30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پورا واقعہ جو قرآنِ کریم میں بیان ہوا حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا کی پاک دامَنی اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی معجزانہ وِلادت پر دلالت کرتا ہے۔
دعوتِ فکر
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ”یہ اسلام کی وُسْعَتِ قلبی ہے کہ ان بُزُرگ ہستیوں کی پیروی کے دعوے دار بعض لوگ اسلام کو بُرا کہیں اور مَعَاذ الله ! بانِیِ اسلام حُضُور احمدِ مجتبیٰ، مُحَمَّدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کی شان میں انتہائی نازیبا کلمات استعمال کریں مگر اسلام نے ان کے مانے ہوئے بزرگوں کی گواہیاں دیں بلکہ ان کے دامَن سے لوگوں کی تہمتوں کے داغ دھو ڈالے اور ان کے نام دُنیا میں چمکا دئیے۔“ ( 1 ) یہ اسلام کا حقیقی حُسن ہے جس میں انصاف پسند نگاہوں کے لیے غور وفکر کی دعوت ہے۔ آئیے! یہاں ایک ایسے ہی انصاف پسند بادشاہ کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب اس کے سامنے قرآنِ کریم سے سورۂ مَریَم کی وہ آیات تلاوت کی گئی جن میں حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا اور آپ کے فرزند کی فضیلت وبُزُرگی کا بیان ہے تو اس کا دل تسلیمِ حق کے لیے تیار ہو گیا اور وہ دائرہ اسلام میں داخِل ہو کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت ورِضْوان کے سائے میں آ گیا۔یہ ہجرتِ مدینہ سے آٹھ۸ سال پہلے کا واقعہ ہے جب حُضُور رِسالت مآب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیۡہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم کو اِعْلانِ نبوَّت فرمائے چار۴ سال گزر چکے تھے اور پانچواں سال جاری تھا۔ مُشْرِکینِ مکہ کی اَذِیَّتوں سے تنگ آ کر عاشِقانِ رسول کا ایک چھوٹا سا قافلہ وطنِ عزیز مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے حبشہ میں جا کر آباد ہو گیا اور امن وسکون کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگا۔ مُشْرِکین کو یہ بات سخْت ناگوار گزری چنانچہ
[1] تفسیر نعیمی، پ۳، آلِ عمران، تحت الآیۃ:۳۷، ۳ / ۳۸۱، بتغیر.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع