30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭ نومولود کی تحنیک (گھٹی دینا) سنّت ہے۔ ([1]) حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے ہاں جب بیٹے کی وِلادت ہوئی تو انہوں نے اسے کچھ کِھلانے پِلانے سے روک دیا تاکہ سب سے پہلے اسے سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ میں پیش کر کے تحنیک کروائی جائے اور اسے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لُعَاب مُبَارَک سے برکتیں حاصِل ہوں۔ آئیے! اسی ضمن میں تحنیک کا طریقہ بھی مُلَاحظہ کیجئے چنانچہ
تحنیک کا طریقہ: یہ ہے کہ تحنیک کرنے والا کھجور لے کر چبائے حتی کہ جب اس قدر پتلی اور بہنے والی ہو جائے جسے بچہ نگل سکے تو اسے بچے کے منہ میں ڈال دے۔ ([2]) پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مَدَنی منّے حضرت عَبْدُ اللہ بن ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی تحنیک اسی طرح فرمائی۔
بچے کی تحنیک کے حوالے سے دو۲ مستحب عمل: (۱) ...مستحب یہ ہے کہ تحنیک کھجور کے ساتھ ہو لیکن اگر اس میں کوئی دشواری ہو تو کسی بھی میٹھی چیز (مثلاً شہد) کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔ (۲) ...یہ بھی مستحب ہے کہ تحنیک کرنے والا نیک پرہیزگار شخص ہو جس سے لوگ فیض حاصِل کرتے ہیں خواہ وہ نیک شخص مرد ہو یا عورت اور اگر وہ بچے کی وِلادت کے وَقْت پاس مَوْجُود نہ ہو تو بچے کو اس کے پاس لے جایا جائے۔ ([3]) تاکہ بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے کسی اللہ والے کا لُعَاب جائے جس سے اسے برکتیں حاصِل ہوں۔ ([4]) تفسیر رُوْحُ الْبَیَان میں ہے کہ بچے میں پہلی گھٹی دینے والے کا اثر آتا ہے اور اس کی سی عادات پیدا ہوتی ہیں۔ ([5])
٭ بچے کا نام رکھنے کا اختیار بزرگوں کو دے دینا تا کہ وہ اپنی پسند کے مُطَابِق نام کا اِنتخاب فرمائیں، مستحب ہے۔ ([6])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نام، نسب اور کُنْیَت
حضرت اُمِِّ سُلَیْم کا نسب
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے والِد کا نام مِلْحَان اور والدہ کا نام مُلَیْکَہ ہے۔ والِد کی طرف سے نسب اس طرح ہے: اُمِّ سُلَیْم بِنْتِ مِلْحَان بن خَالِد بن زَيْد بن حَرَام بن جُنْدُب بن عَامِر بن غنم بن عَدِیّ بن نَجَّار ([7]) (تَیْمُ الله) بن ثَعْلَبَه بن عمرو بن خَزْرَج ([8]) اور والِدہ کی طرف سے یہ ہے: اُمِّ سُلَیْم بِنْتِ مُلَيْكَة بِنْتِ مالِك بن عَدِیّ بن زَيْد مناة بن عَدِیّ بن عمرو بن مالِك بن نَجَّار۔ ([9])
آپ کے نام کے بارے میں بہت اَقوال ہیں مثلاً سَھْلَہ یا رُمَیْلَہ یا رُمَیْصَاء یا غُمَیْصَاء وغیرہ۔ ([10])
آپ کی مشہور کنیت اُمِّ سُلَیْم ہے اس کے عِلاوہ ایک کنیت اُمِّ اَنَس بھی آئی ہے۔ ([11])
مَدِیْنَۃُ الْمُنَوَّرَہ زَادَہَا اللہُ شَرۡفًا وَّ تَعۡظِیۡمًا کی سرزمین پر دو بڑے قبیلے ایک اَوْس اور دوسرا خَزْرَج آباد تھے۔ ”انہیں اور ان کے حلیف قبیلوں کو رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انصار کا لقب عطا فرمایا تھا۔“ ([12]) ان دونوں میں سے ہر ایک کی آگےبہت شاخیں ہیں۔ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کا تعلق قبیلہ خَزْرَج کی ایک شاخ بنو نجَّار سے ہے، اس لحاظ
[1] شرح نووی، كتاب الآداب، باب استحباب تحنيك المولود الخ، الجزء الرابع عشر، ٥ / ١٤٠، تحت الحديث:٢١٤٤.
[2] شرح نووی، كتاب الآداب، باب استحباب تحنيك المولود الخ، الجزء الرابع عشر، ٥ / ١٣٩.
[3] شرح نووی، كتاب الآداب، باب استحباب تحنيك المولود الخ، الجزء الرابع عشر، ٥ / ١٣٩، ملتقطًا.
[4] شرح نووی، كتاب اللباس والزينة، باب جواز وسم الحيوان الخ، الجزء الرابع عشر، ٥ / ١١٣، تحت الحديث:٢١١٩.وعمدة القارى، كتاب اللباس، باب الخميصة السوداء، ١٥ / ٣٤، تحت الحديث:٥٨٢٤.
[5] اسلامی زندگی، پہلا باب بچہ کی پیدائش، اسلامی رسمیں، ص۲۱.
[6] شرح نووی، كتاب الآداب، باب استحباب تحنيك المولود الخ، ٥ / ١٤٠، تحت الحديث:٢١٤٤.
[7] طبقات ابن سعد، و من نساء بني عدى بن النجّار، ام سليم بنت ملحان، ٨ / ٣١٢.
[8] الجوهرة فى نسب النبى، عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف، ٢ / ٥.
[9] طبقات ابن سعد، ومن نساء بني عدى بن النجّار، ام سليم بنت ملحان، ٨ / ٣١٢.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع