30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قبیلہ بنونجَّار سے تھا لیکن ابھی تک انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اس لئے حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انکار کر دیا اور شادی کے لئے اسلام قبول کرنے کی شرط لگا دی۔ ([1]) مروی ہے کہ آپ نے ان سے فرمایا: اے ابو طلحہ! تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارا معبود جس کی تم عبادت کرتے ہو محض ایک درخت ہے جو زمین سے اُگا اور فلاں قبیلے کے حبشی نے اسے تراش (کر کسی بت کی شکل میں بدل) دیا؟ ابو طلحہ نے کہا: ہاں! کیوں نہیں۔ فرمایا: تو کیا زمین سے اگنے والی ایک لکڑی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئے تمہیں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی جسے فلاں قبیلے کے حبشی نے تراش (کر بت کی شکل میں بدل) دیا ہے...! ! پھر فرمایا: لہٰذا کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سِوا کوئی عِبادت کے لائق نہیں اور حضرت مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے رسول ہیں (اگر تم ایسا کرو) تو میں تم سے شادی کر لوں گی اور اس کے عِلاوہ کچھ مہر بھی نہیں مانگوں گی۔ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سوچنے کی مہلت مانگی اور واپس چلے گئے، پھر جب آئے تو ایمان ان کے دل میں سرایت کر چکا تھا اور کہنے لگے: اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سِوا کوئی معبود نہیں اور حضرت مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم اس کے رسول ہیں۔اس کے بعد حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا ان کے ساتھ نِکاح ہو گیا۔ ([2])
حضرت ابوطلحہ کا مختصر تَعَارُف
حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام زید ہے لیکن کنیت سے مشہور ہیں، اعلیٰ درجے کے تیر انداز تھے۔ حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ لشکر میں ابوطلحہ کی صرف آواز بڑی جماعت سے بہتر ہے۔ بیعت عقبہ میں ستر انصاریوں کے ساتھ آپ آئے تھے پھر غزوۂ بدر وغیرہ تمام غزوات میں شامِل ہوئے۔ ([3])
اس نکاح سے بھی حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اولاد کی نعمت سے بہرہ مند ہوئیں، حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ سے آپ کے دو۲ شہزادوں ابوعمیر اور عَبْدُ الله کا ذِکْر ملتا ہے، دونوں نے حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا شرف پایا اور بڑے فضائل وکمالات کے حامِل ہوئے۔
٭ حضرت ابوعمیر بن ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا: ان کا نام كبشہ ہے۔ ([4]) حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم ان پر بہت شفقت فرماتے تھے اور ازراہِ لطف وعنایت بعض اوقات خوش طبعی بھی فرمایا کرتے تھے۔ کم عمری میں ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا، جس کا پورا واقعہ شروع میں بیان ہو چکا ہے۔
٭ حضرت عَبْدُ اللہ بن ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے چھوٹے شہزادے ہیں۔ غزوۂ حنین کے بعد پیدا ہوئے۔ حُضُورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے خود ان کی تحنیک ([5]) فرمائی۔ ایک قول کے مطابق انہوں نے 84ھ میں مَدِیْنَہ مُنَوَّرَہ میں انتقال فرمایا۔ ([6]) ان کی اولاد میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بڑے بڑے عُلَما اور صلحا (نیک وپرہیزگار افراد) پیدا فرمائے۔
چند اور شرف صحابیت پانے والے رشتہ دار
حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے عزیز واقارب میں سے جن افراد کو سروَرِ عالم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابیت کا عظیم شَرَف نصیب ہوا ان میں سے چند کے نام اور مختصر تَعَارُف یہاں ذِکْر کیا جاتا ہے، ملاحظہ کیجئے:
٭ حضرت مُلَیْکَہ بنتِ مالِک انصاریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی والِدہ ہیں۔ ([7]) ايك بار پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کی دعوت پر ان
کے گھر تشریف لائے اور کھانا تَنَاوُل فرمانے کے بعد دو رکعت نماز پڑھائی چنانچہ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ان کی نانی حضرت مُلَیْکَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کھانے پر بُلایا جو آپ کے لئے تیار کیا تھا۔ آپ نے تَنَاوُل فرمایا پھر فرمایا کہ کھڑے ہوجاؤ تا کہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: میں اپنی ایک چٹائی کی طرف اُٹھا جو زیادہ عرصہ گزر جانے کے باعث کالی ہو گئی تھی۔ میں نے اس پر پانی چھڑکا۔ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے ہو گئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف بنا لی اور بوڑھی امّاں ہمارے پیچھے تھیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر تشریف لے گئے۔ ([8])
[1] طبقات ابن سعد، و من نساء بنى عدى بن النجار، ام سليم بنت ملحان، ٨ / ٣١٣.
[2] طبقات ابن سعد، و من نساء بنى عدى بن النجار، ام سليم بنت ملحان، ٨ / ٣١٤.
[3] اجمال، حالات صحابہ وتابعین، باب طا، صحابۂ کرام، ص۴۳، ملتقطًا.والاكمال، الباب الاول الخ، حرف الطاء، فصل فى الصحابة، ابو طلحة، ص٥٥، ملتقطًا
[4] مراٰۃ المناجیح، کتاب الاداب، باب المزاح، الفصل الاول، ۶ / ۴۹۴، بتغیر قلیل.
[5] شہد یا کوئی میٹھی چیز پہلے پہل (نوزائیدہ بچے کے) منہ میں دینا، اس کا طریقہ اسی رسالے کے صفحہ 14 پر ملاحظہ کیجئے۔
[6] الاصابة، القسم الثانى من حرف العين، عبدالله بن ابى طلحة الخ، ٥ / ١٢، ملخصًا.
[7] الاصابة، حرف الميم، القسم الاول، مليكه الانصارية، ٨ / ٣٥٥.
[8] بخارى، كتاب الصلاة، باب الصلاة على الحصير، ص١٦٩، حديث:٣٨٠.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع