30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ مَحْض اللہ پاک کی عطا سے دیتے ہیں، معاذَ اللہ اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ پاک نے کسی نبی یا ولی کو مرض سے شفا دینے یا کچھ عطا کرنے کا اختیا ر ہی نہیں دیا تو ایساشخص حکمِ قراٰنی کو جھٹلا رہا ہے۔ پارہ 3سورہ اٰ لِ عمران کی آیت نمبر 49 اور اُس کا تَر جمہ پڑھ لیجئے، اِن شاءَ اللہ وَسوَسے کی جڑ کٹ جائے گی اور شیطان ناکام و نامُراد ہوگا چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ علیہ السلام کے مُبارک قول کی حِکایت کرتے ہوئے قراٰنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ- (پ3، اٰل عمران : 49)
ترجمۂ کنزالعرفان :اور میں پیدائشی اندھوں کو اور کوڑھ کے مریضوں کو شفا دیتا ہوں اور میں اللہ کے حکم سے مُردوں کو زندہ کرتا ہوں۔
دیکھا آپ نے! حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ علیہ السلام صاف صاف فرمارہے ہیں کہ میں اللہ پاک کی بخشی ہوئی قدرت سے مادر زاد اندھوں کو بِینائی اور کوڑھیوں کو شِفا دیتا ہوں حتّٰی کہ مُردوں کو بھی زندہ کردیا کرتا ہوں۔
اللہ پاک کی طرف سے انبِیا علیہمُ السّلام کو طرح طرح کے اختیارات عطا کئے گئے ہیں اور فیضانِ انبیا سے اَولیا کو بھی عطاکئے جاتے ہیں، لہٰذا وہ بھی شِفا دے سکتے ہیں اور بہت کچھ عطا فرما سکتے ہیں۔ جب حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ علیہ السلام کی یہ شان ہے تو آقائے عیسیٰ ، سردارِ انبیا، محمد مصطَفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شانِ عظمت نشان کیسی ہوگی! یہ یاد رکھئے کہ سروَرِ کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جَمیع مخلوقات اور جُملہ انبیا و مُرسلین علیہمُ السّلام کے کمالات کے جامِع ہیں بلکہ جس کو جو ملا سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کے صَدقے ملا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع