30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی برکت سے میرے دل میں اسلام سے محبت کی شمع روشن ہونے لگی بالآخر میں نے مسلمان ہونے کا پختہ ارداہ کر لیا۔ دوسرے دن جب وہ مبلغہ تشریف لائیں تو میں نے ان سے وفورِ شوق میں بےقرار ہو کر کہا: آپ کے پاکیزہ کِردار اور روشن گفتار نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ اسلام ایسا پیارا دین ہے ،میں نے سوچا بھی نہ تھا۔اس کی روشن تعلیمات کا کھلی آنکھوں سے مُشَاہَدہ کر چکی ہوں۔اس کے بعد میں نے مسلمان ہونے کی خواہش کا اظہار کیا انہوں نے فوراً مجھے توبہ کروا کر کلمہ پڑھادیا : لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ یہ دیکھ کر وہاں موجود دیگر اسلامی بہنیں اشک بار ہو گئیں اور مجھے گلے مِل مِل کر مسلمان ہونے کی خوشی میں مُبَارَک باد دینے لگیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! میں نے دعوتِ اسلامی کے پاکیزہ مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو کر اسلامی تعلیمات پر عمل کی کوشش شروع کر دی اور شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلہ قادریہ عطّاریہ میں داخِل ہو کر ”عطّاریہ“ بھی بن گئی۔اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے اپنے شوہر پر اِنفرادی کوشش شروع کر دی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! دو ماہ بعد وہ بھی جَمَادِیُ الثَّانِی ۱۴۲۷ھ میں سایۂ اسلام میں آ گئے۔
؎ تُو نے اسلام دیا تُو نے جماعَت میں لیا
تَو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ تیرا ( 1 )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
[1] 25کرسچن قیدیوں اور پادری کا قبولِ اسلام، ص۱۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع