے کسی دوسری جگہ منتقل ہوگئے۔ کفار نے یہ سمجھا کہ شاید دشمن بھاگ گیا ہے انہوں نے وہ کانٹے فورا صاف کیے اور اسلامی لشکر کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے، حضرت سیِّدُنا نعمان بن مقرن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دوسرے راستے سے اسلامی لشکر کو ان کفار پر چڑھائی کا حکم دیا اور مسلمانوں کو فتح ونصرت حاصل ہوگئی۔ (13)
٭…ملک شام کی جنگوں میں ایک اہم ترین جنگ ’’جنگ یرموک‘‘ بھی ہے۔ جبلہ بن ایہم غسانی لشکر کفار کا سپہ سالار تھا، وہ ساٹھ ہزار سواروں کو لے کر میدان جنگ میں آیا۔ حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلامی لشکر کو جنگ کا حکم دیا، لیکن حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک بہترین جنگی چال بیان کرتے ہوئے عرض کیا: ’’حضور! رومی لشکر کے سپہ سالار نے ہماری تعداد سے دوگنی تعداد میں نصرانی عربوں کو اس گمان سےلڑنے بھیجا ہے کہ وہ ہمارے ہم جنس ہونے کی وجہ سے ہم پر غالب آجائیں گے۔ اگرہم نے پورے لشکر کے ساتھ ان سے مقابلہ کیا تو ان کی اہمیت برقرار رہے گی ، میں ایک ایسی جنگی چال چلنا چاہتا ہوں کہ ان کے دماغ بھی ہل کر رہ جائیں گے۔ ‘‘ لہٰذا سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کفار کے ساٹھ ہزار کے لشکر کے مقابلے میں فقط ۳۰ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا انتخاب فرمایایعنی ایک صحابی ۲ہزار کے مقابلے پر ہوگا، لیکن بعد ازاں حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مداخلت سے آپ نے ان کی تعداد میں ۳۰ اصحاب کا اضافہ فرمادیا، یوں ایک صحابی ایک ہزار کے مقابلے پر ہوگیا۔ جب سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان ساٹھ صحابہ کے ساتھ لشکر کفار کے سامنے گئے اور انہیں جنگ کی دعوت دی تو کفار کے سپہ سالار نے کہا: ’’اپنے لشکر کو جنگ کے لیے لاؤ۔‘‘ سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’میں جنگی لشکر کے ساتھ تمہارے سامنے کھڑا ہوں ، اور ہاں یہ لشکر بھی زیادہ ہے ورنہ میں تو فقط ۳۰ اصحاب کے ساتھ تمہارے مقابلے پر آنا چاہتا تھا۔ ‘‘ یہ عجیب وغریب منظر دیکھ کر لشکر کفار کا سپہ سالار اپنے ساتھیوں سے کہنے لگاکہ مسلمانوں نے مجھے عجیب کشمکش میں ڈال دیا ہے، اگر ہمارے ساٹھ ہزار کے لشکر نے ان ساٹھ مسلمانوں کو مار ڈالا تو دنیا کہے گی کہ اس میں کون سا بہادری کا کام کیا ہے؟ اور اگر انہوں نے ہمیں شکست دے دی تو ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے، ہماری حالت ایسی ہے جیسے سانپ کے منہ میں چھچھوندر، نگلے تو اندھا،اگلے تو کوڑھی۔ بہرحال حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اس عظیم جنگی چال کے سبب وہ ذہنی طور پر پہلے ہی کمزور ہوگئے اور بعد ازازں انہیں سخت ہزیمت کا سامان کرناپڑا اور وہ شکست سے دوچار ہوئے۔ (14)
فوجیوں کی تنخواہیں
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ جب ایک شخص ہروقت دشمنوں کے خلاف جنگ میں مصروف رہے گا حالانکہ اس کے ذاتی اخراجات کے ساتھ گھریلو اخراجات بھی ہیں تو وہ اپنی ضرورتوں کو کیسے پورا کرےگا، یہی وجہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف سے فوجیوں کو کاروبار وغیرہ کرنے کی قطعاً اجازت نہ تھی، ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام فوجیوں کے وظائف مقرر فرمائے تھے، نیز ان کے گھریلو اخراجات کی علیحدہ سے ترکیب بنائی تھی، یہ تمام تنخواہیں منصب ومقام اور مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہوئے جاری کی جاتی تھیں ، اس کی تفصیل وظائف کے باب میں ملاحظہ کیجئے۔
اسلامی لشکروں کے لیے رسد یعنی غلہ وغیرہ کا انتظام
یقینا ایک لشکر اپنے ساتھ فقط ضروری سامان ہی رکھتا تھا، اس کے علاوہ مختلف مقامات پر اسے جس سامان کی ضرورت ہوتی تھی اس کا پہنچانا حاکم وقت کی ذمہ داری تھی، اولا اس کا کوئی خاص انتظام نہ تھا، بلکہ لشکر جس بھی قوم کے خلاف فتح حاصل کرتا اس کے علاقے سے جوبھی میسر آتا حاصل کرلیتا، گوشت وغیرہ کا انتظام مدینہ منورہ سے ہوتا تھا، بعد میں سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مفتوحہ علاقوں کے ذمیوں سے جزیہ کی مد میں رسد وصول کیا جس سے فوجوں کی مدد کی جاتی تھی۔ان سے زیتون، شہداور سرکہ وغیرہ بھی لیا جاتا تھا لیکن بعد میں فقط نقدی پر اکتفاکیا گیا۔ (15)
رسد یعنی غلہ وغیرہ کا مستقل شعبہ
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آہستہ آہستہ رسد یعنی فوجوں کے لیے غلہ فراہم کرنے والا علیحدہ سے شعبہ قائم فرمادیا جسے ’’اہرا‘‘ کہا جاتا تھا۔ ’’اہرا‘‘جمع ہے ’’ہری‘‘ کی جس کا معنی گودام کے ہیں ۔ اس شعبے کے ذمہ دار حضرت سیِّدُنا عمرو بن عبسہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے۔(16)
فوجیوں کی ذاتی ضروریات کا سامان
اسلامی لشکر کے فوجیوں کے لیے تنخواہ کے علاوہ دیگر ضروریات کا سامان بھی فراہم کیا جاتا تھا، اگر کوئی فوجی ایسا ہوتا جس کی تنخواہ کم ہوتی یا اس کا مرتبہ کم ہوتا اس کو حکومت فاروقی کی طرف سے ایک گھوڑا عطا کیا جاتا تھا، خاص اس غرض سے دارالخلافہ میں چار ہزار گھوڑے ہروقت موجود رہتے تھے امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’كَانَ لِعُمَرَ اَرْبَعَةُ آلافِ فَرَسٍ عَلٰی اَرِیٍّ بِالْکُوْفَۃِ مَوْسُومَةً عَلٰی اَفْخَاذِھَا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَاِنْ كَانَ فِي عَطَاءِ الرَّجُلِ حَقَّہُ اَوْ مُحْتَاجًا اَعْطَاهُ الْفَرَسَیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس ہروقت چارہزار گھوڑے تیار رہتے تھے جن کی رانوں پر ’’فِي سَبِيلِ اللّٰهِ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ کے لیے وقف ‘‘کھدا ہوا تھا ، اگر کسی فوجی کا تنخواہ وغیرہ میں کوئی حق ہوتا یا وہ ضرورت مند ہوتا تو اسے ایک گھوڑا عطا فرمادیتے۔‘‘(17)
تنخواہوں کی تقسیم کا طریقہ کار
فوجیوں میں تنخواہیں موسم بہار اور محرم الحرام کے شروع میں تقسیم کی جاتی تھی ،اور فصلوں کے کٹنے وقت دیگر جاگیریں بھی تقسیم کی جاتی تھیں ۔ تاریخ طبری میں ہے: ’’اَمَرَ لَهُمْ بِمُعَاوَنِهِمْ فِي الرَّبِيْعِ مِنْ كُلِّ سَنَةٍ وَبِاِعْطَائِهِمْ فِي الْمُحَرَّمِ مِنْ كُلِّ سَنَةٍ وَبِفَيْئِهِمْ عِنْدَ طُلُوْعِ الشَّعْرِيْ فِيْ كُلِّ سَنَةٍیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فصل بہار میں فوجیوں کی مالی اعانت کرنے، ہرسال کے شروع یعنی محرام الحرام کے مہینے میں تنخواہیں دینے اور فصلوں کی کٹوتی کے وقت مال فے کو تقسیم کا حکم دیا۔‘‘(18)
تنخواہوں میں سالانہ اِضافہ(Increment)
اِسلامی لشکر کی عمومی تنخواہوں کے علاوہ بھی ان کی تنخواہوں میں وقتا فوقتا اضافہ ہوتا رہتا تھا، دراصل فوجیوں کی تنخواہوں کی بنیادجنگ کے بعد حاصل ہونے والا مال غنیمت تھا، جب مال غنیمت میں اضافہ ہوتا فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوجاتا تھا۔ جلولاء کی فتح کے بعد جو مال غنیمت ہاتھ آیا اس میں ہر ہر سوار کو نو نوہزار درہم ملے اور نو نو جانور بھی ملے۔ حضرت سیِّدُنا عامر شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی روایت کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّنے مسلمانوں کو اہل عجم کا تمام مال اور تمام جانور بطور غنیمت عطا فرمادیے۔ اس مال کے ذمہ دار حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے، مال جمع کرنا اور اسے تقسیم کرنا سب ان کے ذمے تھا۔ اس جنگ میں جو مال تقسیم کیا گیا تھا وہ تین کروڑ درہم تھا، اس کا خمس ساٹھ لاکھ تھا۔(19)
اِضافی صلاحیت پر خصوصی وظائف
تنخواہوں کے علاوہ اگر کسی فوجی میں کوئی اضافی صلاحیت ہوتی تو اسے خصوصی اِنعام واِکرام سے بھی نوازا جاتا تھا، جلولاء کی جنگ میں امیر لشکر حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خمس سے اُن لوگوں کو خصوصی اِنعام واِکرام سے نوازا تھا جنہوں نے اس جنگ میں سب سے زیادہ اور بڑھ چڑھ کر کارنامے انجام دیے تھے۔(20)
کثرت مال کے نقصانات
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فارو ق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلامی لشکر کے فوجیوں کی تنخواہیں جاری فرمائیں اور ان کی تنخواہوں میں اِضافہ بھی فرمایا، بعض فوجیوں کو خصوصی انعام واکرام سے بھی نوازا جاتا تھا، لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نظر اس بات پر بھی تھی کہ کہیں مال کی زیادتی ان فوجیوں کو غافل نہ کردے لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کثرت مال کے فتنے سے حفاظت کے لیے ان فوجیوں کی تربیت بھی فرماتے رہتے تھے، نیز اپنے عمل سے ان کی اخروی تربیت فرماتے تھے، یہی وجہ ہے کہ جنگ جلولاء کے بعد مال غنیمت سے جب اس کا خمس آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس بھیجا گیا تو اسے دیکھ کر رونے لگے، جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: ’’خدا کی قسم! مجھے اس بات پر رونا آیا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّجس کو یہ مال عطا فرماتا ہے تو ان میں باہمی بغض وحسد پیدا ہوجاتاہے اور جب ان میں یہ برائیاں پیدا ہوجائیں ان میں خانہ جنگی شروع ہوجاتی ہے۔‘‘ بعدازاں آپ نے سارا مال تقسیم فرمادیا۔ (21)
موسم کے لحاظ سے فوج کی تقسیم
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فوجیوں کی صحت وتندرستی کے حوالے بھی مدنی سوچ رکھتےتھے، سردی گرمی کے لحاظ سے جنگ کی جہتیں متعین کردی گئی تھیں ، جو ٹھنڈے علاقے ہوتے تھے ان میں گرمیوں میں اور گرم علاقوں میں سرد موسم میں فوجیں بھیجی جاتی تھیں تاکہ ان کی صحت برقرار رہے۔ اسے’’ شاتیہ‘‘ اور’’ صافیہ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا تھا۔(22)
فوج کو خوشگوارمقام کی سیر کا حکم
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا سعد بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا عتبہ بن غزوان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں کو حکم دیا کہ ’’ہر موسم بہار میں فوجیوں کو خوش گوار مقام پر لے جایا کریں اور ہرسال موسم بہار میں ان کی مدد بھی کیا کریں ، نیز ہرسال محرم الحرام کے مہینے میں انہیں عطیات بھی دیا کریں ۔ ہرسال غلہ کی فصل آنے پر انہیں مال غنیمت کا حصہ بھی دیا کریں ۔‘‘(23)
فوجیوں کو جنگ سے رخصت
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف سے عموماً چھ ماہ بعد اور بعض فوجیوں کو ایک سال کے بعد رخصت ملا کرتی تھی، ایک دفعہ ایک فوجی کی زوجہ اپنے شوہر کے غم میں رات کے وقت اشعار پڑھ رہی تھی جسے سیِّدُنا فاروقِ اعظم نے سنا اور سبب یہ معلوم ہوا کہ وہ اپنے شوہر سے دور ہے۔ بعدازاں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ یہ عمومی فرمان جاری کردیا کہ کوئی بھی فوجی چار ماہ سے زیادہ میدان جنگ میں نہ رہے بلکہ چار ماہ بعد رخصت لے کر گھر لوٹ آئے۔(24)
فوجیوں کے نعرےنعرۂ تکبیر، نعرۂ رسالت
جنگ میں ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ایمانی جذبے کو بیدار بھی کیا جاتا ہے جس سے جنگ کی صورت حال سے کافی تبدیلی پیدا ہوتی ہے، اسلامی لشکر کے سپہ سالار ودیگر فوجیوں کا یہ معمول تھا وہ جنگ شروع کرنے کے لیے، دورانِ جنگ یا کسی بھی مشکل وقت پر نعرۂ تکبیر اور نعرۂ رسالت لگایا کرتے تھے، جس سے ان میں ایک نیا جوش ولولہ پیدا ہوجاتا اور ان کی مشکل بھی دور ہوجاتی تھی۔مثلاً:
٭…ایرانی کفار کے خلاف جنگ میں ایک بار حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسلامی لشکر کے مجاہدین کو قرآن پاک کی تلاوت کا حکم دیا، جب تمام لوگ تلاوت سے فارغ ہوئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نعرہ تکبیر بلند کیا، اس طرح تمام مسلمان جمع ہونا شروع ہوگئے یہاں تک کہ جب انہوں نے تیسری مرتبہ نعرہ تکبیر بلند کیا تو اسلامی لشکر کے فوجی میدان جنگ میں اتر کر لڑنے لگے۔(25)
٭…جب اسلامی لشکر اہل ابلہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے دریا پار کرکے آیا تو اسلامی لشکر نے بلند آواز سے دو مرتبہ نعرہ تکبیر بلند کیاجس سے دشمن کی سواریاں کھڑی ہوگئیں ، جب مسلمانوں نے تیسری دفعہ نعرۂ تکبیر بلند کیا توان کی سواریوں نے ان کے سواروں کو گرا دیا اور بھاگ کھڑی ہوئیں ۔(26)
٭…جنگ یرموک کے گیارہویں دن رومی کفار نے اسلامی لشکر پر حملہ کردیا، حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان پر جوابی حملہ کیا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور تیروں کی برسات شروع کردی، اسلامی لشکر پر یہ ایک مشکل وقت تھا، اس وقت تمام مسلمانوں کی زبان پرنعرۂ رسالت یوں گونج رہا تھا : ’’یَامُحَمَّدُ، یَامَنْصُوْرَ اُمَّتِکَ اُمَّتِکَ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اےاپنی امت کے مدد فرمانے والے۔‘‘(27)
٭…جنگ حلب میں جب لشکر کفار کے سردار یوقنا نے اسلامی لشکر پر حملہ کیا تو اس وقت اسلامی لشکر پوری طرح سے تیار نہ تھا، اس لیے تمام مسلمان آزمائش میں آگئے، حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مدد کے لیے جو لشکر بھیجا تھا وہ بھی ابھی تک نہ پہنچا تھا بظاہر بچنے کی کوئی سبیل نظر نہ آتی تھی تب صحابی رسول حضرت سیِّدُنا کعب بن ضمرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس طرح نعرۂ رسالت لگایا: ’’یَا مَحَمَّدُ، یَامُحَمَّدُ نَصْرُ اللہِ اِنْزِلْ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مدد ونصرت کے ساتھ ہماری مدد کے لیے تشریف لائیے۔‘‘(28)
علم وحکمت کے مدنی پھول,,,,,,
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا تمام واقعات سے درج ذیل مدنی پھول حاصل ہوئے:
٭…نعرۂ تکبیر اور نعرۂ رسالت لگانا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا طریقہ ہے۔
٭…صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مشکل وقت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مدد کے لیے پکارتے تھے کیونکہ یہ نعرے دورانِ جنگ مشکل وقت میں وہ لگایا کرتے تھے ۔
٭…یقیناً حقیقی مددگار فقط اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی ذات ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنے محبوب بندوں کو یہ طاقت عطا فرمائی ہے کہ وہ مشکل وقت میں مسلمانوں کی مدد کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جس طرح مشکل وقت میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگا ہ سے مدد طلب کرتے تھے اسی طرح رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارکہ سے بھی مدد طلب کرتے تھے کیونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس بات کی طاقت عطا فرمائی ہے کہ آپ مشکل وقت میں اپنے امتیوں کی مشکلات کو حل فرمائیں ۔
فریاد امتی جو کرے حال زار میں … ممکن نہیں کہ خیر بشر کو خبر نہ ہو
٭…یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ عقیدہ تھا کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے دنیا سے ظاہری پردہ فرماجانے کے بعد بھی ہماری مدد کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان مشکل وقت میں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مدد کے لیے پکارتے تھے۔
٭…شیطان جو یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ صرف’’یا اللہ مدد‘‘ ہی کہنا چاہئے ’’یارسول اللہ مدد‘‘نہیں کہناچاہئے ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِن واقعات نے شیطان کے اِس انتہائی خطرناک وسوسے کو بھی جڑ سے اُ کھاڑ دیا کیونکہ اگر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مدد کے لیے پکارنا جائز نہ ہوتا تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکبھی مدد طلب نہ فرماتے۔
یارسول اللہ کے نعرے سے ہم کو پیار ہے … جس نے یہ نعرہ لگایا اُس کا بیڑا پار ہے
خُلد میں ہو گا ہمارا داخلہ اس شان سے … یا رسول اللہ کا نعرہ لگاتے جائیں گے
فوجیوں کے ساتھ رہنے والی ضروری اشیاء
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے عہد میں اسلامی فوج کے سپاہیوں کو اپنے جنگی آلات جیسے تلوار، نیزہ وغیرہ کے علاوہ بھی چند ضروری اشیاء اپنے ساتھ رکھنی ہوتی تھی تاکہ جنگ کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات میں ان سے استعانت لی جاسکے۔ حضرت سیِّدُنا کثیر بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لشکر کے ہر سپاہی کے پاس ڈھال،کرتہ،سوئیاں ،دھاگہ اور دیگر ضرورت کی اشیاء موجود تھیں ۔(29)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
1 تھذیب التھذیب، ج۴، ص۳۹۰۔
2 بخاری، کتاب المغازی، باب۱۲، ج۳، ص۲۱، حدیث: ۴۰۱۱۔
3 تذکرۃ الحفاظ ، الطبقۃ الاولی، ج۱، ص۱۲۔
4 مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجھاد، ما قالوافی الفروض، ج۷، ص۶۱۳، حدیث: ۱، طبقات کبری،ٰ ذکر استخلاف عمر ، ج۳، ص۲۲۴۔
5 تاریخ طبری، ج۲، ص۵۱۶۔
6 تاریخ طبری، ج۲، ص۴۸۳۔
7 تاریخ طبری، ج۲، ص۵۱۶۔
8 تاریخ طبری، ج۲، ص۵۳۵۔
9 تاریخ طبری،ج۲،ص۴۹۱، ۴۹۵۔
10 فتوح البلدان، القسم الرابع،فتوح کور دجلۃ،ص۴۷۶۔
11 فتوح البلدان،القسم الرابع،ذکر تمصیر الکوفۃ،ص۳۹۳۔
12 فتوح البلدان،القسم الرابع،امر الاساورۃ و الزط،ص۵۲۰۔
13 تاریخ طبری، ج۲، ص۵۱۸۔ ۵۱۹ ۔
14 فتوح الشام ، جبلۃ بن الایھم، ص۱۵۹۔ ۱۶۰ ۔
15 فتوح البلدان، خلافۃ عمر بن الخطاب،یوم القادسیہ،ص۳۵۷۔
16 تاریخ ابن عساکر،ج۱۶،ص۲۶۵۔
17 مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الجھاد، ما قالو فی سمتہ۔۔۔الخ، ج۷، ص۶۴۴، حدیث: ۱۔
18 تاریخ طبری، ج۲، ص۴۷۸۔
19 البدایۃ والنھایۃ، ج۵، ص۱۴۲۔
20 تاریخ طبری، ج۲، ص۴۶۶۔
21 مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الزھد،کلام عمر بن الخطاب ،ج۸، ص۱۴۷،حدیث:۵مختصرا۔
22 تاریخ طبری، ج۲، ص۴۹۰۔
23 تاریخ طبری، ج۲، ص۴۷۸۔
24 تاریخ الخلفاء، ص۱۱۰۔
25 تاریخ طبری، ج۲، ص۴۲۲۔
26 تاریخ طبری، ج۲،ص۴۴۲۔
27 فتوح الشام ، الشعار، ج۱،ص۱۹۷۔
28 فتوح الشام ،ذکر فتح مدینۃ حلب، ج۱،ص۲۴۰۔
29 فتوح البلدان،القسم الرابع،فتح الری و القومس،ص۴۴۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع