30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے پاس بھیج دی پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرما ہوئے اور بقیہ کھجوریں آپ نے خود رغبت کے ساتھ تَنَاوُل فرمائیں۔ ([1])
گھی سے بھرے مشکیزے کا تحفہ
مروی ہے کہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا کے پاس ایک بکری تھی، آپ نے اس کے دودھ سے گھی نکال کر ایک مشکیزے میں جمع کرنا شروع کیا۔ جب وہ بھر گیا تو اسے رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی بارگاہ میں بطور تحفہ بھیج دیا۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے شرفِ قبولیت سے نوازا اور گھی نکلوا کر مشکیزہ واپس بھجوا دیا۔ لانے والے نے اسے گھر میں رکھ دیا۔ جب حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے دیکھا تو وہ لبالب بھرا ہوا تھا اور گھی باہر ٹپک رہا تھا۔ آپ نے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جیسے تم اللہ کے نبی (عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو کھانے پیش کرتی ہو اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی تمہیں کھلاتا ہے، اسے خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ ([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بےشمار اوصاف وکمالات اور فضائل ومناقب کی حامِل جلیل القدر صحابیہ ہیں، خاص طور پر بارگاہِ رسالت میں آپ کو اور آپ کے گھرانے کو جو شرفِ باریابی حاصل تھا اور عنایت وکرم کی جو نسبت انہیں ملی تھی ایسا شرف اور ایسی نسبت بہت کم افراد کو ملی ہے چنانچہ حضرت علّامہ شیخ مُلَّا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی ان کے شوہر حضرت سیِّدنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ذِکْر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ان کے اَہْلِ خانہ کو تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں جو زائد خُصُوصیت اور محبت کی نسبت حاصل تھی وہ کسی اور انصاری صحابی بلکہ بہت سارے مُہَاجِرِیْنِ ابرار کو بھی حاصِل نہ ہو سکی۔ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی تھے جنہوں نے (حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دنیا سے پردۂ ظاہِری فرمانے کے بعد) قبر مُبَارَک تیار کر کے اس میں لحد بنائی اور اس میں مٹی کی کچی اینٹیں لگائیں اور آپ ہی تھے جنہیں سیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی پیاری شہزادی حضرت اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی تدفین کے لئے خاص فرمایا حالانکہ ان کے شوہر حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی وہیں موجود تھے۔ ([3])
پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ان پر خاص لطف وعنایت میں سے یہ بات بھی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیشتر اوقات ان کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ بخاری شریف میں حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ نبیِّ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا گزر جب حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے قریب سے ہوتا تو آپ ان کے گھر تشریف لا کر سلام فرماتے۔ ([4])
یہ بھی مروی ہے کہ سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، خَاتَمُ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ شریف میں حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور اپنی ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے سِوا اور کسی کے گھر (کثرت سے) تشریف نہیں لے جاتے تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس بارے میں (یعنی حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر کثرت سے تشریف لے جانے کے بارے میں) پوچھا گیا تو فرمایا کہ مجھے اس پر ترس آتا ہے کیونکہ اس کا بھائی شہید ہو گیا ہے ([5]) جو میرے ساتھ تھا (یعنی میری اطاعت میں تھا) ۔ ([6])
موئے مُبَارَک کا تحفہ
رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ان پر لطف وعنایت کا ایک یہ منظر بھی دیکھئے کہ (حجۃ الوداع کے موقعے پر) جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سرِ اقدس کا حَلْق کروایا، پہلے دائیں جانب کے موئے مبارک اتروائے اور ارد گرد موجود صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں (ایک ایک دو دو کر کے) بانٹ دئیے پھر بائیں جانب کے موئے مُبَارَک اتروائے اور وہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو عطا فرما دئیے۔ ([7])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع