30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵) ...حضرت زید بن ثابت اور (۶) ...حضرتِ عَبْدُ اللہ بن عبّاس رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ([1])
اور تابعین میں سے حضرت ابوسلمہ بن عَبْدُ الرَّحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ([2]) جیسے فقیہہ، عابِد اور متقی شخص بھی شامِل ہیں۔
یہاں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کی روایت کی گئی فقط تین۳ احادیث ذکر کی جاتی ہیں، مُلَاحظہ کیجئے:
(۱) ...اولاد کی وفات پر صبر کرنے کی فضیلت
حضرت عَمرو بن عُمر انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُسے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا بیان کرتی ہیں: میں نے تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کو فرماتے سنا کہ جن دو۲ مسلمان میاں بیوی کے تین۳ بچے بالغ ہونے سے قبل وفات پا جائیں (اور وہ اس پر صبر کریں تو) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فضل و رحمت سے انہیں جنت میں داخل فرمائے گا۔ میں نے عرض کیا: اور دو۲ ہوں تو؟ فرمایا: دو۲ ہوں (تب بھی یہی اجر ہے) ۔ ([3])
(۲) ...شراب کی حرمت
حضرت ابو طلحہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ سے رِوَایَت ہے: حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں کہ جب شراب کے حرام ہونے کا حکم نازِل ہوا تو رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے مُنَادِی کو حکم فرمایا کہ وہ (گلی کوچوں میں) یہ اِعْلان کر دے: ”خبردار! بےشک شراب حرام کر دی گئی ہے، پس نہ اسے خریدو...! نہ بیچو...! ! جس کسی کے پاس شراب موجود ہے وہ اسے بہا دے۔“ ([4])
(۳) ...رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی نصیحت
حضرت مربع رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم میں عرض کیا: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم! مجھے نصیحت فرمائیے...! ! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا: گناہ چھوڑ دو، یہ سب سے بہترین ہجرت ہے، فرائض کی مُحَافَظَت کرو، یہ افضل ترین جہاد ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کثرت سے کرو ، بے شک تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں کوئی ایسی چیز لے کر حاضِر نہیں ہو سکتی جو اسے کثرتِ ذِکْر سے زیادہ محبوب ہو۔ ([5])
حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے زندگی کا طویل حصہ زمانۂ اسلام میں بسر کیا اور ایمان لانے کے بعد اپنے ہر عمل اور فعل سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے محبوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی رِضا کے حُصُول کے لیے کوشاں رہیں بالآخر خلیفۂ ثالث، امیر المؤمنین حضرت سیِّدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دَورِ خِلافت میں آپ کا اِنتقال ہو گیا۔ آپ کی پوری زندگی عشقِ رسول سے عبارت ہے بلکہ انتقال فرمانے کے بعد بھی آپ کے ترکے سے اسی کا درس ملتا ہے کیونکہ آپ کے ترکہ میں بجائے دُنیوی مال ومتاع کے صرف اور صرف نَبِیِّ آخِرُ الزّماں، شہنشاہِ کون ومکاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آثارِ مُبَارَکہ وتبرکاتِ شریفہ تھے چنانچہ آپ کے لختِ جگر حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہ اس کا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
حضرت اُمِّ سُلَیْم کا ترکہ
میری والِدہ ماجِدہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے سِوائےان چند چیزوں کے کچھ وراثت نہ چھوڑی:
(۱) ...رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی چادر مُبَارَک۔
(۲) ...پیالہ جس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم (پانی وغیرہ) پیا کرتے تھے۔
(۳) ...آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے خیمہ مُبَارَک کا بانس۔
(۴) ...سِل جس پر آپ رامک نامی شے کو رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے مُبَارَک پسینے سے (مخلوط کر کے) گوندھ (کر محفوظ کر) لیتی تھیں۔ ([6])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع