30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۵۳)
ترجمۂ کنزالعرفان : تم فرماؤ! اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زِیادَتی کی اللہ کی رَحمت سے مایوس نہ ہونا بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
100 افراد کا قاتل بخشا گیا
’’بخاری شریف‘‘ کی حدیث میں یہ مضمون موجود ہے کہ بنی اِسرائیل کا ایک شخص جس نے99 قتل کئے تھے، ایک راہِب (1) کے پاس پہنچا اور پوچھا: کیا میرے جیسے مجرم کیلئے کوئی توبہ کی گنجائش ہے؟ راہِب نےاسے مایوس کر دیا تو اُس نے راہِب کو بھی قتل کر ڈالا مگر پھر نادِم ہوکر توبہ کا طریقہ لوگوں سے پوچھتا پھرا۔ آخِر کسی نے کہا کہ فُلاں قصبے میں چلے جاؤ (وہاں اللہ پاک کا ایک ولی ہے وہ تمہاری رہنُمائی کرے گا۔) چُنانچِہ وہ اُس کی طرف چل دیا مگر راستے میں بیمار ہو گیا۔ جب قریبُ المرگ ہوا تو اس نے اپنا سینہ اُس قصبے کی طرف کر دیا اور فوت ہو گیا۔ اب اس کو لے جانے کے بارے میں رَحمت و عذاب کے فِرشتوں میں اختلاف ہوا۔ اللہ پاک نے میِّت اورقصبے کے درمیان والے حصّۂ زمین کو سِمٹ کر میِّت کے قریب ہو جانے کا حکم فرمایا اور جدھر سے وہ چلا تھا اور جہاں پَہُنچ کر فوت ہوا تھا اُس درمیانی فاصلے کو مزید طویل ہو جانے کا حکم فرمایا، پھر پیمائش کا حکم فرمایا تو وہ جس قصبے کی طرف جا رہا تھا اُس سے ایک بالشت قریب پایا گیا اور اللہ پاک نے اُس کی مغفرت
[1] … یعنی عیسائی عبادت گُزار ،تارک الدُّنیا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع