دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan-e-Bibi Umme Sulaim رضی اللہ تعالی عنھا | فیضان بی بی ام سلیم (رضی اللہ تعالی عنھا)

book_icon
فیضان بی بی ام سلیم (رضی اللہ تعالی عنھا)

؎       مالکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں

دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (۲) ... صبر وتحمل

مصیبت اور آزمائش کے موقعے پر صبر کرنا اور ہمیشہ رضائے الٰہی میں راضی رہنا وہ بہترین وَصْف ہے جسے خدا کے مقبول بندوں نے اختیار کیا اور کبھی کسی بڑی سے بڑی آزمائش سے گھبرا کر زبان پر حرفِ شکایت نہیں لائے اور نہ کبھی دل میں ہی اسے جگہ دی۔ اس حوالے سے حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا کردار بھی مثالی ہے۔ آپ نے ہمیشہ ہر مُعَامَلے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کو مُقَدَّم رکھا۔ غور کیجئے!  جب آپ نے اسلام قبول کیا اور اس پر آپ کو شوہر کی شدید مُخَالَفَت کا سامنا کرنا پڑا اور جب آپ کے ننھے مدنی منّے حضرت ابوعمیر بن ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا انتقال ہو گیا، یہ آپ کے لئے کتنے پُر آزمائش موقعے تھے لیکن آپ کمال ضبط کا مُظَاہَرہ کرتے ہوئے ایسے تمام واقعات پر صابِر رہیں اور ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کی رضا میں راضی رہتے ہوئے اس کی شکر گزار بندی بنی رہیں۔ اللہ رَبُّ الْعِزّت کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بےحساب مغفرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 (۳) ... علم وحکمت

علمی فضل وکمال اور حکمت ودانائی کے اعتبار سے بھی آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے، اس کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ آپ سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحرمہ ہیں اور پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کثرت کے ساتھ آپ کے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ جس سے آپ کو پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اِکتسابِ عِلْم  (یعنی عِلْم حاصِل کرنے)  کے بہت مَوَاقِع میسر آئے اور آپ کی علمی بلندیوں میں روز بہ روز اِضَافہ ہوتا گیا حتی کہ آپ کا شمار ان جلیل القدر صحابیات طَیِّبات میں ہوتا ہے جو عِلْم وفضل اور حکمت ودانائی میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ علّامہ جَمَالُ الدِّین یُوسُف بن عَبْدُ الرَّحمٰن کلبی عَلَیۡہِ رَحۡمَۃُ اللہِ الۡقَوِیۡ آپ کے اس وَصْف کا ذِکْر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”کَانَتْ مِنْ عُقَلَاءِ النِّسَاءِ وَفُضَلَائِھِنَّ یعنی حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا دانش مند اور صاحب فضل وکمال عورتوں میں سے تھیں۔“ ([1])  آپ کے شوقِ عِلْمِ دین اور احکامِ شریعت سیکھنے کی لگن کااندازہ مزید اس بات سے لگائیے کہ ایک بار آپ نے سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مسئلہ دریافت کیا جس پر اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں کچھ سرزنش کی تو جواب دیا: ”اِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ وَاِنَّا اِنْ نَسْأَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَمَّا اَشْكَلَ عَلَيْنَا خَيْرٌ مِنْ اَنْ نَّـكُونَ مِنْهُ عَلَى عَمْيَاءَ یعنی بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ حق بیان فرمانے سے نہیں شرماتا، بےشک ہمیں جو اشکال پیش آئے  اس کے متعلق نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم سے دَرْیَافت کر لینا لاعِلْم رہنے سے بہتر ہے۔“ ([2])  

یقیناً عِلْمِ دین سیکھنا اور جو مسئلہ نہ معلوم ہو اسے عِلْم والوں سے پوچھ لینا لاعِلْم رہنے سے بہتر ہے۔ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سیرت سے ہمیں اس بارے میں رہنمائی ملتی ہے۔ اے کاش!  ان کے صدقے ہمیں بھی عِلْم حاصل کرنے کا جذبہ اور شوق نصیب ہو جائے۔

   ؎    زندگی ہو مِری پروانے کی صورت يا ربّ!

علم  کی  شمع  سے  ہو  مجھ  کو  محبت  يا  ربّ!  ([3])

 (۴) ...شجاعت وبہادری

شجاعت بھی ایک عمدہ وَصْف ہے اور بہت سارے خَصَائِلِ حمیدہ کا سرچشمہ ہے۔ حضرت اُمِّ  سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اس وَصْف میں بھی امتیازی شان کی حامِل تھیں، آپ نے متعدد غزوات میں شریک ہو کر پانی پلانے، زخمیوں کا علاج کرنے اور مختلف طرح کے اُمُور سرانجام دئیے۔ مسلم شریف میں حضرت سیِّدنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوَایت ہے کہ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت اُمِّ  سُلَیْم اور کچھ انصاری بیبیوں کو لے کر جہاد فرماتے تھے جب آپ جہاد کرتے تو یہ بیبیاں پانی پلاتیں اور زخمیوں کا علاج کرتیں۔ ([4])  

غزوۂ اُحُد میں شر       کت

حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا غزوۂ اُحُد میں بھی شریک ہوئی ہیں، اس غزوے میں آپ اور آپ کے شوہر حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمات بہت نمایاں ہے چنانچہ حضرت اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ غزوۂ اُحُد میں جب لوگ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو چھوڑ کر دُور نکل گئے تھے تو حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کے لیے ڈھال کی طرح



[1]   تهذيب الكمال، کتاب النساء، باب الكنى من  كتاب النساء، ام سليم بنت ملحان، ٣٥ / ٣٦٥.

[2]   مسند امام احمد، مسند النساء، حديث ام سليم رضى  الله عنها، ١١ / ١٩٥، حديث:٢٧٨٧٩.

[3]   کلیات اقبال، بانگ درا، حصَّہ اوَّل، بچے کی دعا، ص۶۵.

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن