30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم سے جَرَاد كے بارے میں پوچھا گیا۔ ارشاد فرمایا: یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بہت بڑا لشکر ہے نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام قرار دیتا ہوں۔ ( 1 )
شوقِ عِبَادت
حضرت سیِّدتُنا مریَم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا کے بےشُمار فضائل ومناقب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ خوب محنت اور شوق کے ساتھ عِبَادتِ الٰہی میں مصروف رہتی تھیں۔ چنانچہ کہا گیا ہے کہ حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بیت المقدس میں آپ کے لیے جو کمرہ بنایا تھا آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا بیت المقدس کی خدمت کے حوالے سے اپنی ذِمّہ داریاں پوری کرتیں اور اس کے بعد دن رات اس کمرے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادت کرتی رہتیں حتّی کہ بنی اسرائیل میں آپ کی عِبَادت ضَرْبُ المثل (کہاوت) کے طور پر مشہور ہو گئی۔ ( 2 )
نماز میں کوشش
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا کے شوقِ عِبَادت کے حوالے سے یہ بات بھی ہے کہ ایک بار فرشتوں نے انہیں اس بات کی خوش خبری سنائی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں تمام جہان کی عورتوں سے چُن لیا ہے اور انہیں اپنی پسندیدہ بندی بنایا ہے اور پھر انہیں عِبَادت میں کوشش کرنے کا کہا، قرآنِ کریم میں ہے:
وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ (۴۲) یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب فرشتوں نے کہا اے مریَم بے شک اللہ نے تجھے چُن لیا اور خوب ستھرا کیا اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا اے مریَم اپنے ربّ کے حُضُور
[1] ابن ماجة،كتاب الصيد، باب صيد الحيتان والجراد، ص٥٢٥، الحديث: ٣٢١٩.
[2] البداية والنهاية، قصة عيسی ابن مريم،المجلد الاول، ٢ / ٤٤٢.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع