30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے اِرشاد فرمایا: مریَم بنتِ عِمران ( رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہمَا ) نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے سُوال کیا کہ انہیں ایسا گوشت کِھلائے جس میں خون نہ ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں جَرَاد کِھلائی۔ اس پر انہوں نے دعا کی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اسے بغیر دودھ کے زندہ رکھ اور اسے بغیر آواز کے ایک دوسرے کے پیچھے لگا دے۔ ( 1 )
جَرَاد کیا ہے؟
جَرَاد ایک قسم کا پَروں والا کیڑا ہے جو دَرَخْتوں اور فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اسے ٹڈی بھی کہا جاتا ہے۔ حَیَاتُ الْحیَوَان میں ہے کہ اس ٹڈی کی چھ ۶ ٹانگیں ہوتی ہیں ان میں سے دو ۲ ہاتھ سینے پر، دو ۲ ٹانگیں درمیان میں سیدھی کھڑی ہوتی ہیں اور دو ۲ آخر میں ہوتی ہیں۔ اس کی پچھلی دو ۲ ٹانگوں کے اَطراف میں آری کی طرح دندانے ہوتے ہیں۔ یہ ان جانوروں میں سے ہے جو اپنے سردار کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور ایک لشکر کی طرح جمع ہو جاتے ہیں، جب ان میں سے پہلا کسی طرف کوچ کرتا ہے تو سب اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں اور جب پہلا کسی جگہ اترتا ہے تو سب اتر پڑتے ہیں۔ اس کا لُعَاب نباتات کے لیے زَہْرِ قاتِل ہے، جس حصّے پر بھی پڑتا ہے تباہ کر دیتا ہے۔ ( 2 )
ٹڈی کھانے کے بارے میں حکم شرعی
یہ حلال جانور ہے۔ ( 3 ) لیکن پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے اس کے کھانے سے اجتناب فرمایا ہے، چنانچہ حضرت سیِّدنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوَایَت ہے،
[1] السنن الكبرى للبيهقى، كتاب الصيد و الذبائح، باب ماجاء فی اَكْل الجراد، ٩ / ٤٨٠، الحديث: ١٩٠٠٠.
[2] حياة الحيوان الكبرىٰ، باب الجيم، الجراد، ١ / ٢٦٩.
[3] بہارِ شریعت، متفرقات،حصہ۱۶، ۳ / ۶۵۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع