30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حُضُورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہمراہی کا شرف
آپ نے متعدد سفروں میں سرورِ کائنات، شہنشاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہمراہی کا شرف پایا۔ یہ شرف انہیں کس قدر عزیز تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ کسی سفر سے واپسی پر جب انہیں دردِ زہ شروع ہوا اور قافلےسے علیحدہ ہو کر راستے میں ہی ٹھہرنا پڑا تو یہ بات ان پر سخت گراں گزری اور ان کے شوہر حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: اے پاک پروردگار! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں تیرے رسول کے ساتھ (مَدِیْنَہ مُنَوَّرَہ سے) نکلوں اور ان کے ساتھ ہی داخِل ہوں اور تجھے معلوم ہے کہ میں کس مجبوری میں پھنس گیا ہوں۔ یہ عرض کرنا تھا کہ وہ کیفیت جاتی رہی جس کی وجہ سے انہیں رُکنا پڑا تھا چنانچہ یہ آگے بڑھ كر قافلے کے ساتھ مل گئے اور سرکارِ ذی وقار، محبوبِ ربِّ غفار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہم راہی میں مدینہ طَیِّبہ کی پُربہار فِضَاؤں میں داخِل ہوئے۔
اس کے علاوہ غزوۂ خیبر سے واپسی کے سفر میں بھی حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا ذکر ملتا ہے۔ سفر کے دوران جب مقامِ صہبا میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قیام فرمایا تو اس جگہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ہی ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے کنگھی وغیرہ کرنے کی خدمت سرانجام دی۔ ([1])
ایک بار پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے کھجوریں اور گھی پیش کیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: گھی کو اس کی مشک میں اور کھجوروں کو اس کے برتن میں واپس ڈال دو کیونکہ میں روزے سے ہوں۔اس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم گھر کے ایک گوشے میں کھڑے ہوئے اور نفل نماز پڑھی اور حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا فرمائی۔ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا نے عرض کیا: یَارَسُولَ اللہ! میرا ایک خاص بچہ ہے (اس کے لئے خصوصی دعا فرما دیجئے) ۔ دریافت فرمایا: اُمِّ سُلَیْم! وہ کون ہے؟ عرض کیا: آپ کا خادم اَنَس۔ (حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ فرماتے ہیں:) چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے میرے لئے آخرت اور دنیا کی ہر بھلائی کی دعا فرما دی، (جس کے بعض الفاظ یہ ہیں:) اَللّٰهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَّوَلَدًا وَبَارِكْ لَهٗ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اَنَس کو مال اور اولاد دے اور اسے برکت عطا فرما۔ ([2])
جنت کی بشارت
حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ ایک بار جب سرکار اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جنت میں تشریف لے گئے تو وہاں حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو بھی مُلَاحظہ فرمایا چنانچہ بخاری شریف میں حضرت سیِّدنا جابر بن عَبْدُ اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”رَاَيْتُنِي دَخَلْتُ الجَنَّةَ فَاِذَا اَنَا بِالرُّمَيْصَاءِ امْرَاَةِ اَبِي طَلْحَةَ میں نے (خواب میں) خود کو دیکھا کہ جنت میں داخل ہوا ہوں، وہاں میں نے ابو طلحہ کی بیوی رُمَیْصا (یعنی حضرتِ اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا) کو دیکھا۔ ([3])
حضرت اُمِّ سُلَیْم سے مروی احادیث
حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے متعدد احادیث روایت کرنے کا شرف حاصل کیا۔ حضرت سیِّدنا امام شمس الدِّین محمد بن احمد ذَہبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ آپ نے 14 احادیث روایت کیں جن میں سے ایک حدیث شریف مُتَّفَق عَلَیْہ (یعنی بخاری ومُسْلِم دونوں میں) ہے، ایک صرف بخاری میں اور دو صرف مُسْلِم میں ہیں۔ ([4])
حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے صحابہ وتابعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن ہر دو طبقات کے جلیل القدر افراد نے احادیث روایت کی ہیں، ان میں سے کچھ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
(۱) ...اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ (۲) ...اُمُّ المؤمنین حضرت اُمِّ سلمہ
(۳) ...حضرت خولہ بنتِ حکیم (۴) ...حضرت اَنَس بن مالِک ([5])
[1] طبقات ابن سعد، ذكر ازواج رسول الله صلى الله عليه وسلم الخ، صفيه بنت حيى، ٨ / ٩٦، ملتقطًا.
[2] بخارى، كتاب الصوم، باب من زار قوما فلم يفطر عندهم، ص٥٢١، حديث:١٩٨٢.
[3] بخارى، كتاب فضائل اصحاب النبى صلى الله عليه وسلم، باب مناقب عمر بن الخطاب الخ، ص٩٣٣، حديث:٣٦٧٩.
[4] سير اعلام النبلاء، ام سليم بنت ملحان، ٣ / ٥٤١.
[5] معرفة الصحابة، ذكر الصحابيات من البنات الخ، باب الراء، ٥ / ٢٣٦.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع