30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
پیاری پیاری اسلامی بہنو! حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی پاکیزہ زندگی اعلیٰ اوصاف وکمالات اور بےشمار اخلاقی خوبیوں کی جامع ہے۔ اسلام قبول کرنے سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک آپ نے ہمیشہ اسلامی تعلیمات کو حرزِ جاں (جان سے زیادہ عزیز) بنائے رکھا اور اپنے قول، فعل اور کردار سے لوگوں کو اِتباعِ سنّت کا درس دیا۔ ایک اسلامی بہن کو بطور ماں کیسا ہونا چاہئے...بطور بیوی اسے کیسا رَوَیَّہ اپنانا چاہئے...اسی طرح اور رشتوں کے اعتبار سے اسے کیسا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہئے...اس کے لئے آپ کی سیرت سے بہت راہ نما مدنی پھول چننے کو ملتے ہیں۔ جنہیں اپنے اوپر نافذ کر کے اسلامی بہن دین ودنیا میں فلاح وکامرانی سے ہم کنار ہو سکتی ہے۔ یہاں آپ کے چند ایسے ہی اوصاف وکمالات ذِکْر کیے جاتے ہیں، مُلَاحظہ کیجئے:
(۱) ...ایثار
ایثار سخاوت کی بہت اعلیٰ قسم ہے۔ اپنی خواہش و حاجت کو روک کر دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے کو ایثار کہتے ہیں۔ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا میں یہ وَصْف بدرجۂکمال موجود تھا جیسا کہ حضرت سیِّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی اس روایت سے ظاہِر ہوتا ہے کہ ایک شخص سروَرِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضِر ہوا اور عرض کیا: میں بھوکا ہوں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی کسی زوجۂ مطہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس کسی کو بھیج کر معلوم کیا۔ انہوں نے عرض کیا: اس کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہمارے پاس پانی کے سِوا کچھ نہیں پھر دوسری کے پاس بھیجا، انہوں نے بھی اسی طرح کہااور سب نے اسی طرح کہا۔ تب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) سے فرمایا: اسے کون مہمان بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے؟ انصار میں سے ایک صحابی جنہیں ابوطلحہ کہا جا تا تھا انہوں نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یَارَسُولَ اللہ! میں حاضِر ہوں، چنانچہ وہ انہیں اپنے گھر لے گئے اور بچوں کی امّی سے دریافت کیا: تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: بچوں کی خوراک کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ فرمایا: تم بچوں کو کسی چیز سے بہلا پھسلا کر سُلا دینا، جب ہمارا مہمان (کھانے کے لئے) آئے تو انہیں دِکھانا کہ ہم کھا رہے ہیں، جب وہ اپنا ہاتھ کھانے کے لئے بڑھائے تو تم چراغ کی طرف ٹھیک کرنے کے بہانے کھڑی ہونا اور اسے بجھا دینا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا: یہ سب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھا لیا، انہوں نے بھوکے رہ کر رات گزاری، جب صبح ہوئی حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ فلاں مرد اور عورت سے راضی ہوا۔ ([1]) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے فرمایا: تمہارے رات کے عمل سے اللہ عَزَّوَجَلَّ بہت خوش ہے اور اس نے یہ آیت اتاری ہے: ([2])
وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ (۹) (پ٢٨، الحشر:٩)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! ...پیاری پیاری اسلامی بہنو! اس مدنی حکایت سے حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور آپ کے شوہر نامدار حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ایثار کا وَصْف بہت نمایاں طور پر مَعْلُوم ہوتا ہے کہ باوجود شدید حاجت کے کھانا خود تَنَاوُل نہ فرمایا بلکہ مہمان کے لئے ایثار کر دیا اور خود بھوکے رہ کر رات گزاری۔ اس حکایت میں اسلامی بہنوں کے لئے جہاں ایثار کا درس پایا جاتا ہے وہیں شوہر کی اِطَاعَت وفرمانبرداری اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں اس کی مدد کرنے کا سبق بھی موجود ہے کہ اس قدر عسرت (تنگ دستی) کے موقعے پر جب حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مہمان کو گھر لے آئے تو مہمان کو دیکھ کر حضرت اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی پیشانی پر شکن (یعنی بَل) نہیں پڑے نہ انہوں نے کسی قسم کی ناراضی کا اِظْہَار فرمایا بلکہ کشادہ روئی کے ساتھ مہمان کی مہمان نوازی اور خاطِر مدارات کی۔
قاسِمِ نعمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کی سادگی
اسی سے پیارے آقا،مکّی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سادگی اور قناعت پسندی کے بارے میں بھی معلوم ہوا، غورکیجئے! جس در سے دو جہاں کی نعمتیں تقسیم ہو رہی ہیں، قدرت کے خزانوں کی کنجیاں جن کے قبضہ واختیار میں ہیں، ساری دنیا جن کے لنگر سے پل رہی ہے، ان کی سادگی اور قناعت پسندی کا عالَم کیا ہے کہ کسی زوجۂ مطہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر سے رات کو کھانا برآمد نہ ہوا کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تَوَکُّل کا عالَم یہ تھا کہ دوسرے دن کے لئے کھانا بچا کر نہ رکھتے تھے۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا فرماتی ہیں: ”رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (اور ہم) نے کبھی بھی مسلسل تین۳ دن تک پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا حالانکہ اگر ہم چاہتے تو کھا سکتے تھے مگر (کھانے کے بجائے) ایثار کر دیا کرتے تھے۔“ ([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع