دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan-e-Bibi Umme Sulaim رضی اللہ تعالی عنھا | فیضان بی بی ام سلیم (رضی اللہ تعالی عنھا)

book_icon
فیضان بی بی ام سلیم (رضی اللہ تعالی عنھا)

بن کر رہے۔ حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بڑے اچھے تیر انداز تھے اور ان کی کمان کی تانت ([1])  بڑی سخت تھی۔ اس روز ان کی دو۲ یا تین۳ کمانیں ٹوٹی تھیں۔ جب کوئی شخص ترکش لے کر ادھر سے گزرتا تو رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے: تیروں کو ابوطلحہ کے آگے ڈال دو۔ ایک مرتبہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سر اونچا کر کے مُعَاینہ فرمانے لگے تو حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عرض گُزَار ہوئے: اے اللہ کے نبی!  میرے ماں باپ آپ پر قربان، سر اونچا کر کے نہ دیکھئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کافِروں کا کوئی تیر آپ کو لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینے کے آگے  (ڈھال)  ہے۔

اور میں نے اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ اور حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو دیکھا کہ دونوں نے اپنے پائنچے کچھ اوپر کئے ہوئے تھے جس سے پاؤں کے زیور نظر آتے تھے اور اپنی پیٹھ پر مشکیں لاد کر لا رہی تھیں اور پیاسے مسلمانوں کو پانی پِلانے میں مصروف تھیں پھر واپس جانا اور پانی لے کر آنا، یہی ان کا معمول رہا۔ ([2])  

غزوہ حُنَین میں شرکت

اسی طرح غزوۂ حنین میں بھی آپ کے شریک ہونے کا ذِکْر ملتا ہے، اس میں آپ ایک اونٹ پر سوار تھیں اور اپنے پاس خنجر رکھا ہوا تھا جیسا کہ آپ ہی کے شہزادے حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جنگ حنین کے دن ایک خنجر لیا جو ان کے پاس تھا، حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے وہ خنجر دیکھ لیا، انہوں نے کہا: یَارَسُولَ اللہ!  یہ اُمِّ سُلَیْم ہیں اور ان کے پاس ایک خنجر ہے۔ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے دَرْیَافت فرمایا کہ یہ خنجر کیسا ہے؟  حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کیا: میں نے یہ خنجر اس لئے لیا ہے کہ اگر کوئی مُشْرِک میرے قریب آیا تو میں اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔ اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسکرانے لگے۔ ([3])  

رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم  سے محبّت وعقیدت

محبتِ رسول ایمان کی جان ہے، اس کے بغیر ایمان کا مکمل ہونا اتنا ہی دشوار ہے جتنا بغیر روح کے جسم کا زندہ ہونا، بلاشبہ جس دل میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے عشق کی شمع فروزاں نہ ہو وہ لاکھ ایمان کے دعوے کرے کبھی سچا  پکا مؤمن ہرگز نہیں ہو سکتا، نہ ایمان کی حلاوت پا سکتا ہے۔بخاری شریف کی حدیثِ طَیِّبہ ہے کہ رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَ وَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْن یعنی تم میں سے کوئی اس وَقْت تک مومن نہیں ہو سکتاجب تک اس کے والِدَین، اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر میں اس کا محبوب نہ ہو جاؤں۔“ ([4])  اسی لیے کسی نے کیا خوب کہا ہے:

؎       محمد کی محبت دینِ حق کی شرطِ اوّل ہے

اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

پیاری پیاری اسلامی بہنو!  صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان محبتِ رسول کے سب سے بلند مقام پر فائز تھے اور حقیقت میں سرکارِ رِسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم انہیں اپنے والِدَین، اولاد، مال، جان، عزت وآبرو غرض ہر شے سے بڑھ کر محبوب تھے جس کا واضح ثبوت انہوں نے اپنے عمل اور کردار سے پیش کیا؛ ہجرت کا کٹھن موقع ہو یا بدر وحنین  کی آزمائشیں، تبلیغِ دین کی خاطر مال و جان کی ضرورت پیش آئی ہو یا کفارِ بد اطوار نے ظلم وستم کے پہاڑ توڑ ڈالے ہوں، کبھی ان فدایانِ رسول کے حوصلے پست نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ اپنا سب کچھ اپنے آقائے کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدموں پر قربان کر دیتے اور زبان حال سے گویا یوں کہہ رہے ہوتے :

؎  مِرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رحمتِ عالَم

میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کے لئے

ان کی محبتِ رسول کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ وہ چیزیں جنہیں پیارے کریم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذاتِ والا سے کچھ تعلق اور نسبت ہوتی ان کی تعظیم وتوقیر اور ادب واحترام بھی یہ اپنے اوپر لازِم جانتے تھے، اسلام کی روشن وتابناک تاریخ ان حضرات کے ایسے عشق ومحبت سے لبریز جذبات اور واقعات سے بھری ہوئی ہے لیکن یہاں موضوع کی مُنَاسَبَت سے فقط حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی حیاتِ مُبَارَکہ کے چند واقعات بیان کیے جاتے ہیں، مُلَاحظہ کیجئے: 

(۱) ..حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کےنماز  پڑھنے کی  جگہ                           سے تبرک

حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ  سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میری والِدہ حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے گھر تشریف لا کر نماز ادا فرمانے کی درخواست کی تا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نماز ادا فرمانے کی جگہ کو مصلّی بنا لیں  (اور آیندہ حُصُولِ برکت کے لئے گھر والے وہیں نماز ادا کیا کریں) ۔ آپ صَلَّی اللہُ



[1]    ایک قسم کا دھاگہ جو کمان کے دونوں کناروں پر باندھ کر تیر چلانے کے کام آتا ہے۔

[2]   بخارى، كتاب مناقب الانصار، باب مناقب ابى طلحة، ص٩٦٠، حديث:٣٨١١.

[3]   مسلم، كتاب الجهاد والسير، باب غزوة النساء مع الرجال، ص٧٢٤، حديث: ١٨٠٩.

[4]   بخاری، كتاب بدء الايمان، باب حب الرسول صلى الله عليه وسلم من الايمان، ص٧٤، حديث:١٥

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن