دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan-e-Bibi Umme Sulaim رضی اللہ تعالی عنھا | فیضان بی بی ام سلیم (رضی اللہ تعالی عنھا)

book_icon
فیضان بی بی ام سلیم (رضی اللہ تعالی عنھا)

شرف بخشا ان کا بھی ادب واحترام کیا جائے اور جن جگہوں میں آپ نے قیام فرمایا اور وہ ساری چیزیں کہ جن کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مس فرمایا  (یعنی چھوا)  یا جو آپ کی طرف منسوب ہونے کی شہرت رکھتی ہیں ان سب کی تعظیم وتکریم کی جائے۔“ ([1])  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

کیا تبرکات کی   تعظیمکے لئے یقینی ثبوت درکار ہے؟

یہاں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ تبرکاتِ مقدسہ کی تعظیم کے لئے کسی یقینی قطعی ثبوت کی حاجت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے فقط یہی کافی ہوتا ہے کہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نام پاک سے معروف اور مشہور ہوں جیسا کہ ابھی شِفا شریف کی عبارت گزری اس میں واضح لفظوں میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جو چیزیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف منسوب ہونے کی شہرت رکھتی ہیں ان سب کی تعظیم وتکریم کی جائے۔ آئیے!  اس سے متعلق اعلیٰ حضرت، اِمام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا کلام مُلَاحظہ کیجئے، آپ فرماتے ہیں کہ ایسی جگہ ثبوتِ یقینی یا سَنَدِ مُحَدِّثانہ کی اصلاً حاجت نہیں، اس کی تحقیق وتنقیح کے پیچھے پڑنا اور بغیر اس کے تعظیم وتبرُّک سے باز رہنا سخت محرومی کم نصیبی ہے، ائمہ دین نے صرف حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے نام سے اس شے کا معروف ہونا کافی سمجھا ہے۔ ([2])  مزید فرماتے ہیں کہ تعظیم کے لئے نہ یقین درکار ہے نہ کوئی خاص سند بلکہ صرف نامِ پاک سے اس شے کا اشتہار  (مشہور ہونا)  کافی ہے، ایسی جگہ بے اِدْرَاکِ سَنَد تعظیم سے باز نہ رہے گا مگر بیمار دل، پُر آزار دل جس میں نہ عظمتِ شانِ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم بَروَجْہِ کافی نہ ایمان کامِل۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:

وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْؕ-  (پ٢٤، المؤمن:٢٨)

 اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اس پر اور اگر سچا ہے تو تمہیں پہنچ جائیں گے بعض وہ عذاب جن کا وہ تمہیں وعدہ دیتا ہے۔

اور خصوصاً جہاں سند بھی موجود ہو پھر تو تعظیم واِعْزَاز وتکریم سے باز نہیں رہ سکتا مگر کوئی کھلا کافِر یا چُھپا مُنَافِق، وَالْعِیَاذُ بِاللہِ تَعَالٰی۔ اور یہ کہنا کہ آج کل اکثر لوگ مصنوعی تبرُّکات لئے پھرتے ہیں مگر یوہیں مجمل بِلاتعیینِ شخص ہو یعنی کسی شخصِ مُعَیَّن پر اس کی وجہ سے اِلْزَام یا بدگمانی مقصود نہ ہو تو اس میں کچھ گناہ نہیں اور بِلاثبوت شرعی کسی خاص شخص کی نسبت حکم لگا دینا کہ یہ انہیں میں سے ہے جو مصنوعی تبرُّکات لئے پھرتے ہیں، ناجائز وگناہ وحرام ہے کہ اس کا منشا صرف بدگمانی ہے اور بدگمانی سے بڑھ کر کوئی جھوٹی بات نہیں۔ ([3])  

بارگاہِ رسالت میں         تحائف پیش کرنے کا سلسلہ

پیاری پیاری اسلامی بہنو!  حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے رگ وریشہ میں جس طرح رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت سرایت کی ہوئی تھی اس کا اظہار آپ کے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں تحفے اور ہدایا نذر کرنے سے بھی ہوتا ہے، یہاں اس تَعَلُّق سے آپ کے چند واقعات پیش کئے جاتے ہیں چنانچہ

بیٹے کو خدمت گزاری کے لئے پیش کرنا

آپ ہی کے جگر پارے حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ جب رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم  (ہجرت فرما کر)  مدینہ طَیِّبہ تشریف لائے تو میری ماں میرا ہاتھ پکڑے حُضُورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی خدمت میں حاضِر ہوئیں اور عرض کیا: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم!  انصار میں سے کوئی مرد وعورت باقی نہیں رہا جس نے آپ کی بارگاہ میں تحفہ نہ پیش کیا ہو،  میرے پاس بارگاہِ اقدس میں پیش کرنے لائق کوئی شے نہیں البتہ یہ میرا بیٹا ہے، اسے قبول فرما لیجئے، یہ آپ کے مُعَامَلات میں خدمت کیا کرے گا۔ ([4])  سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں قبول فرما لیا اور یہ حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دنیا سے پردۂ ظاہِری فرمانے تک خدمت گزاری کا شَرَف حاصِل کرتے رہے۔

جو شریف کی روٹیوں کا تحفہ

حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا: میں نے رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آواز سنی ہے جس میں ضعف محسوس ہوتا ہے، میرے خیال میں یہ بھوک کی وجہ سے ہے، کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟  حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اِثْبَات  (یعنی ہاں)  میں جواب دیا اور چند جو کی روٹیاں نِکال لائیں، پھر اپنا ایک دوپٹہ نِکالا اور اس کے ایک پلے میں روٹیاں لپیٹ دیں پھر روٹیاں میرے  (یعنی حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے)  سپرد کر کے باقی دوپٹہ میرے سر پر لپیٹ دیا اور مجھے رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس بھیج دیا۔ میں روٹیاں لے کر گیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مسجد میں پایا، آپ کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے۔ میں ان کے پاس کھڑا ہو گیا تو رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟  عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: کھانا دے کر؟  پھر عرض کیا: جی ہاں۔ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان لوگوں سے فرمایا جو آپ کے ساتھ تھے: اُٹھو!  پھر آپ چل پڑے۔  میں ان سے آگے چل دیا اور حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے



[1]    شفا، القسم الثانى، الباب الثالث، فصل و من اعظامه واكباره، الجزء الثانى، ص٤٧.

[2]   فتاویٰ رضویہ، ۲۱ / ۴۱۲.

[3]   فتاویٰ رضویہ، ۲۱ / ۴۱۵.

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن