دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan-e-Bibi Umme Sulaim رضی اللہ تعالی عنھا | فیضان بی بی ام سلیم (رضی اللہ تعالی عنھا)

book_icon
فیضان بی بی ام سلیم (رضی اللہ تعالی عنھا)

آزمائش کا دَور

زندگی کے دن اس طرح راضی خوشی بسر ہو رہے تھے۔ ننھے ابوعمیر کی وجہ سے ان کا آنگن  (صحن)  خوشیوں سے بھرا ہوا تھا۔ بچے ہوتے ہی گھر کی رونق ہیں، انسان دن بھر کے کام کاج سے تھکا ماندہ جب شام کو واپس گھر آتا ہے تو بچوں کے چہروں پر پھیلی مسکراہٹ دیکھ کر اور چند پل ان کے ساتھ گُزَار کر ہی اس کی ساری تھکن دُور ہو جاتی ہے اور ذہنی آسودگی حاصل ہوتی ہے، یہ خوشی مال ودولت سے نہیں خریدی جا سکتی جو بچوں کو ہنستے کھیلتے دیکھ کر حاصِل ہوتی ہے۔ اس گھر کی رونق بھی یہ مدنی منّے ابوعمیر تھے جن سے یہ گھر فرحت وانبساط کا گہوارہ بنا ہوا تھا۔ باپ کو اپنے اس مدنی منّے سے بہت پیار تھا۔ منظورِ الٰہی ہوا کہ اس مدنی منّے کے ذریعے ان کا امتحان لیا جائے چنانچہ ایک روز یہ مدنی منّے بہت سخت بیمار پڑ گئے۔ والِدَین کو اس سے بہت فکر لاحِق ہوئی، خاص طور پر والِد صاحب کو دِلی طور پر اس کا اس قدر صدمہ پہنچا کہ اس صدمے کی وجہ سے وہ خود کمزور ہو گئے۔“ ([1])  یہ ان کا فطری ردِّ عمل تھا کیونکہ فطری طور پر اولاد کو پہنچے والی تکلیف والِدَین کے دل گھائل کر دیتی ہے جس کا اثر دیگر اَعْضا پر پڑتا ہے تو وہ سست اور کمزور ہو جاتے ہیں۔ اس فطری ردِّ عمل کے عِلاوہ یہ حضرات رِضائے الٰہی میں راضی تھے لہٰذا کبھی زبان پر حرفِ شکایت لائے اور نہ کبھی دل میں اسے جگہ دی، فرائضِ الٰہیہ کی بجا آوری میں بھی ہمیشہ مستعد وتیار رہے۔

ان دنوں میں بھی مدنی منّے کے والِدِ محترم کا یہ مَعْمُول رہا کہ صبح جب نمازِ فجر کے لیے بیدار ہوتے وُضُو کر کے سرکارِ رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بےکس پناہ میں حاضِر ہو جاتے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے نماز ادا کرتے اور قریباً نِصْفُ النَّہار تک آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت میں رہتے ہوئے دیدار کے شربت سےآنکھیں سیراب کرتے پھر گھر واپس آ کر کھانا تَنَاوُل کرتے اور قیلولہ فرماتے، جب ظہر کی جماعَت کا وَقْت ہوتا تو تیاری کر کے پھر بارگاہِ اقدس میں حاضِر ہو جاتے اور پھر نمازِ عشا کے بعد ہی گھر واپس آتے۔ ایک دن یہ حسبِ معمول بارگاہِ اقدس میں حاضِری کے لیے گئے ہوئے تھے کہ ان کے مدنی منّے کا انتقال ہو گیا۔ ([2])  مدنی منّے کی والِدَہ جو صبر ورضا کی پیکر نیک سیرت بی بی تھیں انہوں نے اس موقعے پر بہت ہمت وحوصلے سے کام لیا اور آہ وفُغاں کرنے اور زبان پر بےصبری کا کوئی کلام لانے کے بجائے ”انہیں غسل و کفن دے کر کپڑا اوڑھایا اور گھر کے ایک کونے میں لِٹا دیا۔ ([3])  انہوں نے سوچا کہ دن بھر کے تھکے ماندے اس کے والِد گھر آئیں گے اور انتقال کی خبر سنیں گے تو نہ کھانا کھائیں گے اور نہ آرام کر سکیں گے ([4])  اس لیے انہوں نے گھر والوں کو روک دیا کہ کوئی ان کے والِد کو ان کی وفات کے بارے میں نہ بتائے میں خود ہی انہیں اس بارے میں بتاؤں گی۔ ([5])  

مروی ہے کہ اس دن مدنی منّے کے والِدِ محترم نے روزہ رکھا ہوا تھا، شام کے وَقْت تھکے ماندے گھر واپس آئے ([6])  اور بیٹے کا حال دَرْیافت کیا۔ نیک سیرت بی بی صاحبہ نے جواب دیا: جب سے بیمار ہوا ہے آج سے پہلے اتنے سُکُون میں نہیں آیا۔ اس پر انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا۔ ([7])  پھر کھانا پیش کیا گیا اور یہ کھانا کھا کر تازہ دم ہو گئے۔ اس کے بعد بستر پر تشریف لے گئے اور حقِ زوجیت ادا فرمایا۔ ([8])  جب تمام کاموں سے فارِغ ہو کر خوب مطمئن ہو گئے تو بی بی صاحبہ مُخَاطب ہو کر کہنے لگیں: یہ ارشاد فرمائیے کہ اگر آپ کا ہمسایہ عاریۃً آپ کو کوئی چیز دے، آپ اسے اپنے اِسْتِعْمال میں رکھیں، پھر وہ اپنی چیز واپس لینے کا ارادہ کرے تو کیا آپ اسے لوٹا دیں گے؟  فرمایا: ہاں، خدا کی قسم میں اسے ضرور لوٹا دوں گا۔ کہا: خوش دلی سے لوٹائیں گے؟  فرمایا: ہاں خوش دلی سے۔کہا: تو بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو بیٹا عطا فرمایا اور جب تک چاہا اسے آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے رکھا، اب اس کی روح قبض کر لی گئی ہے لہٰذا آپ اس پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کیجئے۔یہ سن کر مدنی منّے کے والد نے کلماتِ اِسترجاع یعنی اِنَّا  لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھا اور  (واویلا مچانے کے بجائے)  صبر اختیار کیا۔ ([9])  دیگر رِوَایات کے مُطَابِق جب انہیں بیٹے کے انتقال کا عِلْم ہوا تو اس بات کا انہیں بہت افسوس ہوا کہ میرے بیٹے کی مَیِّت گھر میں پڑی تھی اور میں نے کھانا کھا لیا اور عملِ اِزْدِوَاج بھی کر لیا پھر یہ سرکار رسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوئے اورسارا ماجرا عَرْض کیا۔ اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دُعا سے نوازتے ہوئے فرمایا: ”بَارَكَ اللهُ لَكُمَا فِی غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری اس گزاری ہوئی رات میں برکت عطا فرمائے۔“ ([10])  اس دُعَائے نبوی کا یہ اثر ظاہِر ہوا کہ اُسی رات ان کی بی بی صاحبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اُمید سے ہو گئیں۔ ([11])  اور کچھ عرصے بعد ایک چاند سے چہرے والے مدنی منّے کی وِلادت ہوئی جس سے ان کے آنگن میں وہ خوشیاں پِھر سے لوٹ آئیں جو کبھی ننھے ابوعمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی وجہ سے ہوا کرتی تھیں۔

 



[1]   صحيح ابن حبان، كتاب اخباره صلى الله عليه  وسلم عن مناقب الصحابه   الخ، ذكر وصف تزوج ابى طلحة ام سليم، ص١٩٢٥، حديث:٧١٨٧ ،بتغير.

[2]   مسند امام احمد، مسند انس بن مالك رضى الله تعالٰى عنه، ٥ / ٥١٦، حديث:١٣٢٠٢.

[3]   عمدة القارى، كتاب الجنائز، باب من لم يظهر حزنه عند المصيبة، ٦ / ١٣٥، تحت الحديث:١٣٠١، ملتقطًاو بخارى، كتاب الجنائز، باب من لم يظهر حزنه عند المصيبة، ص٣٦٨، حديث:١٣٠١.

[4]    جنتی زیور، تذکرۂ صالحات، حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا، ص۵۱۵، بتغیر قلیل.

[5]    مسند ابى يعلٰى، مسند انس بن مالك، ثابت البنانى عن انس، ٣ / ١٣٣، حديث:٣٣٩٨.

[6]   مسند ابى يعلٰى، مسند انس بن مالك، ثابت البنانى عن انس، ٣ / ١٣٣، حديث:٣٣٩٨.

[7]   صحيح ابن حبان، كتاب اخباره صلى الله عليه وسلم عن مناقب الصحابة   الخ، ذكر وصف تزوج ابى طلحة ام سليم، ١٩٢٥، حديث:$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن