30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شیطان کے چھونے سے محفوظ رہے) ۔ ( 1 )
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس حدیث شریف سے ان کی بہت بڑی فضیلت مَعْلُوم ہوئی۔ خیال رہے کہ ہمارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم بھی شیطان کے چُھونے سے مَحْفوظ رہے بلکہ حضرت عکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رِوَایَت سے پتا چلتا ہے کہ شیطان کو اس موقع پر نہایت ذِلّت اور رُسْوائی بھی اُٹھانی پڑی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ جب سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، رَحْمَةٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی وِلادَتِ باسعادت ہوئی تو ساری زمین نور سے مُنَوَّر ہو گئی اور شیطان نے کہا: آج رات ایک ایسا فرزند پیدا ہوا ہے جو ہمارے کاموں کو خراب کر دے گا۔ (یعنی ہم نے کوششیں کر کے لوگوں میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے ان کے ہِدَایَت فرمانے سے وہ بگاڑ ختم ہو جائے گا اور لوگ راہِ راست پر آ جائیں گے اس طرح ہماری ساری کوششوں پر پانی پِھر جائے گا) اس پر اس کی ذُرِّیات نے کہا کہ جب تُو اس کے پاس جائے تَو ( مَعَاذَ الله ) اس کے فہم ودانش کو متاثر اور خراب کر دینا۔ چنانچہ وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کے قریب ہونے ہی والا تھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بھیجا، انہوں نے اس لعین کو ایسی ٹھوکر ماری کہ وہ عدن (Aden) ( 2 ) میں جا کر گرا۔ ( 3 )
بغیر خون والا گوشت کھانے کی خواہش
حضرتِ سیِّدنا ابوامامہ باہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنۡہُ فرماتے ہیں کہ سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ
[1] بخارى، كتاب احاديث الانبياء، باب قول الله تعالى: واذكر فى الكتاب مريم الخ، ص٨٨١، الحديث: ٣٤٣١.
[2] یہ بحر ہند (Indian Ocean) کے ساحِل پر واقع ملکِ یمن (Yemen) کا ایک شہر ہے۔[معجم البلدان، باب العين و الدال و ما يليها، ٤ / ١٠٠]یہاں سےمکۃ المکرمہ تک كا فاصِلہ ایک ماہ کی مسافت ہے۔[مسالك الممالك للكرخى،ديار العرب، ص٢٨]
[3] الخصائص الكبرىٰ، باب ما ظهر فى ليلة مولده صلى الله عليه وسلم الخ، ١ / ٨٦.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع