دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan-e-Bibi Umme Sulaim رضی اللہ تعالی عنھا | فیضان بی بی ام سلیم (رضی اللہ تعالی عنھا)

book_icon
فیضان بی بی ام سلیم (رضی اللہ تعالی عنھا)

بیٹے کی وِلادت

یہ غزوۂ حنین کے بعد کا واقعہ ہے۔ ([1]  )  جبکہ یہ دونوں صابِر وشاکِر حضرات سرکارِ نامدار، مکّے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہم راہی میں کسی سفر سے واپس مدینہ طَیِّبہ کی طرف آ رہے تھے۔ ابھی مدینہ شریف کی حُدود شروع ہونے میں کچھ فاصِلہ باقی تھا کہ آثارِ وِلادت ظاہِر ہوئے جس کی وجہ سے انہیں یہیں راستے میں ہی ٹھہرنا پڑا۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادَتِ کریمہ یہ تھی کہ جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو رات کے وَقْت مدینہ شریف میں داخِل نہیں ہوتے تھے  (اور ابھی رات ہونے کے قریب تھی)  اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے بڑھتے رہے۔ ([2])  

یہ حضرات سفر وحَضَر میں رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رہا کرتے تھے، اب جبکہ مجبوراً قافلے سے علیحدہ ہو کر انہیں یہاں پڑاؤ کرنا پڑا تو فِراقِ رسول کے غم میں ان کے دلوں کی حالت زیر وزبر ہونے لگی، ان کا جذبۂ عقیدت اور عشقِ رسول اس بات کی تاب نہ رکھتا تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مدینہ شریف میں داخل ہونے کے شرف سے محروم ہو جائیں، بِالآخِر فرطِ اَلَم سے دِلوں کو ایسی ٹھیس پہنچی کہ جذبات قابو سے باہر ہو گئے اور کسی ٹوٹے ہوئے گھائل شخص کی طرح بارگاہِ الٰہی میں عرض گزار ہوئے: اِنَّكَ لَتَعْلَمُ يَا رَبِّ اِنَّهُ يُعْجِبُنِي اَنْ اَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ اِذَا خَرَجَ وَاَدْخُلَ مَعَهُ اِذَا دَخَلَ وَقَدِ احْتَـبَسْتُ بِمَا تَرَى اے مالِک، اے پاک پروردگار!  تو خوب جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں تیرے رسول کے ساتھ  (مَدِیْنَہ مُنَوَّرَہ سے)  نکلوں اور ان کے ساتھ ہی داخِل ہوں اور تجھے معلوم ہے کہ میں کس مجبوری میں پھنس گیا ہوں۔

یہ عرض کرنا تھا کہ وہ کیفیت جاتی رہی جس کی وجہ سے انہیں رُکنا پڑا تھا چنانچہ یہ آگے بڑھ كر قافلے کے ساتھ مل گئے اور سرکارِ ذی وقار، محبوبِ ربِّ غفار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہم راہی میں مدینہ طَیِّبہ کی پُربہار فِضَاؤں میں داخِل ہوئے۔ ([3])  گھر پہنچ کر رات کے آخری پہر  (جبکہ صبح ہونے کے قریب تھی اس وَقْت)  ان کے ہاں مدنی منّے کی وِلادت ہوئی۔ ([4])  وِلادت کے بعد نیک سیرت بی بی صاحبہ نے اپنے بڑے بیٹے حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مُخَاطب کر کے فرمایا کہ اس کا خیال رکھنا، اسے کوئی چیز کِھلائی پلائی نہ جائے، جب صبح ہو تو اسے لے کر نَبِیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خدمت میں حاضِر ہو جانا تاکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کی تحنیک ([5])  فرمائیں۔ فرمانبردار بیٹے نے حکم کی تعمیل کی اور صبح کے وَقْت اسے لے کر بارگاہِ رِسالت مآب عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حاضِر ہو گئے۔ اس وَقْت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک باغ میں تشریف فرما تھے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حُرَیثیَّہ کمبل اوڑھ رکھا تھا اور اس سواری پر نشان لگا رہے تھے جس پر سوار ہو کر فتح مکہ کے دن تشریف لے گئے تھے۔ ([6])  مُسْلِم شریف کی رِوَایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دیکھ کر بچے کے بارے میں دریافت فرمایا اور وہ اَوْزار ایک طرف رکھ دیا جس کے ساتھ جانور پر نشان لگا رہے تھے پھر بچے کو گود میں لیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ شریف کی عجوہ کھجور طَلَب فرمائی اور اسے منہ میں ڈال کر چبایا حتی کہ  (جب وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لُعَاب مُبَارَک کے ساتھ مِل کر پتلی اور)  بہنے کے قابِل ہو گئی تو اسے بچے کے منہ میں ڈال دیا۔ بچہ اسے چوسنے لگا، یہ دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: انصار کی کھجور سے محبت دیکھو!  نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بچے کے چہرے پر اپنا دستِ انور پھیرا اور اس کا نام عَـبْدُ اللهرکھا۔ ([7])  یوں اس بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے جو چیز داخِل ہوئی وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مُبَارَک لُعَاب ہے۔ اس لُعَاب مُبَارَک اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ان کے چہرے پر دستِ انور پھیرنے نیز ان کے لیے دُعا فرمانے کی برکت سے انہوں نے بہت اچھی تربیت پائی اور کثیر فضائل وکمالات کے حامِل ہوئے اور ان کی اولاد میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بڑے بڑے عُلَما اور صلحا  (نیک لوگ)  پیدا فرمائے۔“ ([8])  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پیاری پیاری اسلامی بہنو!  دُنیا دَارُ الْاِمْتِحان  (یعنی آزمائش کی جگہ)   ہے جہاں انسان کو بسا اَوْقات قدم قدم پر اِمْتِحانات کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے لیکن ایک ایمان دار شخص جس کے دل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت راسخ ہوتی ہے اور دُنیوی زیبائش وآرائش اس کی نظر میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی ایسے مَوَاقِعْ پر وہ ہمت نہیں ہارتا بلکہ صبر کے سہارے ہر امتحان اور آزمائش میں پورا اُترتا ہے جیسا کہ اس واقعے میں نیک سیرت بی بی صاحبہ اور ان کے شوہرِ نامدار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے طرزِ عمل سے ظاہِر ہوا، جب ان کے لختِ جگر چند روز بیمار رہنے کے بعد انتقال فرما گئے، اس پر انہوں نے کوئی بےصبری کا کام نہیں کیا بلکہ کلماتِ ترجیع یعنی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھا اور صابِر وشاکِر ہو رہے۔

 



[1]   الاصابة،  القسم الثانى من حرف العين، العين بعدها الباء، عبد الله بن ابى طلحة   الخ، ٥ / ١٢.

[2]   مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل ابى طلحة، ص٩٥٧، حديث:٢١٤٤.

[3]    مسلم، كتاب فضائل الصحابة،باب من فضائل  ابى طلحة، ص٩٥٧، حديث:٢١٤٤.

[4]    معجم كبير، باب من يعرف من النساء بالكنى   الخ، خبر ام سليم فى موت ابنها   الخ، ١٠ / ٤٥٧، حديث:٢٠٧٩٦.

[5]   شہد یا کوئی میٹھی چیز پہلے پہل (نوزائیدہ بچے کے) منہ میں دینا۔

[6]    بخارى، كتاب اللباس، باب الخميصة السوداء، ص١٤٦٧، حديث:٥٨٢٤.

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن