30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان ظالموں نے کچھ تَحائف کے ساتھ اپنے دو۲ آدمی بادشاہِ حبشہ کے دربار میں بھیجے تا کہ انہیں واپس مکہ میں لا کر دوبارہ ان پر جور وسِتَم کا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔ جب یہ بادشاہ کے دربار میں پہنچے، تَحائف پیش کیے اور دَسْتُور کے مطابق بادشاہ کو سجدہ کرنے کے بعد اصل مُدّعا پیش کیا تو بادشاہ نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور کہا: یہ مُنَاسِب نہیں ہے کہ جس قوم نے ہمارے ملک میں پناہ لی ہے اسے ہم ان کے دُشمنوں کے حوالے کر دیں۔ اس کے بعد حکم دیا کہ مسلمانوں کو بُلایا جائے تاکہ وہ خود بات کریں اور اپنے دین وملّت کا اِظْہَار کریں۔ چنانچہ جب مسلمان نجاشی کے دربار میں پہنچے تو انہوں نے سجدۂ تَحِیَّت (سجدۂ تعظیمی) کے بجائے سلام کیا۔ نجاشی کے مُصَاحِبَوں نے پوچھا کہ تم نے سجدہ کیوں نہ کیا۔ اس پر حضرت جعفر طیّار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے جو مُہَاجِرِیْنِ حبشہ میں سے تھے، فرمایا: ہم غیرِ خدا کو سجدہ نہیں کرتے، ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے دین اور اسلامی اَحْکام کی خوب عمدہ طریقہ سے تَرجُمانی فرمائی۔ حضرت جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے کلام سے نجاشی کے دل میں ہیبت طاری ہو گئی۔ اس نے ان سے کہا کہ حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم پر جو کلام نازِل ہوا ہے اس میں سے کچھ تلاوت کرو۔ حضرت جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ نے سورۂ مَریَم کی تِلاوت کی۔ اس پر نجاشی اور پادریوں میں سے جو بھی ان کے پاس تھے سب رونے لگے اور سب نے یک زبان ہو کر کہا: خدا کی قسم! یہ کلام اور جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازِل ہوا دونوں ایک مشکوٰۃ سے نکلے ہیں اور نجاشی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم اللہ کے رسول ہیں اور یہ وہی ہستی ہیں جن کی بِشارت حضرت عیسیٰ بِن مریَم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دی ہے اور فرمایا ہے کہ ان کے بعد وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع