30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب سِوُم:
كرامات اور فضائل كا بَيَان
پیاری پیاری اسلامی بہنو! کراماتِ اولیا حق ہیں۔ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت، بانِیِ دَعْوَتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبِلال محمد الیاس عطّار قادِری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں: زمانۂ نبوّت سے آج تک کبھی بھی اس مسئلے میں اہلِ حق کے درمیان اِخْتِلاف نہیں ہوا، سبھی کا متفقہ عقیدہ ہے کہ صحابۂ کِرَام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اولیائے عِظَام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی کرامتیں حق ہیں اور ہر زمانے میں اللہ والوں کی کرامتوں کا صُدُور وظُہُور ہوتا رہا ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! قیامت تک کبھی بھی اس کا سلسلہ منقطع (مُنْ۔قَ۔طِعْ یعنی ختم) نہیں ہو گا بلکہ ہمیشہ اَوْلِیَاءُ الله رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے کرامات صادِر وظاہِر ہوتی رہیں گی۔ ( 1 )
کرامت کسے کہتے ہیں؟
کرامات جمع ہے کرامت کی۔ صَدْرُ الشریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیۡہِ رَحۡمَۃُ اللہِ الۡقَوِیۡ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: نبی سے جو بات خِلافِ عادت قبلِ نبوّت ظاہِر ہو اس کو اِرْہَاص کہتے ہیں اور ولی سے جو ایسی بات صادِر ہو اس کو کرامت کہتے ہیں۔ ( 2 )
كراماتِ مریم
حضرت مریَم رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا مادر زاد (پیدائشی) وَلیّہ تھیں، آپ رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہَا سے بہت کرامات ظاہِر ہوئیں اور کرامات کایہ سلسلہ آپ کے عہدِ شیر خواری (دودھ پینے کی عُمْر)
[1] کراماتِ فاروقِ اعظم، ص۸۔
[2] بہارِ شریعت،حصہ اول، عقائد متعلقہ نبوت، ۱ / ۵۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع